*گودی میڈیا کا زوال: نفرت کے 11 سال اور حزب اختلاف کا ناگزیر بائیکاٹ*
*(نریندر مودی دور میں میڈیا کنٹرول کی حکمت عملی اور صحافت کا معیار)*
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
بھارت کی جمہوریت آج نکتہء عروج و زوال پر کھڑی ہے جہاں اس کا چوتھا ستون، یعنی میڈیا، اپنی بنیادوں سے ہل چکا ہے اور اس کا وقار اور اعتبار تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ گزشتہ 11 سال، بالخصوص 2014 میں نریندر مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، بھارتی صحافت کے لیے ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتے ہیں، جس میں ایک بڑا حصہ میڈیا کا، جسے اب “گودی میڈیا” (Lapdog Media) کے نام سے جانا جاتا ہے، حکومت کے ترجمان اور اس کے نظریاتی ایجنڈے کے سب سے بڑے مبلغ کے طور پر ابھرا ہے۔ اسی تاریک پس منظر میں، حزب اختلاف کے ‘انڈیا’ اتحاد کا 14 ٹی وی اینکرز کے پروگراموں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کوئی اچانک یا غیر جمہوری اقدام نہیں، بلکہ اس نظام کے خلاف ایک طویل عرصے سے پکنے والے غصے کا اظہار اور ایک ناگزیر اور قابلِ تحسین قدم ہے۔ یہ بائیکاٹ دراصل صحافت پر حملہ نہیں، بلکہ صحافت کے نام پر گزشتہ ایک دہائی سے منظم طریقے سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے، جھوٹ اور نفرت کے خلاف ایک واضح اعلانِ جنگ ہے۔
2014 کے بعد منظر نامہ ڈرامائی طور پر تبدیل ہوا۔ نئی حکومت نے میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک کثیر جہتی حکمت عملی اپنائی۔ پہلا اور سب سے مؤثر ہتھیار کارپوریٹ کنٹرول تھا؛ حکومت کے قریب سمجھے جانے والے بڑے صنعتی گھرانوں نے یکے بعد دیگرے میڈیا ہاؤسز کو خریدنا شروع کیا، جس کی سب سے بڑی مثال اڈانی گروپ کے ہاتھوں NDTV جیسے غیر جانبدار چینل کا حصول تھا، جو کبھی آزاد صحافت کا آخری قلعہ سمجھا جاتا تھا۔ دوسرا ہتھیار معاشی دباؤ تھا؛ سرکاری اشتہارات کو ایک انعام کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ فرمانبردار چینلز کو نوازا جا سکے اور تنقیدی آوازوں کو معاشی طور پر کمزور کیا جا سکے۔ تیسرا، کلیدی ادارتی عہدوں پر نظریاتی طور پر ہم آہنگ صحافیوں کو تعینات کیا گیا اور پرانی نسل کے ان ایڈیٹرز کو باہر کا راستہ دکھایا گیا جو حکومت کی ہندوتواوادی سیاست پر تنقیدی نظریہ رکھتے تھے۔
گزشتہ 11 سالوں میں گودی میڈیا کا بنیادی کردار نفرت کو ادارہ جاتی شکل دینا اور اسے معاشرے کی رگوں میں اتارنا رہا ہے۔ اس کا طریقہ کار نہایت منظم اور مؤثر رہا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ہدف ملک کی سب سے بڑی اقلیت، یعنی مسلمان، رہے ہیں۔ ہر واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا ان کا معمول بن چکا ہے۔ کورونا وبا کے ابتدائی دنوں میں جب حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام ہو رہی تھی، تو ان ہی چینلز نے #CoronaJihad جیسے ہیش ٹیگز کے ساتھ تبلیغی جماعت کو بدنام کر کے پوری ناکامی کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑ دیا۔ جس دن ملک کی جی ڈی پی میں تاریخی گراوٹ کی خبر آئی، اسی رات پرائم ٹائم پر بحث کا موضوع سوشانت سنگھ راجپوت کیس تھا، تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔ طلباء، سماجی کارکنوں اور حکومت کے ناقدین کو بدنام کرنے کے لیے “ٹکڑے ٹکڑے گینگ” اور “اربن نکسل” جیسی اصطلاحات کو مقبول بنایا گیا۔ ان کا مقصد معاشرے کو “ہم” (قوم پرست ہندو) اور “وہ” (ملک دشمن مسلمان اور لبرل) کے دو ناقابل مصالحت کیمپوں میں تقسیم کرنا تھا، اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب رہے۔
بائیکاٹ کے مخالفین کا استدلال ہے کہ یہ اقدام سیاسی مایوسی کا نتیجہ اور میڈیا کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق، حزب اختلاف ان صحافیوں سے احتساب سے بھاگ رہی ہے جو ان سے سخت سوالات پوچھتے ہیں۔ تاہم، یہ دلیل دو وجوہات کی بنا پر کمزور پڑ جاتی ہے۔ اول، ان اینکرز کے پروگراموں کا مواد گواہ ہے کہ وہاں سوالات کے بجائے الزامات اور کردار کشی کا غلبہ ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق، ریپبلک ٹی وی کے 70 فیصد مباحثوں میں حزب اختلاف کو منفی انداز میں پیش کیا گیا۔ دوم، سوال پوچھنا صحافت کا حق ہے، لیکن نفرت پھیلانا اور معاشرے کو تقسیم کرنا صحافت نہیں، پروپیگنڈا ہے۔ نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی (NBDSA) نے خود کئی بار ان چینلز پر نفرت انگیز مواد نشر کرنے پر جرمانے عائد کیے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ محض سیاسی الزام تراشی نہیں ہے۔
ایسے زہریلے ماحول میں، حزب اختلاف کے پاس اس تماشے کا حصہ بننے سے انکار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ ان نفرت انگیز مباحثوں میں شرکت کر کے وہ نہ صرف اپنی تذلیل کروا رہے تھے، بلکہ گودی میڈیا کے اس متعصبانہ نظام کو قانونی حیثیت بھی فراہم کر رہے تھے۔ حکمران جماعت کا اس فیصلے کو “میڈیا کی آزادی پر حملہ” اور “ایمرجنسی کی ذہنیت” قرار دینا اس وقت اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتا ہے جب ہم ان کے اپنے ماضی کو دیکھتے ہیں، جہاں انہوں نے خود درجنوں صحافیوں اور چینلز کا بائیکاٹ کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں میڈیا کی آزادی پر سب سے بڑا اور منظم حملہ اسی حکومت کے دور میں ہوا ہے، جس کا ثبوت پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت کی مسلسل گرتی ہوئی درجہ بندی ہے۔ ڈینک بھاسکر اور نیوز لانڈری جیسے اداروں پر انکم ٹیکس کے چھاپے اس کی واضح مثالیں ہیں، جو تنقیدی رپورٹنگ کی سزا کے طور پر دیکھے گئے۔
آخر میں، حزب اختلاف کا یہ بائیکاٹ ایک درست اور ضروری قدم ہے، لیکن اصل چیلنج اس خلا کو آزاد اور متبادل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پُر کرنا ہے۔ یہ اقدام ایک اہم انتباہی گھنٹی ہے ان تمام صحافیوں کے لیے جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو فراموش کر کے اقتدار کی چاپلوسی اور چاٹو کاریتا کو ہی صحافت سمجھ بیٹھے ہیں۔ صحافت کو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ اور وقار کو بحال کرنے کے لیے خود احتسابی کے کٹھن عمل سے گزرنا ہوگا۔ تاہم، یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا حزب اختلاف محض احتجاج سے آگے بڑھ کر ایک صحت مند میڈیا ایکو سسٹم کی تعمیر میں بھی کوئی کردار ادا کرے گی، یا یہ قدم بھی محض ایک وقتی سیاسی حکمت عملی بن کر رہ جائے گا؟ بھارتی جمہوریت کی بقا اب عوام کی بیداری اور آزاد میڈیا کی حمایت سے وابستہ ہے، تاکہ نفرت کے سوداگروں کو شکست دی جا سکے اور ملک کو مزید تقسیم سے بچایا جا سکے۔










