Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بالاسور شہر کے بالیا میں دیولی کے بم سے ایک نوجوان ہوا شدید گھائل،کٹک کے اسونی ہسپتال میں چل رہا ہے علاج*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

بالاسور یکم نومبر (عظیم بالیسری)جہاں پورا ہندوستان دیوالی کے جشن میں مبتلا تھا وہیں بالاسور شہر کے بالیا میں ایک درد ناک حادثے سے شہر بھر میں غم کا ماحول چھاگیا۔جو بھی اس خبر کو سنا حیران رہ گیا۔ہوا یوں کہ بالیا محلہ کے رہنے والے شیخ ریحان قادری کے بڑے صاحبزادے شیخ تنویر قادری شام کو گھر سے نکل کر ایک دوست کے ساتھ بالیا چوک کے طرف گیئے تھے، راستے میں جاتے وقت ایک بم کسی نے ان کے جانب پھینک دیا اور وہ بمب سیدھے ان کے منہ پر آکر لگا اور پھٹ گیا جس کے باعث ان کا پورا چہرا ہی بگڑ گیا ناک دائیں جانب کی آنکھ، ہونٹ اور گال ایک طرح سے برباد ہوگئے۔انہیں فوراًصدر ہسپتال لاگیا جہاں ڈاکٹروں نے کٹک لے جانے کا مشورہ دیا۔انہیں گھر والوں نے کٹک اسونی ہسپتال لے گئے اور ان کا آج آپریشن ہوا ہے اور ICU میں زیر علاج ہیں۔اس وقعہ سے شہر میں ایک کھلبلی مچ گئی ہے لوگ طرح طرح کے تاثرات رکھ رہے ہیں جس میں ایک سینئر جرنلسٹ دھیراج داس نے کہا کہ اس طرح کے حادثے میں کہیں نہ کہیں ضلع انتظامیہ قصوار ہے کیونکہ مارکیٹ میں جان لیوا بمب فروخت ہونے سے قبل ضلع انتظامیہ کو مارکیٹ میں جاکر بموں کی جانچ کر تب فروخت کرنے کی اجازت دینی چاہیئے۔تو وہیں نوجوان صحافی شیخ نظیم نے کہا کہ تہوار خوشی منانے کا نام ہے اگر ہماری خوشی منانے میں کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ تہوار نہیں کہلاتا اور نہ ہی تہوار کا مقصد پورا ہوتا ہے۔اسی طرح سابق US آرمی افسر محمد فیروز حسین نے اپنی رائے رکھتے ہوئے کہا کہ راستے میں اس طرح کھلے عام آتش بازی نہیں کرنی چاہیئے جس سے راہگیروں کو تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑے، بہتر ہوگا اگر ضلع انتظامیہ ایک جگہ مقرر کر دے جہاں آتش بازی کے شوقین پہنچکر آتش بازی کا مزہ لے پا ئیں۔

Latest News