Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*لوک پال کے ٹھاٹھ: امرت کال میں سیوا کا میوہ (طنز و مزاح)*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*لوک پال کے ٹھاٹھ: امرت کال میں سیوا کا میوہ (طنز و مزاح)*

بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

ہمارے دادا مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ قناعت اور غربت میں وہی فرق ہے جو خودداری اور خودکشی میں ہوتا ہے۔ قناعت امیروں کا زیور اور غریبوں کا بھرم ہے، جبکہ غربت فقط ایک مجبوری کا نام ہے جسے شاعروں نے خواہ مخواہ رومانوی بنا رکھا ہے۔ وہ کفایت شعاری کو نصف ایمان گردانتے تھے اور ان کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ بسا اوقات دفتر سے ملنے والے نئے قلم کو بھی فوراً استعمال میں نہ لاتے، بلکہ پرانے قلم میں اس وقت تک جان ڈالتے رہتے جب تک اس کی آخری ہچکی نہ بندھ جاتی۔ کہتے تھے، “میاں، یہ قومی امانت ہے۔ اس کی سیاہی نہیں، ہمارے ٹیکس کا پیسہ ہے جو قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے۔” ابا مرحوم کو کیا خبر تھی کہ ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب قومی امانت کی تعریف بدل جائے گی اور اس کے رکھوالوں کے ٹھاٹھ ایسے ہوں گے کہ قارون بھی اپنی دولت کی نمائش پر نادم ہو جائے۔
آج کل ہر طرف ’امرت کال‘ کا بڑا شہرہ ہے۔ ریڈیو کھولیے تو امرت کال، ٹی وی لگائیے تو امرت کال، اخبار اٹھائیے تو جلی حروف میں امرت کال کی نوید۔ سنا ہے کہ اس دور میں ہر شے امرت یعنی آبِ حیات ہو چکی ہے۔ ہمیں تو اپنے نلکے کے پانی کے ذائقے میں کوئی خاص تبدیلی محسوس نہیں ہوئی، مگر شاید یہ امرت صرف ان برگزیدہ ہستیوں کے لیے مخصوص ہے جن کے کاندھوں پر اس دور کو کامیاب بنانے کا بوجھ ہے۔ اور ظاہر ہے، جو کندھے اتنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں، ان کے آرام و آسائش کا خیال رکھنا بھی تو قوم ہی کا فرض ہے۔ پرانے وقتوں کے قاضی اور حاکم بھیس بدل کر گلیوں کا گشت کرتے تھے تاکہ رعایا کی نبض پر ہاتھ رکھ سکیں۔ ان کی سواری عموماً ان کے اپنے دو ناتواں پیر ہوا کرتے تھے۔ مگر وہ دقیانوسی باتیں تھیں، جب حاکم اور محکوم میں فرق صرف ذمہ داری کا تھا، سواری کا نہیں۔ اب تو صاحب، حاکم کی سواری جتنی تیز رفتار اور شاندار ہو گی، ملک اتنی ہی تیزی سے ترقی کرے گا۔ یہ نیا عمرانی معاہدہ ہے جس پر ہم سب نے انگوٹھا لگا دیا ہے۔
اسی امرت کال کی برکتوں میں سے ایک برکت ’لوک پال‘ کی صورت میں بھی نازل ہوئی۔ برسوں کی عوامی جدوجہد، نعرے بازیوں، بھوک ہڑتالوں اور جمہوریت کے آنسوؤں کے بعد قوم کو یہ مژدہ سنایا گیا کہ بدعنوانی کے جن کو بوتل میں بند کرنے والا ’عوام کا رکھوالا‘ تشریف لا چکا ہے۔ ہم جیسے سادہ لوح عوام نے بھی شکرانے کے نفل پڑھے کہ چلو، اب انصاف ہو گا، اب بڑے بڑے مگرمچھ قانون کے جال میں پھنسیں گے۔ دل میں ایک ٹھنڈک سی اتر گئی۔ مگر حال ہی میں ایک خبر نظر سے گزری تو دل کی ٹھنڈک، دماغ کی گرمی میں بدل گئی۔ خبر تھی کہ اس ’عوام کے رکھوالے‘ ادارے کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے 7 عدد نئی نویلی، چمچماتی ہوئی بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کی اشد ضرورت آن پڑی ہے۔ کل مالیت فقط 5.5 کروڑ روپے ہے۔ یہ خبر پڑھ کر ہمیں اپنی کم علمی اور پرانی سوچ پر شدید افسوس ہوا۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ بدعنوانی کا خاتمہ نیک نیتی، قانون کی حکمرانی اور سادگی سے ہوتا ہے۔ اب عقدہ کھلا کہ اس کارِ خیر کے لیے جرمن انجینئرنگ، اطالوی چمڑے کی نشستیں اور کم از کم 6 عدد ایئر بیگ لازم و ملزوم ہیں۔
ہماری چشمِ تصور نے فوراً اس اجلاس کا نقشہ کھینچ لیا جہاں یہ تاریخ ساز فیصلہ ہوا ہو گا۔ ایک وسیع و عریض، ٹھنڈے کمرے میں افسرانِ بالا، جن کے چہروں پر قومی سلامتی کی گہری فکر کے آثار نمایاں تھے، براجمان ہوں گے۔ ایک صاحب نے نہایت متانت سے گلا صاف کرتے ہوئے فرمایا ہو گا، “حضرات! ہمیں بدعنوان عناصر پر ذہنی برتری قائم کرنی چاہیے۔ جب ہمارا قافلہ اپنی پوری شان و شوکت سے گزرے گا تو بدعنوان افسر کے دل پر ہیبت طاری ہو جائے گی۔” دوسرے صاحب، جو شاید زیادہ عملیت پسند تھے، بولے، “بالکل! اور پھر قومی وقار کا بھی سوال ہے۔ کیا دنیا کہے گی کہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت کا انسدادِ بدعنوانی ادارہ ایسی گاڑیوں میں پھرتا ہے جن میں پیر رکھنے کی جگہ بھی پوری نہیں؟” ایک تیسرے بزرگ، جن کے سفید بال ان کے تجربے کے غماز تھے، گویا ہوئے، “اور جناب، یہ ایک طویل جنگ ہے۔ ہمارے افسران کو آرام دہ نشستوں کی ضرورت ہے تاکہ ان کے دماغ تازہ دم رہیں اور وہ قوم کے لیے بہترین فیصلے کر سکیں۔ تھکے ہوئے دماغ سے آپ بدعنوانی نہیں، صرف سمجھوتے کر سکتے ہیں۔” بس پھر کیا تھا! تالیوں کی گونج میں متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور ہوئی کہ قومی وقار، فرض کی انجام دہی اور انصاف کی بالادستی کے لیے بی ایم ڈبلیو سے کم پر راضی ہونا دراصل بدعنوانوں کے حوصلے بلند کرنے کے مترادف ہے۔
اور پھر اس ادارے کی سربراہی بھی تو کوئی ایسی ویسی شخصیت نہیں فرما رہیں۔ جناب جسٹس اے ایم خانویلکر صاحب! ان کی پوری پیشہ ورانہ زندگی اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ قابلیت اگرچہ اچھی شے ہے، مگر کارگزاری اور کرم نوازی کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ان کے نزدیک ’سیوا‘ یعنی خدمت کا مفہوم اب وہ نہیں رہا جو گاندھی جی کے ہاں تھا۔ اب سیوا کا تقاضا ہے کہ آپ کی نظر کرم فرماؤں کی ہر ادا پر ہو اور آپ کا ہر فیصلہ ان کی منشا کا آئینہ دار ہو۔ ایسے خدمت گزار کے لیے تو یہ بی ایم ڈبلیو بھی شاید کم ہے۔ یہ حضرات کوئی معمولی بابو نہیں، بلکہ بدعنوانی کے خلاف ایک مقدس جنگ لڑنے والے سپہ سالار ہیں۔ اور جنگیں، حضور، ٹاٹ کی بوریوں پر بیٹھ کر نہیں لڑی جاتیں۔
ہماری ناقص رائے میں تو یہ تجویز بھی قومی وقار کے منافی ہے۔ ارے صاحب، جس ملک کے بدعنوان عناصر ذاتی ہوائی جہازوں میں پھرتیاں دکھاتے ہوں، وہاں ان کا پیچھا گاڑیوں میں کرنا تو سراسر حماقت ہے۔ ان سپہ سالاروں کے لیے تو فوری طور پر کم از کم ایک درجن اپاچی ہیلی کاپٹروں کا بندوبست ہونا چاہیے۔ سوچیے تو، جب لوک پال کا ہیلی کاپٹر کسی بدعنوان وزیر کی چھت پر منڈلائے گا تو اس پر کیا گزرے گی! اس سے قومی وقار بھی میزائل کی طرح بلندیوں کو چھوئے گا اور بدعنوان عناصر پر ایسی دہشت طاری ہو گی کہ وہ کالا دھن سفید کروانے سے پہلے بھی 10 بار سوچیں گے۔ اور ان ہیلی کاپٹروں پر جلی حروف میں یہ عبارت کندہ ہونی چاہیے: “قوم کی امانت، اب عوام پر قیامت!” اس سے عوام کو بھی اپنی حیثیت یاد رہے گی اور رکھوالوں کو بھی بار بار اپنی ضروریات کا جواز نہیں دینا پڑے گا۔
اور یہ المیہ صرف ایک ادارے کا نہیں۔ یہ تو وہ دیمک ہے جو ہمارے تمام جمہوری ستونوں کو اندر ہی اندر سے چاٹ گئی ہے۔ وہ ادارے جو کبھی حکومت کے دانت کھٹے کرنے والے ’نگہبان‘ کہلاتے تھے، اب حکومت کی مخملی گود میں بیٹھے، بسکٹ کے ٹکڑوں پر دم ہلانے والے ’گود کے کتے‘ بن چکے ہیں۔ ان کا کام اب چوروں کو بھگانا نہیں، بلکہ مالک کے اشارے پر ان مہمانوں کو بھونک کر ڈرانا رہ گیا ہے جنہیں مالک پسند نہیں کرتا۔ افلاطون نے صدیوں پہلے سوال اٹھایا تھا کہ کیا محافظوں کا گھر ان گھروں سے بڑا اور شاندار ہونا چاہیے جن کی وہ حفاظت کرتے ہیں؟ مگر وہ سب ’دارالامان‘ کے زمانے کی باتیں تھیں۔ اب امرت کال ہے، جس کا نیا فلسفہ یہ ہے کہ چرواہے کی لاٹھی جتنی سونے کی ہو گی، بھیڑیں اتنی ہی محفوظ اور خوش حال رہیں گی۔ بھیڑیں بھلے بھوک سے نڈھال ہوں، مگر ان کے پالن ہار کی جرمن گاڑی پر دھول کا ایک ذرہ بھی نظر نہ آئے۔ آخر میں ہم جیسے پرانی وضع کے لوگ، جو اب تک یہی سمجھتے آئے ہیں کہ نگہبان کی آنکھ بیدار اور نیت صاف ہونی چاہیے، بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ حضور، آپ کے ٹھاٹھ سلامت رہیں! ہم تو بس دور سے آپ کی چمچماتی گاڑیوں کو دیکھ کر خوش ہو لیا کریں گے کہ چلو، ہمارے ٹیکس کا پیسہ کسی اچھے کام میں تو لگ رہا ہے۔