آسنسول ضلع عدالت میں وکلاء نے جمعرات کے روز عدالت کے احاطے میں زبردست احتجاج کیا۔ یہ احتجاج بدھ سے شروع ہونے والی تین روزہ کام بند تحریک کا حصہ ہے، جس میں سینئر وکیل شیکھر کنڈ بھی شامل تھے۔
آسنسول بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری بانی کمار منڈل نے اس حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “18 جولائی کو عدالت کے ڈی ایل ایس اے (ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی) میں تعینات ایک سیکیورٹی کانسٹیبل نے دو وکلاء کو ہراساں کیا۔ اس واقعے کے بعد وکلاء نے ضلع جج کو مکمل صورتحال سے آگاہ کیا تھا، اور انہوں نے ضروری کارروائی کا وعدہ بھی کیا تھا، لیکن تاحال کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔”
اس تاخیر کے خلاف وکلاء نے احتجاجی تحریک شروع کی ہے۔ جمعرات کو احتجاج میں شامل وکلاء نے زور دے کر کہا کہ “ہم ہمیشہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے آئے ہیں، لیکن عدالت کے اندر وکلاء کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے، اور ان کی شکایات کو جس طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے، وہ ناقابل قبول ہے۔ ایسے حالات میں احتجاج کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔”
وکلاء نے مزید بتایا کہ 18 جولائی کو وکیل بنئے چودھری اور وکیل ترشنا رائے کو ایک سیکیورٹی اہلکار نے مارا پیٹا۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ جب تک انصاف نہیں ملتا، ان کی تحریک جاری رہے گی۔




















