*فلسطینیوں کی نسل کشی ، شرجیل امام اور انکے ساتھیوں کی غیر دستوری حراست کے خلاف عوام سے متحد ہونے کی اپیل ۔پروفیسر سعید الحق*
—————————————-
*آواز کے سیمینار سے کئ ایک قرارداد منظور ۔نعمان اسفر خان*
—————————————-
آسنسول کے قدیم تاریخی شہر رانی گنج میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کی تنظیم آواز نے کئ ایک سلگتے مسائل پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا ۔اس سیمینار سے آواز کے ریاستی صدر سابق رکن پارلیمنٹ پروفیسر سعید الحق،آواز ریاستی مشاورتی کمیٹی کی رکن سابق رکن اسمبلی جہاں آرا خان،سابق رکن اسمبلی جناب رونو دتہ اور آواز ضلع کمیٹی کے کارگزار صدر محمد صلاح الدین نے خطاب کیا ۔مقررین نے بےقصور فلسطینیوں کی نسل کشی کو عالم انسانیت کی نسل کشی کہا،اس نسل کشی پر دنیا کی بڑی طاقتوں اور عرب ممالک کی خاموشی پر حیرت ہی نہیں شرم کا اظہار کرتے ہوئے ان طاقتوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ۔بھوکے بلکتے انسانیت اور بچوں کو بچانے کیلئے رسد پہنچانے کی مانگ کی ۔ساری دنیا کے امن پسند عوام سراپا احتجاج ہیں اور بے شرم حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں ۔اس خاموشی کے خلاف امن پسند عوام کو پر زور احتجاج کرنے کی ضرورت ہے ۔
دوسری جانب ہمارے ملک ہندوستان کی حکومت بھی اپنے ملک کی اقلیتوں،آدیباسیوں ،پسماندہ طبقات اور درج فہرست ذاتوں کو پریشان کر رہی ہے ۔یہ بھی بڑے شرم کی بات ہے ۔غیر دستوری وقف قانون لا کر اقلیتوں کو ان کی وقف شدہ زمین سے بے دخل کرنے کی سازش کر رہی ہے ۔عدلیہ بھی کھل کر آواز بلند نہیں کر رہی ہے ۔سپریم عدالت نے وقف قانون اور ایس آئی آر یعنی ووٹر لسٹ کی غیر ضروری کاروائی پر اپنے ناراضگی کا اظہار کیا مگر باطل قرار دینے سے گریز کیا ۔آواز اس کی مخالفت کرتی ہے اور ان دونوں حکمنامے کو واپس لینے کی مانگ کرتی ہے ۔
مقررین نے شرجیل امام اور ان کے ساتھ گرفتار دیگر آٹھ بے گناہ نوجوانوں کی غیر قانونی حراست پر اپنی بر ہمی کا اظہار کیا ۔جو لوگ دلی دنگوں کے آصل مجرم ہیں وہ سب آزاد گھوم رہے ہیں اور بے گناہ افراد کو گزشتہ پانچ سالوں سے بغیر کسی سنوائی کے جیل میں بند کر رکھا ہوا ہے ۔انہیں فوراً آزاد کیا جائے،عدلیہ مداخلت کرے اور لوگوں کی شخصی آزادی کا احترام کریں،ہندوستان کی اقلیتوں کو اب بھی عدالت عظمیٰ پر یقین ہے،عدالتوں کو عوام کے ساتھ ہو رہی نا انصافی پر از خود دھیان دینا چاہئے ۔


اس موقع آواز ضلع کمیٹی کے سکریٹری جناب نعمان اسفر خان نے ان چاروں مسائل نے علاوہ پنجاب سیلاب زدگان کی فوری امداد کے مطالبہ پر قرار داد پیش کیا جسے حاضرین نے یک آواز کے ساتھ منظور کیا اور ان قراردادوں کو حکومت ہند کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ساتھ ہی ساتھ مغربی بنگال کی ریاستی حکومت کے سربراہ سے اس تمام مسائل پر مداخلت کر اقلیتوں کو انصاف دلانا چاہیے ۔اس موقع پر عوام کے علاوہ متعدد نامور ہستیوں میں سابق رکن اسمبلی محترمہ جہاں آرا خان،رانی گنج کے سابق رکن اسمبلی جناب رونو دتہ ، آسنسول کارپوریشن کے سابق کاؤنسلر جناب عارج جلیس رانی گنج کے سابق وائس چیئرمین سنیل کھنڈیلوال ،استاد ہیروک گانگولی ،سرفراز عالم ،مرغوب راہی ،الیاس راعین ،عمران خان مانی ،سابق کاؤنسلر خلیل خان ،کوثر حسین ،رفعت پرویز، محمد جہانگیر، ارشد صدیقی، اشفاق عالم ،منا اہیر ،شیخ عبد القیوم، سعید عالم ،کنیز فاطمہ، نازیہ پروین اور ماسٹر مختار انور وغیرہ مہمان حضرات موجود تھے ۔آواز کے اس سیمینار کی صدارت جناب محمد صلاح الدین نے فرمایا اور آخر میں آواز کے ضلع سکریٹری جناب نعمان اسفر خان نے مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔










