آسنسول 25 اگست (پریس ریلیز ): -آواز ضلع کمیٹی میں لئے گئے فیصلے کے مطابق اور حسب اعلان آج آواز ضلع کے اراکین پر مشتعل ایک وفد نے پسچھم بردوان ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کر ضلع کے تعلیمی مسائل اور اسکولوں میں اساتذہ کی گرتی تعداد کی طرف دھیان مبذول کرایا۔واضح ہو کہ آواز ضلع کمیٹی نے ضلع کے تمام ہندی اردو اسکولوں کا سروے کراکر یہ دیکھا ہے کہ ضلعے میں تعلیمی معیار اساتذہ کی کمی کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے ۔یہ جان کر افسوس ہوا کہ ضلع میں ایک ایسا بھی ہندی اسکول ہے جہاں طلبہ و طالبات کی تعداد پانچ ہزار سے بھی زائد ہے لیکن وہاں اساتذہ کی تعداد 30 بھی نہیں ہے ۔اس اسکول میں بچوں کی پڑھائی تو دور کی بات ہے وہاں بچوں کو سنبھالنے میں ہی وقت چلا جاتا ہو گا ۔وفد میں شامل لوگوں نے ڈی ایم صاحب سے اس میں مداخلت کر اساتذہ کی کمی کو دور کرانے،تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی گزارش کی ۔وفد نے ڈی ایم صاحب سے کہا کہ آج ہم لوگ وفد کی شکل میں آئے ہیں،خاطر خواہ نتیجہ برامد نہیں ہونے پر اساتذہ،طلبہ وطالبات نیز گارجین حضرات کو شامل ایک اجتماع کی شکل میں میمورنڈم دیا جائے گا ۔اس وفد میں صدر افتخار نیر ،سکریٹری نعمان اسفر خان کے علاوہ سابق رکن اسمبلی جہان آرا خان، ایڈوکیٹ پرشانت گھوش ،محمد صلاح الدین،ندیم انجم خان،محمد محفوظ،قاضی عزیز الامن، وجئے پاسوان،ڈاکٹر نظر امام،سرفراز عالم،جناب جیتندر اپادھیائے،شیخ عبدالقیوم،تاپس مکھرجی،شیخ ناظر،محمد رفیق الدین،سماجی کارکن محمد کوثر،محمد مہراب وغیرہ اراکین شامل تھے ۔ڈی ایم صاحب نے وفد کو مسائل دور کرانے کا بھروسہ دلایا ساتھ ہی ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف اسکولس کو بھی عرض داشت پیش کرنے کا مشورہ دیا ۔اس عرضداشت کی کاپی وزیر تعلیم مغربی بنگال،ڈائرکٹریٹ آف اسکولس ایجوکیشن مغربی بنگال،کمشنر آف اسکولس ایجوکیشن مغربی بنگال اور ڈی آئی آف اسکول پسچھم بردوان کو بھیجنے کا فیصلہ لیا گیا ۔
اس عرضداشت کے ساتھ جن اسکولوں کا سروے کراکر سمپل کے طور پر دیا گیا ۔وہ حسب ذیل ہیں
اوکھڑا آدرش ہندی ہائی اسکول کل طلبہ 5133 اساتذہ 28
اوکھڑا نہرو ودیا پیٹھ کل طلبہ 750 اساتذہ 13 ،سری پور ہندی ہاٹ ہائی اسکول جموڑیا طلبہ 2815 اساتذہ 25 ،رحمت نگر اردو ہائی اسکول طلبہ 1460 اساتذہ 15 ،علامہ اقبال اردو اکیڈمی انڈال طلبہ 505 اساتذہ 9 ،ربانیہ گرلس ہائی اسکول طالبات 430 اساتذہ 6،عید گاہ ہائی اسکول آسنسول طلبہ 351 اساتذہ 7 ،پرسیا ہندی ہائی اسکول طلبہ 1165 اساتذہ 13،
ملت گرلس ہائی اسکول کلٹی طالبات 1680 اساتذہ 12،انجمن گرلس ہائی اسکول رانی گنج طلبہ 1340 اساتذہ 10 ،رحمانیہ ہائی اسکول آسنسول طلبہ 2125 اساتذہ 30 ،حاجی قدم رسول ہائی اسکول آسنسول 2235 اساتذہ 28 ،رانی گنج ہندی گرلس ہائی اسکول طالبات 900 اساتذہ 10 ،بسنتی دیوی گو ءینکا ہائی اسکول طالبات 1531 اساتذہ 32 ،مارواڑی سناتن ودیاپیٹھ رانی گنج طلبہ 1937 اساتذہ 24 ،ہندی ہندو ہائی اسکول انڈال طلبہ 1052 اساتذہ 22 ،رانی گنج میونسپل ہندی پرائمری اسکول طلبہ 425 اساتذہ 5 ،تال پوکھریا اردو جونیئر ہائی اسکول طلبہ 95 گیسٹ ٹیچر 2 ،جوڑیا بوائے ہائی اسکول طلبہ1015 اساتذہ 14 ،جوڑیا گرلس ہندی ہائی اسکول طالبات 1102 اساتذہ 10،مہاتما گاندھی ہندی ہائی اسکول طلبہ برن پور طلبہ 1530 اساتذہ 27 ،جے کے نگر ہندی ہائی اسکول طلبہ 3000 اساتذہ 35 ان اسکولوں کے علاوہ اور بھی اسکولوں کا سروے جمع کیا گیا ۔جن پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ۔

رائیٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کے مطابق ہر 40 طلبہ و طالبات پر ایک استاد کا ہونا لازمی ہے وہاں ضلع کے ذیادہ تر اسکولوں میں اس قانون کے مطابق اساتذہ نہیں ہیں ۔کہیں کہیں تو ایک سو طلبہ وطالبات پر بھی ایک ٹیچر نہیں ہے ۔اسی بات کو مرکز بنا کر یہ عرض داشت سونپا گیا ہے.
















