بالاسور 14 نومبر:اُڈیسا کی نواپاڑہ اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب اور ساتھ ہی بِہار اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شاندار کارکردگی کے بعد ملک بھر میں بی جے پی کارکنان خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں بالاسور صدر اسمبلی حلقہ کے بی جے پی کارکنوں نے بھرپور جیت کا جشن منایا۔بالاسور کے جیل روڈ واقع پارٹی دفتر کے سامنے سیکڑوں کارکنان اور حامی جمع ہوئے اور ڈھول باجے، آتش بازی اور نعروں کے ساتھ پارٹی کی تاریخی جیت کا جشن منایا۔ اس موقع پر صدر حلقے کے ایم ایل اے مانس کمار داتّا نے شرکت کرتے ہوئے کہا کہ نواپاڑہ اور بِہار دونوں مقامات پر بی جے پی کی فتح ’’اڑیہ قیادت کی طاقت‘‘ کا بین ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ نواپاڑا میں ریکارڈ 84 ہزار سے زائد ووٹوں کے تاریخی فرق سے بی جے پی اُمیدوار جے ڈھولکیا کی جیت اور بِہار انتخابات میں پارٹی کی شاندار کامیابی پچھلے 25 سالوں میں اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے اس جیت کو اڈیسا کے مقبولِ عام وزیرِاعلیٰ موہن چرَن ماجھی کی محض ڈیڑھ سال کی مُدت میں عوامی فلاح کے ہزاروں اقدامات کا نتیجہ بتایا۔ایم ایل اے مانس داتّا نے مزید کہا کہ بیجو جنتا دل کی پوری کوششوں کے باوجود نواپاڑہ کے عوام نے بی جے پی کو بے مثال حمایت دے کر وزیرِاعلیٰ ماجھی کی عوامی مقبولیت کو ثابت کر دیا ہے۔انہوں نے مرکزی وزیر دھرمندر پردھان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی، وزیرِداخلہ امیت شاہ اور دیگر مرکزی قیادت کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے انہوں نے بِہار انتخابی مہم میں نہایت مضبوط اور کامیاب قیادت فراہم کی، جس کے نتیجے میں پارٹی نے 90 فیصد سے زیادہ کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے بے شمار کارکنوں کی نِسوارث محنت اور لاکھوں حامیوں کی محبت نے اس تاریخی کامیابی کو ممکن بنایا ہے۔ ایم ایل اے دتّہ نے نواپاڑا اور بِہار کے عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر دیگر معززین جن میں شامل ہیں: ربینا رائن مہاپاترا، پرشورام بہیرا، گورانگ داس، سیتاکانت سوائیں، لوک ناتھ بھویاں، اُپندر شت پتی، اننت نائک، ستیاشیو سندر داس، نِتیہ گوپال سنگھ، سُسمِتا ناتھ، روزالین پانی، نروپما داس، دھیرج مہانتی، سُدھانشو شیکھر پانڈا، کاہنو مہالِک، پون کمیلا، منورنجن نندی، پنٹو پانیگراہِی، شری کانت مہاپاترا، کارتک راؤت، ربی پرادھان، سُسمِتا داس، نسیمہ بی بی، جینتی پنڈا، راجندر چٹرجی، اُمیش بہیرا سمیت دیگر کثیر تعداد میں موجود تھے۔بالاسور سے عظیم بالیسری کی رپورٹ۔











