Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak
Facebook
Twitter
Youtube
Rss
Breaking
News
Views
Videos
Sports
Religion
literature
Job
Education
International
Menu
Breaking
News
Views
Videos
Sports
Religion
literature
Job
Education
International
June 14, 2026
Prev
Previous
*نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *جامع مسجد سجور اور مسجد ابوبکر صدیق جواکھر میں ممتاز عالم دین مولانا سرفراز احمد قاسمی کا خطاب* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھاگلپور 14 جون (پریس ریلیز) آج مسلمان پریشان ہے،در در کی ٹھوکریں کھارہاہے،مشکلات کا شکار ہے،چاروں جانب مسائل سے گھرا ہوا ہے ،ارد گرد مسائل کا انبار ہے،مسلمان ان سے نجات حاصل کرنے اور انکے حل کے لئے سرگرداں ہے،ہم نجات کی تلاش میں ہیں،چھٹکارے اور نجات کے راستے تلاش کر رہے ہیں لیکن نجات کی راہیں کیا ہیں؟یہ کہاں ملے گی؟نجات کا حصول کیسے ہوگا؟ اسکا طریقہ کار کیاہو؟ قرآن وشریعت میں یہ ساری رہنمائی اور اسکا حل پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے،سوال یہ ہے کہ پھر ہم اسلامی تعلیمات اور قرآنی ہدایات کو چھوڑکر دوسری طرف نجات کیوں تلاش کررہے ہیں؟ان خیالات کا اظہار ملک کے ممتاز عالم دین اور معروف صحافی مولانا سرفراز احمد قاسمی جنرل سکریٹری کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک حیدرآباد نے اپنے خطاب کے دوران کیا،وہ جامع مسجد سجور اور مسجد ابوبکر صدیق میں اجتماع سے خطاب کررہے تھے،انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی جس انداز میں تربیت اور ان کی اصلاح فرمائی،اس کی مثال تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی،یہ صرف اسلام ہی خصوصیت ہے،اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے تربیت اور ٹریننگ کے بعد صحابہ کی ایسی جماعت تیار کی جو زندگی کے ہر شعبے اور موڑ پر رہنما اور قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے،ایک حدیث کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ حضرت عقبہ ابن عامر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ نجات کس میں ہے؟ نجات کے حصول کا طریقہ کیا ہے اور نجات کہاں ملے گی؟مین نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں،ذخیرہ حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کوئی دنیا کا بھی سوال کرتا تو آپ ہمیشہ ایسی تعلیم دیتے جس کی بنیاد پر وہ دین کی طرف مائل ہوجاتا تھا،ایسا نہیں تھا کہ کوئی ہم سے دنیا کا راستہ پوچھے تو دنیا ہی کا راستہ بتاؤں،ایک مرتبہ حضرت حکیم ابن حزام تشریف لائے اورعرض کیا اے اللہ کے رسول! میں غریب ہوں کچھ دے دیجئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عنایت فرمایا،کچھ دنوں کے بعد پھر تشریف لائے، پھر آپ نے عنایت فرمایا، کچھ دنوں کے بعد وہ پھر آئے اور آپ نے عنایت فرمادیا،چوتھی مرتبہ آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تو ضرور لیکن فورا ایک بات ارشاد فرمائی کہ حکیم مال بڑا،ہرا،بھرا اور میٹھا لگتا ہے فرمایا اگر مانگتے رہو گے تو خدا بھی منگواتا ہی رہے گا اس سے بہتر یہ کیوں نہیں کرتے کہ ایک کلہاڑی،رسی لے لو اور نکل جاؤ جنگل کی طرف، لکڑیاں کاٹو،بیچو،دیکھو مانگنے میں بھی ذلت ہے اور اس کاروبار میں بھی ذلت ہے،لیکن مانگنے کی ذلت کے مقابلے میں یہ کم ہے،فوری طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بجائے دنیا کے دین کی طرف مائل کردیا اور اشارہ فرمایا کہ تجارت کرو گے تو برکت بھی ہوگی ذلت سے بھی بچو گے اور مزید بات یہ ہے کہ سنت کے مطابق ہوگا تو تجارت میں ثواب بھی ملے گا،اس طرح فورا آخرت کی طرف مائل کردیا،اس طرح کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں مل سکتی،مولانا قاسمی جو ایک سینئر کالم نگار ہیں نے مزید کہا کہ حضرت عقبہ ابن عامر نے یہ سوال کیا کہ نجات کس میں ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب دیا وہ غور طلب ہے،اگر ہم سے کوئی پوچھتا کہ نجات کس میں ملے گی؟ تو ہم شاید یہی کہتے کہ بینک بیلنس بنا لو،نجات مل جائے گی،پیسہ جمع کرلو نجات مل جائے گی،بہترین قسم کا مکان بنا لو،نجات مل جائے گی،قیمتی گاڑی خریدلو نجات مل جائے گی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا ہے کہ نجات کس چیز میں ملے گی تو اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طریقہ بیان فرمایا یہ وہ طریقے ہیں جو اللہ سے لے کر بیان کیے جا رہے ہیں،آپ نے فرمایا اگر نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے تین طریقے ہیں،یہ تین طریقے اختیار کرلو،تمہیں نجات مل جائے گی اور اللہ تعالی تمہیں نجات عطاکرے گا،پہلا طریقہ یہ ہے کہ اپنی زبان پر قابو رکھو،اسکو کنٹرول میں رکھو،کیونکہ دنیا کے سارے فتنے اسی زبان کی بنیاد پر ہورہے ہیں،اسی زبان نے دنیا میں فتنے کھڑے کئے،شوہر بیوی کے جھگڑے اسی زبان کی بنیاد پر،بھائیوں کے درمیان اختلاف و انتشار اسی زبان کی بنیاد پر،یہ ذراسی ہلتی ہے،بغیر سوچے سمجھے کوئی بات کہہ دیا کرتی ہے،اسکا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ پھر کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوجاتاہے،مولانا نے مزید کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہفتے میں ایک مرتبہ شیطان اپنے چھوٹے چھوٹے شیاطین کو سمندر کی سطح پر جمع کرتا ہے،باقاعدہ اپنا اسٹیج لگاتا ہے اور اپنے تمام چھوٹے چھوٹے شیاطین سے حساب لیتا ہے کہ بتاؤ تم نے کیا کیا؟ ہر شیطان اپنے اعتبار سے اپنا اپنا کام بیان کرتا ہے، کوئی کہتا ہے کہ میں نے نماز چھوڑوائی، کوئی کہتا ہے کہ میں نے روزہ چھڑایا، کوئی کہتا ہے کہ میں نے زکوۃ ادا کرنے سے روکا، کوئی کہتا ہے کہ میں نے جھوٹ بلوایا،کوئی کہتا ہے کہ میں نے جھوٹی گواہی دلوائی، کوئی کچھ کہتا ہے،ہر ایک کو بڑا ابلیس دھتکاردیتا ہے کہ تم لوگوں نے کوئی بڑا کام نہیں کیا،نماز چھڑائی کوئی بڑا کام نہیں کیا،وہ بعد میں قضا کر لے گا،روزہ چھڑا دیا تو کوئی بڑا کام نہیں کیا وہ بعد میں رکھ لے گا،ایک شیطان کھڑا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں نے شوہر بیوی کے درمیان جھگڑا کرادیا،حتی کہ طلاق تک نوبت پہنچائی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بڑا ابلیس اس کو سینے سے لگا لیتاہے،اس کے سر پر اپنا تاج رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں تو نے بہت بڑا کام کیا،یہ زبان کی کرشمہ سازی ہے،یہ ذرا سی ہلی اور ایک بہت بڑا فتنہ وجود میں آگیا،مولانا قاسمی نے کہا کہ نجات کے حصول کےلئے پہلی چیز ہے زبان کو قابومیں رکھنا،اس پر کنٹرول کرنا اور دوسری چیز جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے گھروں کو لازم رکھو،یعنی بغیر ضرورت اپنے گھروں سے باہر نہ نکلو،کیونکہ کہ فتنے منہ کھولے کھڑے ہیں،اگر کوئی گناہ نہ بھی کیا تو کم از کم آنکھوں کی خیانت کا گناہ تو ہو ہی جائے گا،بدنظری کا گناہ تو ہو ہی جائے گا،علماء نے لکھا ہے کہ جب تک انسان اپنے گھروں میں بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے،اس وقت گناہوں کا امکان ہے کہ وہاں گناہوں سے بچارہتا ہے،بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارنا یہ بھی عبادت ہے اور یہ بھی نیکی کا کام ہے تو بغیر ضرورت اپنے گھروں سے نکلنے سے گریز کرنا چاہیے،جب ہم بغیر ضرورت اپنے گھر سے نکلیں گے تو اپنے وقت کو ضائع کرنے والے بنیں گے،ہاں اگر کوئی ضرورت ہے تو شریعت نے گھر سے باہر نکلنے کےلئے بالکل منع نہیں کیا لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ضرورت کی بنیاد پر بازار جانا، گھروں سے باہر نکلنا، محلوں میں جانا اور دوسرے کام کو انجام دینا یہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور ضرورت کی بنیاد پر گھر سے نکلنا چاہیے،اگر کوئی ضرورت نہ ہو تو بغیر ضرورت گھروں سے باہر وقت گزاری کرنا یہ بہرحال فتنے کا سبب ہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ نجات کے حصول کا تیسرا طریقہ اور تیسری چیز اپنے گناہوں پر کثرت کے ساتھ رویا کرو،یہ ایسی نصیحت ہے جو آخرت کو یاد دلانے والی ہے،ہر انسان کو قبر کے اندر جانا ہے، سارے مسائل میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن موت کے باب میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہر قوم موت کو تسلیم کرتی ہے،ہم سبکی زندگیوں میں معاصی ہیں،سوائے انبیاءکرام کے،انبیاء کی ذات معصوم ہوتی ہیں،ان سے کوئی گناہ نہیں ہوسکتا،ہم گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں،اس لئے ہمیں اپنے خطاؤں اور گناہوں پر خوب رونا چاہئے،اللہ کے سامنے گڑگڑانا چاہئے،اپنی عاجزی وانکساری کا اظہار کرنا چاہئے۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم اوپر کی ان تین چیزوں پر پابندی کے ساتھ عمل کر لیتے ہیں تو انشاءاللہ ہمارے نجات کے حصول کے لیے یہ تین چیزیں کافی ہیں،پہلی چیز اپنی زبان کو قابو میں رکھنا اس پرمکمل کنٹرول کرنا اور دوسری چیز بغیر ضرورت کے اپنے گھروں سے نہ نکلنا اور تیسری چیز اپنے گناہوں اور خطاؤں پر اللہ کے سامنے رونا، گڑگڑانا اور آخرت کی طرف متوجہ رہنا حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ تین چیزیں تمہاری نجات کے لیے کافی ہے اور انشاءاللہ ان تین چیزوں پر عمل کر لینے سے ہماری نجات ہوجائے گی،اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مولانا قاسمی کی دعا پر اجتماع ختم ہوا۔
For you
“रोलिंग ब्लॉक के कारण कोचिंग ट्रेनों के परिचालन में परिवर्तन”
*نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *جامع مسجد سجور اور مسجد ابوبکر صدیق جواکھر میں ممتاز عالم دین مولانا سرفراز احمد قاسمی کا خطاب* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھاگلپور 14 جون (پریس ریلیز) آج مسلمان پریشان ہے،در در کی ٹھوکریں کھارہاہے،مشکلات کا شکار ہے،چاروں جانب مسائل سے گھرا ہوا ہے ،ارد گرد مسائل کا انبار ہے،مسلمان ان سے نجات حاصل کرنے اور انکے حل کے لئے سرگرداں ہے،ہم نجات کی تلاش میں ہیں،چھٹکارے اور نجات کے راستے تلاش کر رہے ہیں لیکن نجات کی راہیں کیا ہیں؟یہ کہاں ملے گی؟نجات کا حصول کیسے ہوگا؟ اسکا طریقہ کار کیاہو؟ قرآن وشریعت میں یہ ساری رہنمائی اور اسکا حل پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے،سوال یہ ہے کہ پھر ہم اسلامی تعلیمات اور قرآنی ہدایات کو چھوڑکر دوسری طرف نجات کیوں تلاش کررہے ہیں؟ان خیالات کا اظہار ملک کے ممتاز عالم دین اور معروف صحافی مولانا سرفراز احمد قاسمی جنرل سکریٹری کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک حیدرآباد نے اپنے خطاب کے دوران کیا،وہ جامع مسجد سجور اور مسجد ابوبکر صدیق میں اجتماع سے خطاب کررہے تھے،انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی جس انداز میں تربیت اور ان کی اصلاح فرمائی،اس کی مثال تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی،یہ صرف اسلام ہی خصوصیت ہے،اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے تربیت اور ٹریننگ کے بعد صحابہ کی ایسی جماعت تیار کی جو زندگی کے ہر شعبے اور موڑ پر رہنما اور قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے،ایک حدیث کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ حضرت عقبہ ابن عامر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ نجات کس میں ہے؟ نجات کے حصول کا طریقہ کیا ہے اور نجات کہاں ملے گی؟مین نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں،ذخیرہ حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کوئی دنیا کا بھی سوال کرتا تو آپ ہمیشہ ایسی تعلیم دیتے جس کی بنیاد پر وہ دین کی طرف مائل ہوجاتا تھا،ایسا نہیں تھا کہ کوئی ہم سے دنیا کا راستہ پوچھے تو دنیا ہی کا راستہ بتاؤں،ایک مرتبہ حضرت حکیم ابن حزام تشریف لائے اورعرض کیا اے اللہ کے رسول! میں غریب ہوں کچھ دے دیجئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عنایت فرمایا،کچھ دنوں کے بعد پھر تشریف لائے، پھر آپ نے عنایت فرمایا، کچھ دنوں کے بعد وہ پھر آئے اور آپ نے عنایت فرمادیا،چوتھی مرتبہ آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تو ضرور لیکن فورا ایک بات ارشاد فرمائی کہ حکیم مال بڑا،ہرا،بھرا اور میٹھا لگتا ہے فرمایا اگر مانگتے رہو گے تو خدا بھی منگواتا ہی رہے گا اس سے بہتر یہ کیوں نہیں کرتے کہ ایک کلہاڑی،رسی لے لو اور نکل جاؤ جنگل کی طرف، لکڑیاں کاٹو،بیچو،دیکھو مانگنے میں بھی ذلت ہے اور اس کاروبار میں بھی ذلت ہے،لیکن مانگنے کی ذلت کے مقابلے میں یہ کم ہے،فوری طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بجائے دنیا کے دین کی طرف مائل کردیا اور اشارہ فرمایا کہ تجارت کرو گے تو برکت بھی ہوگی ذلت سے بھی بچو گے اور مزید بات یہ ہے کہ سنت کے مطابق ہوگا تو تجارت میں ثواب بھی ملے گا،اس طرح فورا آخرت کی طرف مائل کردیا،اس طرح کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں مل سکتی،مولانا قاسمی جو ایک سینئر کالم نگار ہیں نے مزید کہا کہ حضرت عقبہ ابن عامر نے یہ سوال کیا کہ نجات کس میں ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب دیا وہ غور طلب ہے،اگر ہم سے کوئی پوچھتا کہ نجات کس میں ملے گی؟ تو ہم شاید یہی کہتے کہ بینک بیلنس بنا لو،نجات مل جائے گی،پیسہ جمع کرلو نجات مل جائے گی،بہترین قسم کا مکان بنا لو،نجات مل جائے گی،قیمتی گاڑی خریدلو نجات مل جائے گی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا ہے کہ نجات کس چیز میں ملے گی تو اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طریقہ بیان فرمایا یہ وہ طریقے ہیں جو اللہ سے لے کر بیان کیے جا رہے ہیں،آپ نے فرمایا اگر نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے تین طریقے ہیں،یہ تین طریقے اختیار کرلو،تمہیں نجات مل جائے گی اور اللہ تعالی تمہیں نجات عطاکرے گا،پہلا طریقہ یہ ہے کہ اپنی زبان پر قابو رکھو،اسکو کنٹرول میں رکھو،کیونکہ دنیا کے سارے فتنے اسی زبان کی بنیاد پر ہورہے ہیں،اسی زبان نے دنیا میں فتنے کھڑے کئے،شوہر بیوی کے جھگڑے اسی زبان کی بنیاد پر،بھائیوں کے درمیان اختلاف و انتشار اسی زبان کی بنیاد پر،یہ ذراسی ہلتی ہے،بغیر سوچے سمجھے کوئی بات کہہ دیا کرتی ہے،اسکا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ پھر کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوجاتاہے،مولانا نے مزید کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہفتے میں ایک مرتبہ شیطان اپنے چھوٹے چھوٹے شیاطین کو سمندر کی سطح پر جمع کرتا ہے،باقاعدہ اپنا اسٹیج لگاتا ہے اور اپنے تمام چھوٹے چھوٹے شیاطین سے حساب لیتا ہے کہ بتاؤ تم نے کیا کیا؟ ہر شیطان اپنے اعتبار سے اپنا اپنا کام بیان کرتا ہے، کوئی کہتا ہے کہ میں نے نماز چھوڑوائی، کوئی کہتا ہے کہ میں نے روزہ چھڑایا، کوئی کہتا ہے کہ میں نے زکوۃ ادا کرنے سے روکا، کوئی کہتا ہے کہ میں نے جھوٹ بلوایا،کوئی کہتا ہے کہ میں نے جھوٹی گواہی دلوائی، کوئی کچھ کہتا ہے،ہر ایک کو بڑا ابلیس دھتکاردیتا ہے کہ تم لوگوں نے کوئی بڑا کام نہیں کیا،نماز چھڑائی کوئی بڑا کام نہیں کیا،وہ بعد میں قضا کر لے گا،روزہ چھڑا دیا تو کوئی بڑا کام نہیں کیا وہ بعد میں رکھ لے گا،ایک شیطان کھڑا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں نے شوہر بیوی کے درمیان جھگڑا کرادیا،حتی کہ طلاق تک نوبت پہنچائی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بڑا ابلیس اس کو سینے سے لگا لیتاہے،اس کے سر پر اپنا تاج رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں تو نے بہت بڑا کام کیا،یہ زبان کی کرشمہ سازی ہے،یہ ذرا سی ہلی اور ایک بہت بڑا فتنہ وجود میں آگیا،مولانا قاسمی نے کہا کہ نجات کے حصول کےلئے پہلی چیز ہے زبان کو قابومیں رکھنا،اس پر کنٹرول کرنا اور دوسری چیز جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے گھروں کو لازم رکھو،یعنی بغیر ضرورت اپنے گھروں سے باہر نہ نکلو،کیونکہ کہ فتنے منہ کھولے کھڑے ہیں،اگر کوئی گناہ نہ بھی کیا تو کم از کم آنکھوں کی خیانت کا گناہ تو ہو ہی جائے گا،بدنظری کا گناہ تو ہو ہی جائے گا،علماء نے لکھا ہے کہ جب تک انسان اپنے گھروں میں بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے،اس وقت گناہوں کا امکان ہے کہ وہاں گناہوں سے بچارہتا ہے،بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارنا یہ بھی عبادت ہے اور یہ بھی نیکی کا کام ہے تو بغیر ضرورت اپنے گھروں سے نکلنے سے گریز کرنا چاہیے،جب ہم بغیر ضرورت اپنے گھر سے نکلیں گے تو اپنے وقت کو ضائع کرنے والے بنیں گے،ہاں اگر کوئی ضرورت ہے تو شریعت نے گھر سے باہر نکلنے کےلئے بالکل منع نہیں کیا لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ضرورت کی بنیاد پر بازار جانا، گھروں سے باہر نکلنا، محلوں میں جانا اور دوسرے کام کو انجام دینا یہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور ضرورت کی بنیاد پر گھر سے نکلنا چاہیے،اگر کوئی ضرورت نہ ہو تو بغیر ضرورت گھروں سے باہر وقت گزاری کرنا یہ بہرحال فتنے کا سبب ہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ نجات کے حصول کا تیسرا طریقہ اور تیسری چیز اپنے گناہوں پر کثرت کے ساتھ رویا کرو،یہ ایسی نصیحت ہے جو آخرت کو یاد دلانے والی ہے،ہر انسان کو قبر کے اندر جانا ہے، سارے مسائل میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن موت کے باب میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہر قوم موت کو تسلیم کرتی ہے،ہم سبکی زندگیوں میں معاصی ہیں،سوائے انبیاءکرام کے،انبیاء کی ذات معصوم ہوتی ہیں،ان سے کوئی گناہ نہیں ہوسکتا،ہم گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں،اس لئے ہمیں اپنے خطاؤں اور گناہوں پر خوب رونا چاہئے،اللہ کے سامنے گڑگڑانا چاہئے،اپنی عاجزی وانکساری کا اظہار کرنا چاہئے۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم اوپر کی ان تین چیزوں پر پابندی کے ساتھ عمل کر لیتے ہیں تو انشاءاللہ ہمارے نجات کے حصول کے لیے یہ تین چیزیں کافی ہیں،پہلی چیز اپنی زبان کو قابو میں رکھنا اس پرمکمل کنٹرول کرنا اور دوسری چیز بغیر ضرورت کے اپنے گھروں سے نہ نکلنا اور تیسری چیز اپنے گناہوں اور خطاؤں پر اللہ کے سامنے رونا، گڑگڑانا اور آخرت کی طرف متوجہ رہنا حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ تین چیزیں تمہاری نجات کے لیے کافی ہے اور انشاءاللہ ان تین چیزوں پر عمل کر لینے سے ہماری نجات ہوجائے گی،اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مولانا قاسمی کی دعا پر اجتماع ختم ہوا۔
*ائمہ و موذنین کےاعزازیہ میں اضافہ اور گرین چینل وعدہ پورا کیا جائے* *تلنگانہ رکشنا سینا کا مطالبہ۔ وزیر اقلیتی بہبود اظہر الدین سے نمائندگی*
*کھمم میں زیادتی کا شکار کمسن لڑکی کے افراد خاندان کو ہر ممکن تعاون کا وعدہ* *کے کویتا نے نمس ہاسپٹل پہنچ کر عیادت کی۔ ریاستی حکومت پر شدید تنقید*
बराकर से लापता युवक 12 घंटे में झारखंड से बरामद, एक लाख की फिरौती मांगने का आरोप; पुलिस की तत्परता से बची जान
Latest News
“रोलिंग ब्लॉक के कारण कोचिंग ट्रेनों के परिचालन में परिवर्तन”
*نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *جامع مسجد سجور اور مسجد ابوبکر صدیق جواکھر میں ممتاز عالم دین مولانا سرفراز احمد قاسمی کا خطاب* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھاگلپور 14 جون (پریس ریلیز) آج مسلمان پریشان ہے،در در کی ٹھوکریں کھارہاہے،مشکلات کا شکار ہے،چاروں جانب مسائل سے گھرا ہوا ہے ،ارد گرد مسائل کا انبار ہے،مسلمان ان سے نجات حاصل کرنے اور انکے حل کے لئے سرگرداں ہے،ہم نجات کی تلاش میں ہیں،چھٹکارے اور نجات کے راستے تلاش کر رہے ہیں لیکن نجات کی راہیں کیا ہیں؟یہ کہاں ملے گی؟نجات کا حصول کیسے ہوگا؟ اسکا طریقہ کار کیاہو؟ قرآن وشریعت میں یہ ساری رہنمائی اور اسکا حل پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے،سوال یہ ہے کہ پھر ہم اسلامی تعلیمات اور قرآنی ہدایات کو چھوڑکر دوسری طرف نجات کیوں تلاش کررہے ہیں؟ان خیالات کا اظہار ملک کے ممتاز عالم دین اور معروف صحافی مولانا سرفراز احمد قاسمی جنرل سکریٹری کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک حیدرآباد نے اپنے خطاب کے دوران کیا،وہ جامع مسجد سجور اور مسجد ابوبکر صدیق میں اجتماع سے خطاب کررہے تھے،انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی جس انداز میں تربیت اور ان کی اصلاح فرمائی،اس کی مثال تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی،یہ صرف اسلام ہی خصوصیت ہے،اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے تربیت اور ٹریننگ کے بعد صحابہ کی ایسی جماعت تیار کی جو زندگی کے ہر شعبے اور موڑ پر رہنما اور قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے،ایک حدیث کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ حضرت عقبہ ابن عامر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ نجات کس میں ہے؟ نجات کے حصول کا طریقہ کیا ہے اور نجات کہاں ملے گی؟مین نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں،ذخیرہ حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کوئی دنیا کا بھی سوال کرتا تو آپ ہمیشہ ایسی تعلیم دیتے جس کی بنیاد پر وہ دین کی طرف مائل ہوجاتا تھا،ایسا نہیں تھا کہ کوئی ہم سے دنیا کا راستہ پوچھے تو دنیا ہی کا راستہ بتاؤں،ایک مرتبہ حضرت حکیم ابن حزام تشریف لائے اورعرض کیا اے اللہ کے رسول! میں غریب ہوں کچھ دے دیجئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عنایت فرمایا،کچھ دنوں کے بعد پھر تشریف لائے، پھر آپ نے عنایت فرمایا، کچھ دنوں کے بعد وہ پھر آئے اور آپ نے عنایت فرمادیا،چوتھی مرتبہ آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تو ضرور لیکن فورا ایک بات ارشاد فرمائی کہ حکیم مال بڑا،ہرا،بھرا اور میٹھا لگتا ہے فرمایا اگر مانگتے رہو گے تو خدا بھی منگواتا ہی رہے گا اس سے بہتر یہ کیوں نہیں کرتے کہ ایک کلہاڑی،رسی لے لو اور نکل جاؤ جنگل کی طرف، لکڑیاں کاٹو،بیچو،دیکھو مانگنے میں بھی ذلت ہے اور اس کاروبار میں بھی ذلت ہے،لیکن مانگنے کی ذلت کے مقابلے میں یہ کم ہے،فوری طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بجائے دنیا کے دین کی طرف مائل کردیا اور اشارہ فرمایا کہ تجارت کرو گے تو برکت بھی ہوگی ذلت سے بھی بچو گے اور مزید بات یہ ہے کہ سنت کے مطابق ہوگا تو تجارت میں ثواب بھی ملے گا،اس طرح فورا آخرت کی طرف مائل کردیا،اس طرح کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں مل سکتی،مولانا قاسمی جو ایک سینئر کالم نگار ہیں نے مزید کہا کہ حضرت عقبہ ابن عامر نے یہ سوال کیا کہ نجات کس میں ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب دیا وہ غور طلب ہے،اگر ہم سے کوئی پوچھتا کہ نجات کس میں ملے گی؟ تو ہم شاید یہی کہتے کہ بینک بیلنس بنا لو،نجات مل جائے گی،پیسہ جمع کرلو نجات مل جائے گی،بہترین قسم کا مکان بنا لو،نجات مل جائے گی،قیمتی گاڑی خریدلو نجات مل جائے گی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا ہے کہ نجات کس چیز میں ملے گی تو اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طریقہ بیان فرمایا یہ وہ طریقے ہیں جو اللہ سے لے کر بیان کیے جا رہے ہیں،آپ نے فرمایا اگر نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے تین طریقے ہیں،یہ تین طریقے اختیار کرلو،تمہیں نجات مل جائے گی اور اللہ تعالی تمہیں نجات عطاکرے گا،پہلا طریقہ یہ ہے کہ اپنی زبان پر قابو رکھو،اسکو کنٹرول میں رکھو،کیونکہ دنیا کے سارے فتنے اسی زبان کی بنیاد پر ہورہے ہیں،اسی زبان نے دنیا میں فتنے کھڑے کئے،شوہر بیوی کے جھگڑے اسی زبان کی بنیاد پر،بھائیوں کے درمیان اختلاف و انتشار اسی زبان کی بنیاد پر،یہ ذراسی ہلتی ہے،بغیر سوچے سمجھے کوئی بات کہہ دیا کرتی ہے،اسکا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ پھر کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوجاتاہے،مولانا نے مزید کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہفتے میں ایک مرتبہ شیطان اپنے چھوٹے چھوٹے شیاطین کو سمندر کی سطح پر جمع کرتا ہے،باقاعدہ اپنا اسٹیج لگاتا ہے اور اپنے تمام چھوٹے چھوٹے شیاطین سے حساب لیتا ہے کہ بتاؤ تم نے کیا کیا؟ ہر شیطان اپنے اعتبار سے اپنا اپنا کام بیان کرتا ہے، کوئی کہتا ہے کہ میں نے نماز چھوڑوائی، کوئی کہتا ہے کہ میں نے روزہ چھڑایا، کوئی کہتا ہے کہ میں نے زکوۃ ادا کرنے سے روکا، کوئی کہتا ہے کہ میں نے جھوٹ بلوایا،کوئی کہتا ہے کہ میں نے جھوٹی گواہی دلوائی، کوئی کچھ کہتا ہے،ہر ایک کو بڑا ابلیس دھتکاردیتا ہے کہ تم لوگوں نے کوئی بڑا کام نہیں کیا،نماز چھڑائی کوئی بڑا کام نہیں کیا،وہ بعد میں قضا کر لے گا،روزہ چھڑا دیا تو کوئی بڑا کام نہیں کیا وہ بعد میں رکھ لے گا،ایک شیطان کھڑا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں نے شوہر بیوی کے درمیان جھگڑا کرادیا،حتی کہ طلاق تک نوبت پہنچائی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بڑا ابلیس اس کو سینے سے لگا لیتاہے،اس کے سر پر اپنا تاج رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں تو نے بہت بڑا کام کیا،یہ زبان کی کرشمہ سازی ہے،یہ ذرا سی ہلی اور ایک بہت بڑا فتنہ وجود میں آگیا،مولانا قاسمی نے کہا کہ نجات کے حصول کےلئے پہلی چیز ہے زبان کو قابومیں رکھنا،اس پر کنٹرول کرنا اور دوسری چیز جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے گھروں کو لازم رکھو،یعنی بغیر ضرورت اپنے گھروں سے باہر نہ نکلو،کیونکہ کہ فتنے منہ کھولے کھڑے ہیں،اگر کوئی گناہ نہ بھی کیا تو کم از کم آنکھوں کی خیانت کا گناہ تو ہو ہی جائے گا،بدنظری کا گناہ تو ہو ہی جائے گا،علماء نے لکھا ہے کہ جب تک انسان اپنے گھروں میں بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے،اس وقت گناہوں کا امکان ہے کہ وہاں گناہوں سے بچارہتا ہے،بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارنا یہ بھی عبادت ہے اور یہ بھی نیکی کا کام ہے تو بغیر ضرورت اپنے گھروں سے نکلنے سے گریز کرنا چاہیے،جب ہم بغیر ضرورت اپنے گھر سے نکلیں گے تو اپنے وقت کو ضائع کرنے والے بنیں گے،ہاں اگر کوئی ضرورت ہے تو شریعت نے گھر سے باہر نکلنے کےلئے بالکل منع نہیں کیا لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ضرورت کی بنیاد پر بازار جانا، گھروں سے باہر نکلنا، محلوں میں جانا اور دوسرے کام کو انجام دینا یہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور ضرورت کی بنیاد پر گھر سے نکلنا چاہیے،اگر کوئی ضرورت نہ ہو تو بغیر ضرورت گھروں سے باہر وقت گزاری کرنا یہ بہرحال فتنے کا سبب ہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ نجات کے حصول کا تیسرا طریقہ اور تیسری چیز اپنے گناہوں پر کثرت کے ساتھ رویا کرو،یہ ایسی نصیحت ہے جو آخرت کو یاد دلانے والی ہے،ہر انسان کو قبر کے اندر جانا ہے، سارے مسائل میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن موت کے باب میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہر قوم موت کو تسلیم کرتی ہے،ہم سبکی زندگیوں میں معاصی ہیں،سوائے انبیاءکرام کے،انبیاء کی ذات معصوم ہوتی ہیں،ان سے کوئی گناہ نہیں ہوسکتا،ہم گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں،اس لئے ہمیں اپنے خطاؤں اور گناہوں پر خوب رونا چاہئے،اللہ کے سامنے گڑگڑانا چاہئے،اپنی عاجزی وانکساری کا اظہار کرنا چاہئے۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم اوپر کی ان تین چیزوں پر پابندی کے ساتھ عمل کر لیتے ہیں تو انشاءاللہ ہمارے نجات کے حصول کے لیے یہ تین چیزیں کافی ہیں،پہلی چیز اپنی زبان کو قابو میں رکھنا اس پرمکمل کنٹرول کرنا اور دوسری چیز بغیر ضرورت کے اپنے گھروں سے نہ نکلنا اور تیسری چیز اپنے گناہوں اور خطاؤں پر اللہ کے سامنے رونا، گڑگڑانا اور آخرت کی طرف متوجہ رہنا حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ تین چیزیں تمہاری نجات کے لیے کافی ہے اور انشاءاللہ ان تین چیزوں پر عمل کر لینے سے ہماری نجات ہوجائے گی،اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مولانا قاسمی کی دعا پر اجتماع ختم ہوا۔
*ائمہ و موذنین کےاعزازیہ میں اضافہ اور گرین چینل وعدہ پورا کیا جائے* *تلنگانہ رکشنا سینا کا مطالبہ۔ وزیر اقلیتی بہبود اظہر الدین سے نمائندگی*
*کھمم میں زیادتی کا شکار کمسن لڑکی کے افراد خاندان کو ہر ممکن تعاون کا وعدہ* *کے کویتا نے نمس ہاسپٹل پہنچ کر عیادت کی۔ ریاستی حکومت پر شدید تنقید*
बराकर से लापता युवक 12 घंटे में झारखंड से बरामद, एक लाख की फिरौती मांगने का आरोप; पुलिस की तत्परता से बची जान
रिटायर्ड ईसीएल कर्मी की संदिग्ध मौत मामले में मुख्य आरोपी सूदखोर अशोक नोनिया गिरफ्तार, आसनसोल कोर्ट में पेश