Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*غزالہ ہاشمی: وہ شمع جو اندھیروں میں روشن ہوئی*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*غزالہ ہاشمی: وہ شمع جو اندھیروں میں روشن ہوئی*

*(جب شناخت رکاوٹ نہیں، طاقت بن گئی)*

ازقلم: *اسماء جبین فلک*

نومبر 2025 کے امریکی انتخابات کی گونج جب دنیا بھر میں سنی گئی، تو تمام تر چکاچوند نیویارک کے نو منتخب میئر، زہران ممدانی کی تاریخی فتح نے سمیٹ لی۔ بلاشبہ، ان کی کامیابی ایک عہد ساز لمحہ تھا، ایک ایسا لمحہ جس نے شہر کے سیاسی منظرنامے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ لیکن اسی دوران، ورجینیا کی سیاست میں ایک اور خاموش، مگر اتنی ہی گہری اور معنی خیز تاریخ رقم ہو رہی تھی۔ یہ کہانی ڈاکٹر غزالہ ہاشمی کی تھی، ایک ایسی خاتون کی جس نے اپنی زندگی کے 30 سال کلاس روم میں ادب پڑھاتے گزارے اور پھر سیاست کے میدان میں اتر کر ریاست کی پہلی مسلم خاتون لیفٹیننٹ گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی جیت صرف ایک انتخابی اپ سیٹ نہیں تھی، یہ امریکی سیاست میں تدبر، پالیسی اور ایک جامع شناخت کی اس خاموش طاقت کا مظہر تھی جو نفرت انگیز بیان بازی کے بلند آہنگ شور پر غالب آ رہی تھی۔ یہ ان کی ذاتی قابلیت اور ورجینیا میں بدلتی ہوئی آبادیاتی لہر کا ایک حسین امتزاج تھا، جس نے عالمی سطح پر مسلم خواتین کے بارے میں قائم دقیانوسی تصورات کو چیلنج کیا اور تعلیم کی طاقت کو ایک نئی سیاسی جہت عطا کی۔
ان کی کامیابی کی بنیاد ان کی گہری علمی پرورش میں پیوست ہے۔ حیدرآباد، بھارت میں جنم لینے کے بعد وہ محض 4 سال کی عمر میں امریکہ پہنچیں، جہاں ان کے والد خود ایک پروفیسر تھے۔ کتابوں، علمی مباحث اور فکری آزادی کے اسی ماحول نے ان کی شخصیت کو وہ گہرائی اور ٹھہراؤ بخشا جو آج ان کی سیاست میں نمایاں ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 30 سال ورجینیا کے کمیونٹی کالج نظام (سسٹم) میں ایک ممتاز ماہرِ تعلیم کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں وہ نہ صرف ادب کی پروفیسر رہیں بلکہ مختلف انتظامی عہدوں پر فائز ہو کر ہزاروں طلباء کے مستقبل کو تشکیل دینے میں بھی مددگار ثابت ہوئیں۔ یہی پس منظر تھا جس نے ان کی سیاست کو ایک منفرد رنگ دیا۔ وہ مسائل کو ایک معلمہ کی نظر سے دیکھتی ہیں: پہلے مسئلے کو سمجھنا، اس کی جڑوں تک پہنچنا، تمام زاویوں کا تجزیہ کرنا، اور پھر اس کے قابلِ عمل حل تلاش کرنا۔ یہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جو سیاسی نعرے بازی اور شخصیت پرستی سے یکسر مختلف ہے۔
اکتوبر کے آخری ہفتے، ورجینیا کے ایک دیہی قصبے کے کمیونٹی ہال میں ماحول تناؤ زدہ تھا۔ غزالہ ہاشمی کوئلے کی صنعت سے وابستہ ایک سفید فام کان کن کے تند و تیز سوالات کا سامنا کر رہی تھیں۔ وہ شخص ماحولیاتی پالیسیوں پر غزالہ کے موقف سے نالاں تھا، اسے خدشہ تھا کہ یہ پالیسیاں اس کا روزگار چھین لیں گی۔ ہال میں حامیوں کے جوش اور کیمروں کی چکاچوند کے برعکس، غزالہ نے تحمل سے اس کی بات سنی۔ ان کے چہرے پر کوئی گھبراہٹ نہیں تھی، صرف تفہیم اور ہمدردی تھی۔ پھر انہوں نے کوئلے کی معیشت کے زوال کو محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر عالمی اقتصادی تبدیلی سے جوڑا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی قوتیں روایتی صنعتوں کو ختم کر رہی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے قابلِ تجدید توانائی میں کارکنوں کی دوبارہ تربیت کے لیے اپنے 10 نکاتی منصوبے کی تفصیلات بتانا شروع کیا۔ انہوں نے نعرہ نہیں لگایا، صرف اعداد و شمار، حقائق اور ایک قابلِ عمل منصوبہ پیش کیا۔ اس ایک منظر میں ان کی پوری سیاسی شخصیت کا خلاصہ موجود تھا: ایک پروفیسر جو مسائل کو سمجھتی ہے، ایک منتظم جو حل پیش کرتی ہے، اور ایک رہنما جو تقسیم پر نہیں، مکالمے پر یقین رکھتی ہے۔
تاہم، ان کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ سیاست کا خارزار کلاس روم کی پرسکون دنیا سے بہت مختلف ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری میں انہیں پارٹی کے زیادہ ترقی پسند دھڑے کی طرف سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا، جن کا خیال تھا کہ غزالہ کا موقف قدرے زیادہ معتدل ہے۔ ان کی انتخابی مہم کی سابق مینیجر، سارہ ولیمز، یاد کرتی ہیں، “سب سے بڑا چیلنج مالی معاونت (فنڈنگ) تھا۔ ہمیں قومی سطح کے امداد دہندگان (ڈونرز) کو یہ باور کرانا پڑا کہ ایک ‘مسلم پروفیسر’ ورجینیا جیسے سوئنگ ریاست میں انتخاب جیت سکتی ہے۔ ہم پر ‘لبرل ایلیٹ’ ہونے کے الزامات بھی لگے، جس کا توڑ کرنے کے لیے غزالہ نے ورجینیا کے دیہی علاقوں میں دوگنا وقت گزارا اور لوگوں سے براہِ راست بات کی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ صرف ایک شہری دانشور نہیں، بلکہ ہر ورجینیائی کی آواز ہیں۔”
اس پورے سفر میں، غزالہ ہاشمی کے لیے ان کی اسلامی اور جنوبی ایشیائی شناخت کبھی رکاوٹ نہیں بنی۔ اس کے برعکس، انہوں نے اسے ہمیشہ فخر اور وقار کے ساتھ اپنی شخصیت کا حصہ بنائے رکھا۔ ایک ایسے سیاسی ماحول میں جہاں شناخت کو اکثر ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، غزالہ کا رویہ نہایت متوازن اور پختہ تھا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے بارہا کہا، “میری شناخت کے کئی پہلو ہیں، میں ایک ماں ہوں، ایک معلمہ ہوں، ایک ورجینیائی ہوں، اور ہاں، میں ایک مسلم امریکی بھی ہوں۔ یہ تمام شناختیں مل کر میری ذات کی تکمیل کرتی ہیں۔” انہوں نے اپنی شناخت کو نہ تو سیاسی فائدے کے لیے بیچا اور نہ ہی مخالفین کے حملوں کے ڈر سے اسے چھپایا۔ انہوں نے اسے ایک ایسی حقیقت کے طور پر پیش کیا جو جدید امریکہ کی کثیر الثقافتی تصویر کا ایک لازمی اور خوبصورت جزو ہے۔ یہ رویہ ان کی گہری خود اعتمادی اور فکری پختگی کی علامت ہے۔
عالمی سطح پر، غزالہ ہاشمی کی جیت نے مسلم خواتین کے بارے میں قائم دقیانوسی تصورات پر ایک کاری اور فیصلہ کن ضرب لگائی ہے۔ قاہرہ میں قائم “عرب خواتین برائے جمہوریت” (عرب ویمن فار ڈیموکریسی) نامی تنظیم کی ڈائریکٹر، ہالہ مصطفیٰ، نے ایک ای میل انٹرویو میں کہا، “جب مغرب میں ایک مسلم خاتون اپنے ترقی پسند خیالات کے ساتھ، اور اپنی خالص اہلیت کی بنیاد پر اعلیٰ عہدے پر پہنچتی ہے، تو یہ ان قدامت پسند اور انتہا پسند، دونوں طرح کے بیانیوں کو کمزور کرتا ہے جو عورت کو مذہب کی آڑ میں پیچھے رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ کہنے کی طاقت دیتا ہے کہ اسلام اور خواتین کی قیادت میں کوئی تضاد نہیں۔” بھارت کے معروف اخبار “دی ہندو” نے اپنے اداریے میں لکھا کہ “غزالہ کی کامیابی ان بھارتی تارکین وطن کی دوسری نسل کی کہانی ہے جو امریکی خواب کو نئی تعریف دے رہے ہیں، جہاں شناخت رکاوٹ نہیں، بلکہ ایک اضافی قوت بن جاتی ہے۔” یہ جیت ان لاکھوں لڑکیوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے جو اپنی آنکھوں میں بڑے خواب سجائے ہوئے ہیں، لیکن معاشرتی دباؤ اور فرسودہ روایات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
یہ کہانی بالآخر تعلیم کی طاقت کی کہانی ہے۔ یہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ جب ایک عورت کو علم اور مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدلتی ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی تبدیلی کا ایک طاقتور محرک بنتی ہے۔ جارج میسن یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم 22 سالہ فاطمہ احمد کہتی ہیں، “میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار کسی سیاستدان کو ‘شواہد پر مبنی پالیسی’ (evidence-based policy) کی اصطلاح اتنے تواتر اور سادگی سے استعمال کرتے سنا۔ وہ ہمارے لیے ایک رول ماڈل ہیں، نہ صرف اس لیے کہ وہ ایک مسلم خاتون ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ ذہانت، علم اور تدبر کو سیاست کا مرکز بناتی ہیں۔ وہ ثابت کرتی ہیں کہ آپ کو بلند آواز ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کی دلیل میں وزن ہونا چاہیے۔”
غزالہ ہاشمی نے ورجینیا میں تو کامیابی حاصل کر لی ہے، لیکن ان کی اصل آزمائش اب شروع ہوگی۔ کیا وہ اپنے پالیسی اہداف کو ایک منقسم ریاستی اسمبلی سے منظور کروا پائیں گی؟ کیا وہ صحت، تعلیم اور ماحولیات کے شعبوں میں وہ ٹھوس تبدیلیاں لا سکیں گی جن کا انہوں نے وعدہ کیا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال، کیا ان کی شمولیت اور تدبر پر مبنی سیاست قومی سطح پر امریکہ کی گہری اور زہریلی سیاسی تقسیم کا کوئی قابلِ عمل حل پیش کر سکتی ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔ تاہم، ورجینیا کے اس کمیونٹی ہال میں موجود اس کان کن کے چہرے پر غزالہ کی بات سننے کے بعد جو تفہیم اور غور و فکر کے آثار تھے، وہ اس امید کی ایک جھلک ضرور فراہم کرتے ہیں کہ شاید مکالمے کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔ شاید سیاست صرف ایک جنگ کا نام نہیں، بلکہ ایک مشترکہ مستقبل کی تعمیر کا فن بھی ہے۔ اور اس فن میں، ایک پروفیسر کا علم اور ایک عورت کا تدبر، سب سے طاقتور اوزار ثابت ہو سکتے ہیں۔