Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کپاس کے کسانوں کی مشکلات دیکھ کر دل لرز اٹھا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*کپاس کے کسانوں کی مشکلات دیکھ کر دل لرز اٹھا*

*ریاست تلنگانہ اقتدار کے حصول کے لئے نہیں بلکہ رعیتوں کی بھلائی کے لئے بنی ہے*

*بی جے پی کے مقامی رکن پارلیمان اور رکن اسمبلی مسائل کی یکسوئی کے لئے آواز اٹھائیں*

*صدر تلنگانہ جاگروتی کے کویتا کا عادل آباد میں کاٹن مارکٹ یارڈ کا دورہ۔ کاشتکاروں کے مسائل سے واقفیت*

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے “جنم باٹا” پروگرام کے تحت آج عادل آباد ضلع کا دورہ کیا اور مقامی کاٹن مارکٹ یارڈ میں کپاس کے کاشتکاروں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر کویتا نے کسانوں کے مسائل کو قریب سے دیکھا اور ان کی حالت زار پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔صدر تلنگانہ جاگروتی نے کہا کہ کپاس کے کسانوں کی مشکلات دیکھ کر دل لرز اٹھتا ہے۔ بارشں کے باعث کپاس میں نمی  بڑھ گئی ہے تاہم مرکزی حکومت کے تحت  سی سی آئی صرف وہی کپاس کو خرید رہی ہے جن میں نمی 12 فیصد سے کم ہو۔ اس غیر حقیقت پسندانہ شرط کی وجہ سے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایک گاڑی کپاس پر تقریباً 50 ہزار روپئے  نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں فوری طور پر اس مسئلہ پر توجہ دیں اور 20 تا 25 فیصد نمی والی کپاس کی خریداری کی اجازت دیں تاکہ کسانوں کو راحت مل سکے۔ کویتا نے کہا کہ عادل آباد کے ایم پی اور ایم ایل اے جو بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو مکتوب تحریر کریں اورکپاس کے کسانوں کے حق میں آواز اٹھائیں۔صدرجاگروتی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے مختلف حصوں میں کپاس کے ساتھ ساتھ مکئی، سویا بین اور دھان کے کسان بھی اسی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب بی آر ایس حکومت تھی، اس وقت نمی یا نقص کے باوجود فصلیں خریدی جاتی تھیں، مگر اب کسانوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔کویتا نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ وہ وزیر اعلیٰ کی سطح پر فوری اجلاس طلب کرے اور کسانوں کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست، اقتدار حاصل کرنے کے لئے نہیں بنائی گئی، بلکہ کسانوں کی بھلائی کے لئے بنی ہے۔انہوں نے کہا کہ مارکٹ میں برسر کار تقریباً 70 خاتون ملازمین کو برخاست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس پر انہوں نے کلکٹر سے اپیل کی کہ ان خواتین کی روزی پر ضرب نہ لگائی جائے اور انہیں کام پر برقرار رکھا جائے۔کلواکنٹلہ کویتا نے آخر میں واضح کیا کہ بی جے پی کے قائدین کو صرف بیانات دینے کے بجائے عملی قدم اٹھانا چاہئے۔ کسانوں کے دکھ درد کو سمجھنے کے لئے ان کے کھیتوں تک جانا ہوگا، کیونکہ کسان ہی تلنگانہ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔