انجمن ترقی اردو ہند ،ضلع پچھم بردوان ، آسنسول کی جانب سے آسنسول کورٹ کے سنئیر وکیل ،مدرسہ مصباح العلوم کے سکریٹری و متولی محمد سمیع الدین ایڈوکیٹ (وفات 17 اگست)اور شمالی آسنسول سے تعلق رکھنے والے ادب اطفال کے نامور ادیب،مضمون نگار اور ہومیوپیتھی کے اچھے معالج ڈاکٹر انور ادیب (وفات 28 اگست )کے سانحہ ارتحال پر ایک تعزیتی نشست کاانعقاد کیا گیا۔ انجمن کے جنرل سکریٹری کے دولت کدہ خیرون منزل میں جمعہ کی دیر شام ہونے والی اس تعزیتی نشست کی صدارت الحاج انجنئیر خورشید غنی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ماسٹر امتیاز احمد انصاری اپنے مخصوص انداز میں انجام دئیے۔ نشست کاآغاز مولانا انیس الرحمٰن قاسمی کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔بعدازاں ماسٹر محمد سلیمان ،ڈاکٹر فاروق اعظم، شاہد پرویز،ماسٹر محمد علی انصاری،محمد امان اللہ خان ،محمد ساجد انصاری،ایڈوکیٹ محمد طارق،مولانا انیس الرحمٰن قاسمی اور سمیع الدین ایڈوکیٹ کے فرزند خان فیصل بہادر نے باری باری اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے دونوں مرحومین کی بشری خوبیوں کے مختلف گوشوں کو اجاگر کئے اور ان دونوں کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل کی دعائیں دی۔تمام مقررین نے ایڈوکیٹ محمد سمیع الدین کو ایک جانب قوم کا سپاہی بتایاجنہوں نے قوم وملت کی ہر موقع پر رہنمائی کی تو دوسری جانب ڈاکٹر انور ادیب کو قلم کا مخلص سپاہی قرار دیا جنہوں نے ادبی گروہ بندی سے اوپر اٹھ کر خاموشی کے ساتھ ادب کی خدمت میں لگے رہے ۔ان دونوں کے گذر جانے سے قوم و ملت کو جو نقصان ہوا ہے اس کی جلد بھرپائی کی اللہ کے حضور فریاد بھی کی گئی۔صدارتی خطبہ کے دوران صدر مجلس انجنئیر خورشید غنی نے سمیع الدین صاحب کی گوناگوں خوبیوں سے سامعین کو روشناس کرایا وہیں ڈاکٹر انور ادیب صاحب کو خاموشی کے ساتھ ادب کی خدمت کرنے والا بتایا۔ دوران پروگرام ناظم امتیاز احمد انصاری نے بھی دونوں شخصیات کے سلسلے سے اپنے دیرینہ تعلقات اور ان لوگوں سے ملنےوالی شفقت اور محبت کااجمالی جائزہ پیش کیا۔پروگرام کے دوران سمیع الدین صاحب کے فرزند خان فیصل بہادر اور محمد حفیظ نےدردبھری غزلیں سامعین کی نذر کئے۔ سجادحسین نے نعت رسول کا نذرانہ پیش کیا ۔











