آسنسول کا قدیم دینی ادارہ مدرسہ مصباح العلوم میں اتوار کی دیر شام اسی مدرسہ کے تاحیات سکریٹری و متولی اور آسنسول کے سنئیر وکیل محمد سمیع الدین کے سانحہ ارتحال پر ایک تعزیتی نشست کاانعقاد مدرسہ ہذا کے مدرسین وطلبہ نے کیا۔اس تعزیتی نشست میں مرحوم سے محبت وعقیدت رکھنے والے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کی کافی تعداد موجود رہی۔نشست کی صدارت سابق کونسلر خلیل خان نے کی اور نظامت کی ذمہ داریاں ماسٹر امتیاز احمد انصاری بحسن وخوبی انجام دئیے ۔

موقعے پر آسنسول جامع مسجد کے خطیب وامام مفتی خورشید اکرم رحمانی،قاضی شریعت مفتی زبیر احمد قاسمی،مدرسہ کے مہتمم مولانا ابوالکلام حسامی،وارڈ 25کے کونسلر ایس ایم مصطفیٰ، الحاج اظہار قمر،مولانا محمد قربان،سید عقیل ،ماسٹر محمد سلیمان،ماسٹر محمد کمال،ایڈوکیٹ محمدطارق،قمرالدین خان،ماسٹر علی انصاری، الیاس راعین،سجاد حسین،رضوان اختر،عمران مانی،مقصود عالم،غلام رسول گلو نے اپنے تاثرات پیش کرتےہوئے مرحوم کی بشری خوبیوں کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اور ان کے کارناموں کو اجاگر کیا۔سبھوں نے ان ایمانداری،دیانتداری اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی کھل کر تعریف کی ساتھ ہی ساتھ ملت کے بچوں کےلئے انہوں نے ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے قیام کاجو خواب دیکھا تھا اس کی راہ ہموار کرنے پر زور دیا۔مفتی خورشید اکرم رحمانی نےپرمغز اور فکر انگیز تقریر کے دوران مرحوم سمیع الدین کی گوں نہ گوں خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعائیں کئے۔ موصوف نے جلسے میں موجود لوگوں کو تلقین کرتے ہوئےیہ بھی کہا کہ جانے والے تو چکے گئےاب ہم لوگوں کو اپنےجانے کی فکر کرنی چاہیئے تاکہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنور جائے ۔اس موقعے پر سمیع الدین صاحب کے تینوں فرزند خان فیروز بہادر،خان فیصل بہادر اور ایڈوکیٹ خان فیض بہادر نہ صرف موجود رہے بلکہ رندھی ہوئی آواز میں اپنے جذبات اور احساسات کااظہار کرتے ہوئےاپنے والد کے ادھورے سپنوں کو پورا کرنےکا اعادہ بھی کیا اور اس سلسلے میں سبھوں سے تعاون کی اپیل بھی کی۔نشست کاآغاز مولانا انیس الرحمٰن قاسمی کے تلاوت کلام پاک اور عبدالمنان الیاسی کے حمد ونعت کے زریعہ ہوا اور مفتی زبیر احمد قاسمی کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔ اس تعزیتی نشست کے انعقاد میں مدرسہ مصباح العلوم کے مہتمم مولانا ابوالکلام حسامی کے علاؤہ مدرسین میں مولانا انیس الرحمٰن قاسمی ،مولانا خالد سیف اللہ اور مولانا احمد حسین پرولیاوی کی کوششیں قابل ذکر ہیں ۔




























