Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*انجنئیر خورشید غنی کا سفرنامہ “صدائے رہ گذر” کی تقریب رسم رونمائی*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

آسنسول اردوکاڈمی(آسنسول کارپوریشن)کے زیر اہتمام سنیچر کے دن کارپوریشن کےسجے سجائے ائیر کنڈیشنڈ الوچنا ہال میں معروف کالم نویس انجنئیر خورشید غنی کا ملک ہندوستان کے مختلف مقامات کے اسفار پر مشتمل آسنسول کا پہلا ادبی سفر نامہ “صدائے رہ گذر” کا اجراء مغربی بنگال اردوکاڈمی کے گورننگ باڈی ممبر و ڈرامہ نگار ڈاکٹر نوشاد عالم اور ہندوپاک کے معمر افسانہ نگار الحاج نذیر احمد یوسفی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ موقعے پر آسنسول اردوکاڈمی کے جنرل سیکریٹری و آسنسول کارپوریشن کے ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق ،سید انجم رومان،ڈاکٹر شمشیر عالم ،ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا،ڈاکٹر عشرت بیتاب،خالق ادیب سمیت آسنسول واطراف کی نمائندہ ادبی،تعلیمی وسماجی شخصیات اور کالج کی طالبات کی بڑی تعداد موجود رہی۔پروگرام کی صدارت آسنسول اردو اکاڈمی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر مشکور معینی نے کی جبکہ نظامت کی ذمہ داریاں امتیاز احمد انصاری منفرد لب ولہجہ میں بحسن وخوبی انجام دئیے۔سبھی مقررین نے انجنئیر خورشید غنی کے اجودھیا ،اجمیر،سیوان اور نئی دہلی کے سفر نامے پر مشتمل کتاب صدائے رہ گذر کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک ایسی کتاب بتایا جس کامطالعہ ملک کے ان مقامات کی تہذیب وثقافت اور تاریخی اہمیت کوجاننے اور سمجھنے میں معاون ثابت ہوگی ۔مقررین نے اس سفرنامے کوعام معلومات کے ساتھ جنرل نالج فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بتایا۔ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا اور ڈاکٹر مشکور معینی نے بھی اس کتاب کی اہمیت وافادیت اور اس کے محاسن پر روشنی ڈالنے کے ساتھ اسکے کمزور نقاط پر انگشت نمائی کی ۔خورشید ادیب نے منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ڈاکٹر نوشاد عالم نے اس سفر نامے کی چالیس کاپیوں کی قیمت اپنے جیب خاص سے ادا کرکے یہ تمام کتابیں جلسے میں موجود کالج کی طالبات کے درمیان تقسیم کرایا تاکہ نئی نسل اس سفر نامے کو پڑھ کر ان کے اندر بھی اس طرح کے سفر نامے تحریر کرنے کا شوق وجوق اور حوصلہ پیدا ہو۔ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق نے بھی صاحب کتاب انجنئیر خورشید غنی کو اس سفر نامہ کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرنےکے ساتھ مدھیامک امتحان میں کامیاب ہونے والے تمام طلباء وطالبات کو بھی مبارکباد پیش کیا۔ موصوف نے یو جی ایم کے اسکول کی ٹاپر طالبہ تھوئبی مکھرجی کی رزلٹ آنے سے دوہفتہ قبل بیماری میں مبتلا ہوکر پرلوک سدھارنے پر نہ صرف گہرے دکھ کا اظہار کیا بلکہ تمام سامعین سے کھڑے ہوکر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے اور اس کی آتما کی شانتی کی پرارتھنا کرنے کی گذارش بھی کی۔

اس موقعے پر سید وسیم الحق کو آسنسول ایکتا منچ کی جانب سے شال اور سپاش نامہ پر مشتمل “فخر ملت ایوارڈ” منچ کے روح رواں انجنئیر خورشید غنی اور خورشید ادیب پیش کئے۔خورشید ادیب اور ان کی اہلیہ شبیلہ خاتون نے انجنئیر خورشید غنی کے اس سفر نامے کے اجراء کے موقعے پر انہیں اور ان کی اہلیہ سلطانہ خاتون کو شال اور پھول کا ہار پیش کئے۔پروگرام کا آغاز ابو فیضان نے نعت پاک اور غزل سے کیا۔غزل سنگر محمد حفیظ نے بھی ایک غزل سامعین کے نذر کیا۔تمام مہمانوں کو خورشید ادیب اور ڈاکٹر نسیم کے ہاتھوں شانہ زیب پیش کیا گیا۔ڈاکٹر مشکور معینی کے ذریعہ صدارتی خطبہ اور انجنئیر خورشید غنی کے اظہار تشکر کے بعد پروگرام

کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔