Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کا الزام لگایا سابق میئر جتیندر تیواری نے*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

آسنسول میونسپل کارپوریشن کے سابق میئر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر جتیندر تیواری نے پانڈیشور اسمبلی حلقے میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے ہفتہ کو گودھولی علاقے میں واقع اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
جتیندر تیواری نے کہا کہ آئندہ سال مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی تیاری کے تحت ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا عمل جاری ہے۔ اس مقصد کے لئے الیکشن کمیشن ہر بوتھ پر بی ایل او (بوٹھ لیول آفیسر) تعینات کرتا ہے، جس کی ذمہ داری مقامی ای آر او (الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر) کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پانڈیشور کے رکن اسمبلی کے دباؤ میں آکر ای آر او بی ایل او کی تعیناتی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایم ایل اے کے دفتر سے بی ایل اوز کی فہرست براہ راست ای آر او کو بھیجی جاتی ہے اور ای آر او بغیر جانچ کے ان ناموں کو منظور کر لیتے ہیں۔
بی جے پی لیڈر کے مطابق، اس طریقہ کار کی وجہ سے کئی ایسے افراد بی ایل او بن گئے ہیں جو براہِ راست سیاست سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے لوگوں سے غیر جانبداری کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے؟ تیواری نے دعویٰ کیا کہ پانڈیشور اسمبلی حلقے کے 239 بوتھوں میں سے 103 بوتھوں پر ایسے افراد کو بی ایل او بنایا گیا ہے جو خود اس بوتھ کے ووٹر نہیں ہیں، حالانکہ الیکشن کمیشن کے ضابطے کے مطابق دیہی علاقوں میں بی ایل او کا اسی بوتھ کا ووٹر ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ رانی گنج، جمڑیا اور حتیٰ کہ دوبراجپور سے بھی لوگوں کو لاکر بی ایل او بنایا گیا ہے۔
تیواری نے کہا کہ مقامی بی جے پی کارکنوں نے ان تمام بے ضابطگیوں کو دستاویزی شکل میں تیار کرلیا ہے اور جلد ہی مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کو باضابطہ شکایت پیش کی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کی بے قاعدگیوں پر سخت کارروائی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم ایل اے نریندر ناتھ چکرورتی ووٹر لسٹ کو متاثر کرنے کے لئے ای آر او اور بی ایل او کا غلط استعمال کر رہے ہیں، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔