اے جی چرچ اسکول،آسنسول کے انتظامیہ کو لے کر دو گروپوں کے درمیان جاری تنازع کے دوران ایک فریق (AGNI) کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر پولیس نے اسکول ایڈمیشن گھوٹالے میں مبینہ ایجنٹ لوتس کو گرفتار کر لیا ہے۔ لوتس آسن سول بازار کا تاجر بتایا جاتا ہے اور اس کی جوتوں کی دکان ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ داخلہ ریکیٹ کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا تھا۔
ریوَرینڈ جارج کُٹّی وی سی نے آسن سول اُتر تھانے میں اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرائی۔ ان کا کہنا ہے کہ 23 جولائی کو اے سی پی کے ذریعے ایک خط موصول ہوا جس میں مونیکا ندھی ڈیکروز کی جانب سے کی گئی شکایت اور الزامات شامل تھے، جن میں لوتس کو ایجنٹ بتایا گیا ہے۔ شکایت میں اسکول انتظامیہ کے کئی عہدیداروں کے نام بھی شامل ہیں جن پر اس ریکیٹ میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
جارج کُٹّی وی سی کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں جوائس دیوداس اور وشودیو چٹرجی شامل تھے۔ کمیٹی نے اپنی ابتدائی جانچ میں پایا کہ پانچ طلبہ نے اسکول میں داخلے کے لیے لوتس کو بھاری رقم ادا کی، اور اس پورے معاملے میں اسکول کے کچھ اساتذہ اور اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔
تاہم کچھ روز قبل اے جی چرچ اسکول میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران تحقیقاتی کمیٹی کے رکن جوائس دیوداس نے کہا تھا کہ جانچ کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ ان کے مطابق تفتیش جاری تھی اور اچانک ایف آئی آر کیوں درج کی گئی، یہ واضح نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کمیٹی کے چیئرمین کو کوئی اعتراض تھا تو پہلے اندرونی سطح پر بات کرنی چاہیے تھی۔ جوائس دیوداس نے داخلہ میں بے ضابطگی کے الزامات کو بھی مسترد کیا تھا۔
مزید یہ کہ جب یہ سارا عمل ہوا، اُس وقت اسکول کی پرنسپل کوئی اور تھی، اور یہ سب کچھ ان کے دورِ عمل میں ہوا۔ لیکن اب اس معاملے میں پہلی گرفتاری عمل میں آچکی ہے۔












