درگاپور کے وارڈ نمبر 8 میں واقع تال تلا بستی می اسپیشل انٹینسیو ریویژن 2025 (ایس آئی آر ) کے سلسلے میں اچانک خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بستی کے بیشتر خاندان اپنے گھروں کو مقفل کرکے فرار ہوگئے ہیں۔ اندازاً 60 فیصد مکانوں پر تالے لٹک رہے ہیں۔
یہ بستی پرانتیکا بس اسٹینڈ کے قریب واقع ہے اور یہاں کے بھنگار والے (پُرانا لوہا اور ٹین کی چیزیں خریدنے والے اسکریپ ڈیلر) اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ لیکن گزشتہ چند دنوں سے ان کا مرکزی اڈہ سنسان پڑا ہے، سڑک کنارے ان کی سائیکل وین زنجیروں سے بندھ کر تالہ بند ہیں، جبکہ کئی گھروں کے دروازوں پر بھی تالے جھول رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ یہاں کے بیشتر بھنگار والے درگاپور کے مستقل باشندے نہیں ہیں بلکہ ان میں زیادہ تر مرشدآباد، بیر بھوم اور دیگر اضلاع سے آئے ہوئے مزدور ہیں۔ جیسے ہی ان کے آبائی گاؤں میں اطلاع پہنچی کہ بی ایل او گھر گھر جاکر ووٹر فہرست کی جانچ کر رہے ہیں، لوگ گھبرا گئے۔ کہا جارہا ہے کہ 2002 کی ووٹر لسٹ سے ناموں کی تصدیق اور اینومریشن فارم جمع کرانے کی کارروائی نے لوگوں کو پریشان کردیا۔ افواہوں کے مطابق اگر فارم جمع نہ کرایا گیا تو شہریت پر خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی لوگ اپنے گاؤں واپس جاکر کاغذی کارروائی میں مصروف ہوگئے ہیں۔ جن افراد کے ووٹر کارڈ تال تلا بستی کے پتے پر بن چکے ہیں، وہ اب بھی بستی میں موجود ہیں، مگر باقی لوگ خوف کے مارے علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ این آر سی اور سی اے اے سے متعلق پھیلی افواہوں نے عوام میں شدید خوف پیدا کردیا ہے۔ اس وقت بستی میں سنّاٹا چھایا ہوا ہے اور انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس گشت میں اضافہ کردیا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوال اُٹھاتا ہے کہ غیر مستقل شہریوں اور مزدور طبقے میں شہریت سے متعلق خدشات کس حد تک گہرے ہیں۔





