*از قلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)*
تاریخ کے سینے میں کچھ ایّام ایسے امر ہو جاتے ہیں جو صدیوں تک ایمان اور عزّت کی شمع روشن رکھتے ہیں، اور 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں بیت المقدس کی فتح ان میں سے ایک ہے۔ یہ محض ایک شہر کی فتح نہیں تھی، بلکہ یہ ایک عظیم تہذیبی، سیاسی اور مذہبی انقلاب کی علامت تھی جس نے نہ صرف مسلمانوں کے دلوں میں ایک نئی رُوح پھونک دی بلکہ پُوری دنیا کی تاریخ پر اپنے گہرے نقوش مرتسم کیے۔
اس عظیم الشان فتح کا پس منظر 4 جولائی 1187ء کو جنگِ حطین کے میدان میں تیار ہوا، جہاں صلاح الدین نے یورپ کی مُتحدہ صلیبی افواج کو ایسی فیصلہ کُن اور عبرتناک شکست دی جس نے ان کی کمر توڑ دی۔ یہ شاندار کامیابی بیت المقدس کا راستہ کھولنے کا باعث بنی، جو تقریباً 88 سال سے صلیبیوں کے ناپاک قبضے اور ظلم و ستم کا شکار تھا۔ سلطان نے اپنی فوج کے ساتھ 20 ستمبر 1187ء کو بیت المقدس کا محاصرہ کیا اور پہلے خونریزی سے بچنے کے لیے مذاکرات کی کوشش کی، لیکن جب شہر کے حکمرانوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تو انہوں نے ایک مختصر مگر نہایت ہی فیصلہ کن محاصرہ شروع کیا۔
اور پھر، وہ مبارک گھڑی آ پہنچی! 2 اکتوبر 1187ء، جمعہ کا وہ مقدس دن، جب بیت المقدس کی دیواروں پر بالآخر اسلام کا پرچم ایک فاتحانہ شان کے ساتھ لہرا اُٹھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مسلمانوں کا قبلۂ اول، ان کا دل، ایک بار پھر ان کی آغوش میں آ گیا۔ صلاح الدین ایک فاتح کی طرح شہر میں داخل ہوئے، مگر ان کا کردار تاریخ کے تمام فاتحین سے بالکل مُمتاز اور منفرد تھا؛ انہوں نے ان مظالم کا کوئی بدلہ نہیں لیا جو 1099ء میں صلیبیوں نے شہر پر قبضہ کرتے وقت کیے تھے۔ اس کے برعکس، انہوں نے رحم، انصاف اور لازوال رواداری کی ایک ایسی مثال قائم کی جو انسانیت کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔ ہر مسیحی کو فدیہ دے کر اَمان دی گئی، اور جو غریب فدیہ ادا نہیں کر سکتے تھے، ان کا فدیہ سلطان اور ان کے بھائی نے اپنے مال و متاع سے ادا کیا۔
فتح کے فوراً بعد، سلطان نے سب سے پہلے مسجد اقصی کو عرقِ گلاب سے دھلوایا اور اسے عیسائیوں کے نشانات سے پاک کیا۔ پھر، انہوں نے اپنے پیشرو، نور الدین زنگی، کا تیار کردہ خوبصورت مِمبَر اپنے ہاتھوں سے مسجد میں نصب کیا، یوں ایک طویل انتظار کی خواہش کو پورا کیا۔



اس فتح کے بعد، بیت المقدس پر تقریباً 761 سال تک مسلمانوں کا عدل و انصاف پر مبنی پرچم لہراتا رہا، جو پہلی جنگِ عظیم کے بعد ختم ہوا۔ صلاح الدین ایوبی کی فتحِ بیت المقدس محض ایک فوجی کامیابی نہیں تھی؛ یہ ایک ایسے حکمران کی داستان ہے جس نے میدانِ جنگ میں شیر جیسی بہادری اور امن کے وقت میں عدل و مساوات کا شاندار نمونہ پیش کیا۔ ان کا نام آج بھی ہر مسلمان کے لیے فخر، غیرت اور لازوال عزم کی علامت ہے، اور ان کی یہ فتح تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ ایک تابندہ ستارے کی طرح چمکتی رہے گی۔










