درگاپور شہر میں گزشتہ تین دنوں سے منی بسوں اور آٹو رکشوں کی بند سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی مسئلے پر آج کانگریس کارکنوں نے درگاپور سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر شدید احتجاج کیا، جو بعد میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں تبدیل ہو گیا۔
احتجاجی مظاہرین کا الزام ہے کہ انتظامیہ اس سنگین عوامی مسئلے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کانگریس کارکنوں اور حامیوں نے دفتر کے مرکزی دروازے پر پولیس کے ساتھ دھکا مکی کرتے ہوئے اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور دفتر کے اندر بیٹھ کر نعرے بازی شروع کر دی۔
صورتحال کے بگڑنے پر نیو ٹاؤن شپ تھانے کی پولیس نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کی اور مظاہرین کو زبردستی باہر نکالنا شروع کر دیا۔ اس دوران پولیس اور کانگریس کارکنوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔
کانگریس کے ضلع صدر دیبیش چکرورتی نے پولیس پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ “پولیس نے میرے کپڑے پھاڑ دیے اور کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی کی۔” اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
کانگریس کی جانب سے انتباہ دیا گیا ہے کہ اگر جلد از جلد بس اور آٹو خدمات بحال نہ کی گئیں، تو اس سے بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں ایک شخص کو حراست میں بھی لیا ہے۔




















