Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بہار انتخابات: “اویسی فیکٹر” اتفاق نہیں، ایک مستقل رجحان*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*بہار انتخابات: “اویسی فیکٹر” اتفاق نہیں، ایک مستقل رجحان*

*(ووٹ کٹوا” یا حقیقی نمائندگی؟ بہار 2025 کے نتائج کا تلخ سبق)*

بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

بھارتی جمہوریت کا کینوس، جو اپنی گوناگونی، پیچیدگی اور غیر متوقع پن کے لیے شہرت رکھتا ہے، ہر انتخابی عمل کے بعد ایک ایسی نئی سیاسی عبارت رقم کرتا ہے جسے سمجھنے کے لیے سطحی اعداد و شمار سے کہیں زیادہ گہری بصیرت درکار ہوتی ہے۔ بہار اسمبلی انتخابات 2025ء کے نتائج، بادی النظر میں، نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی 243 میں سے 202 نشستوں پر مشتمل ایک تاریخی اور فیصلہ کن فتح کا اعلان تھے، جس کے روبرو مہاگٹھ بندھن محض 35 نشستوں کے ساتھ ایک شکست خوردہ اور منتشر گروہ کی صورت میں دکھائی دیا۔ یہ اعداد و شمار ایک واضح حکایت بیان کرتے ہیں: عوام نے نتیش کمار اور این ڈی اے کے طرزِ حکمرانی پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ تیجسوی یادو کی قیادت میں حزبِ اختلاف کے اتحاد کو بری طرح مسترد کر دیا۔ لیکن اس سیاسی زلزلے کے غوغا میں، سیمانچل کی سرزمین سے طلوع ہونے والی ایک نسبتاً دھیمی مگر توانا آواز نے بہار اور قومی سیاست کے مستقبل پر گہرے اور دیرپا اثرات کے امکانات روشن کر دیے۔ یہ صدا اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی تھی، جس نے مسلسل دوسری مرتبہ 5 اسمبلی نشستوں پر کامرانی سمیٹ کر یہ ثابت کر دیا کہ اس کی 2020ء کی کارکردگی کوئی اتفاقی امر نہ تھی، بلکہ بہار کے سیاسی منظرنامہ پر ایک نئی حقیقت کا مستقل قیام تھا۔ اے آئی ایم آئی ایم کی یہ کارکردگی، اگرچہ عددی اعتبار سے مختصر ہے، تاہم علامتی اور تزویراتی لحاظ سے اتنی وزنی ہے کہ اس نے ریاست کی روایتی سیاسی جماعتوں، بالخصوص راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس کے وجودی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
سیمانچل کا خطہ، جو بہار کے شمال مشرقی گوشے میں واقع ہے اور کشن گنج، ارریہ، پورنیہ اور کٹیہار جیسے اضلاع پر محیط ہے، محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک مخصوص سماجی و سیاسی حقیقت کا نام ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو دہائیوں سے پسماندگی، افلاس اور ریاستی بے اعتنائی کا شکار رہا ہے، اور جہاں بہار کی تقریباً 17 فیصد مسلم آبادی کا ایک بڑا حصہ مرتکز ہے۔ یہی وہ زرخیز زمین تھی جہاں اویسی نے اپنی سیاسی فصل کاشت کی۔ 2020ء میں جب اے آئی ایم آئی ایم نے یہاں سے 5 نشستیں جیتیں تو روایتی سیاسی پنڈتوں نے اسے “ووٹ کٹوا” کا عنوان دے کر ایک عارضی ابال قرار دیا تھا۔ لیکن 2025ء میں اسی کارکردگی کا اعادہ، بالخصوص اس حقیقت کے باوصف کہ 2020ء کے چار منتخب اراکینِ اسمبلی آر جے ڈی میں شامل ہو گئے تھے، اس امر کی دلیل ہے کہ سیمانچل کے رائے دہندگان کا اعتماد اب کسی فردِ واحد پر نہیں، بلکہ جماعت کی نظریاتی اساس اور اویسی کی قیادت پر استوار ہو چکا ہے۔ کوچادھامن، بہادرگنج، جوکیہاٹ، امور اور بائسی میں دوبارہ کامیابی حاصل کرنا بذاتِ خود ایک سیاسی بیانیہ ہے؛ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ سیمانچل کے مسلم رائے دہندگان اب محض کسی کو شکست دینے کے لیے اپنا حقِ رائے دہی استعمال نہیں کریں گے، بلکہ اپنی نمائندگی اور اپنی آواز کی توثیق کے لیے ووٹ دیں گے۔ یہ کارکردگی کانگریس جیسی قومی جماعت سے بدرجہا بہتر تھی، جس نے 61 نشستوں پر قسمت آزمائی کر کے محض 5 نشستیں حاصل کیں، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم نے صرف 25 امیدوار کھڑے کر کے 5 پر کامیابی حاصل کی، جو اس کی انتخابی حکمتِ عملی کی تاثیر کو عیاں کرتا ہے۔
اس کامیابی کے مضمرات کو سمجھنے کے لیے اس سیاسی بیانیے کی گہرائی میں اترنا ہو گا جو اویسی نے بہار کی سرزمین پر پیش کیا۔ اویسی کی سیاست کا کلیدی نکتہ “حقوق کی زبان” ہے، نہ کہ “شکایات کی زبان”۔ وہ بھارتی آئین، سیکولرزم کے اصولوں، اور قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اقلیتوں کے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کا بیانیہ آر جے ڈی اور کانگریس کی روایتی “سیکولر” سیاست سے یکسر مختلف ہے، جو دہائیوں سے مسلم ووٹ کو ایک “یرغمالی ووٹ بینک” کے طور پر برتتی آئی ہیں۔ ان جماعتوں کا ضابطہ یہ تھا کہ بی جے پی کا خوف دلا کر مسلم ووٹوں کو مجتمع رکھا جائے، لیکن اس کے عوض مسلم قیادت کو فیصلہ سازی کے عمل میں حقیقی شراکت داری دینے سے گریز کیا جائے۔ اویسی نے اسی دوغلے پن پر کاری ضرب لگائی۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر چند فیصد آبادی والی برادری کا رہنما نائب وزیرِ اعلیٰ بن سکتا ہے، تو 17 فیصد آبادی والی مسلم برادری کو قائدانہ کردار کیوں نہیں سونپا جا سکتا؟ یہ سوال محض ایک جذباتی نعرہ نہیں تھا، بلکہ اس سیاسی استحصال کے خلاف بغاوت کا اعلان تھا جس کے تحت مسلمانوں کو فقط ایک ووٹر سمجھا جاتا تھا، رہنما نہیں۔ سیمانچل کے نتائج اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ بیانیہ عوام میں، خصوصاً نوجوان نسل میں، گہری جڑیں پکڑ چکا ہے جو اب محض علامتی نمائندگی سے مطمئن نہیں، بلکہ حقیقی سیاسی طاقت کی خواہاں ہے۔
اس نئی سیاسی حقیقت کا سب سے گہرا اور فوری اثر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) پر مرتب ہوا۔ آر جے ڈی کی سیاست کا بنیادی ستون “مسلم-یادو” کا امتزاج رہا ہے۔ لالو پرساد یادو کے عہد سے ہی آر جے ڈی نے مسلمانوں کو تحفظ کا احساس دلا کر ان کے ووٹوں کو اپنے یادو ووٹ بینک کے ساتھ منسلک کر کے اقتدار کا کھیل کھیلا۔ لیکن اے آئی ایم آئی ایم کا ظہور اس امتزاج کے “مسلم” جز میں ایک مستقل دراڑ ڈال چکا ہے۔ یہ دراڑ اب محض سیمانچل تک محدود نہیں رہی؛ اس کا نفسیاتی اثر پورے بہار کے مسلم رائے دہندگان پر مرتب ہو رہا ہے۔ تیجسوی یادو کے لیے یہ ایک وجودی بحران ہے۔ وہ اویسی پر “بی جے پی کی بی-ٹیم” ہونے کا الزام عائد کر کے رائے دہندگان کو متنبہ تو کر سکتے ہیں، لیکن وہ اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ آخر برسوں کی وفاداری کے بعد بھی مسلم برادری کو آر جے ڈی میں قائدانہ کردار کیوں نہیں تفویض کیا گیا؟ یہ وہ چبھتا ہوا سوال ہے جو اویسی کی سیاست کو نمو بخشتا ہے اور آر جے ڈی کے بیانیہ کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ 2025ء کے انتخابات میں آر جے ڈی کا ایک سو 143 نشستوں پر انتخاب لڑ کر محض 25 پر سمٹ جانا صرف این ڈی اے کی لہر کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اس کے اپنے بنیادی ووٹ بینک میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا بھی عکاس تھا۔
دوسری جانب، مہاگٹھ بندھن کی اجتماعی قیادت کے لیے اویسی ایک ایسی سیاسی پہیلی بن گئے ہیں جسے حل کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ اے آئی ایم آئی ایم کو اتحاد میں شامل کرتے ہیں تو بی جے پی انہیں “فرقہ پرست” اور “علیحدگی پسند” قوتوں کا ساتھی قرار دے کر اکثریتی ووٹ کو اپنے حق میں مزید مستحکم کر لے گی۔ اور اگر وہ اویسی کو باہر رکھتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے 2025ء میں کیا، تو وہ سیمانچل اور دیگر مسلم اکثریتی علاقوں میں ووٹوں کی تقسیم کو دعوت دیتے ہیں، جس کا بلاواسطہ فائدہ این ڈی اے کو ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ کہنا کہ صرف اے آئی ایم آئی ایم کی وجہ سے مہاگٹھ بندھن کو شکست ہوئی، اعداد و شمار کی سادہ لوحی ہو گی، کیونکہ این ڈی اے کی 202 نشستوں کی فتح اتنی بڑی تھی کہ چند نشستوں کا فرق اس نتیجے کو تبدیل نہیں کر سکتا تھا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اویسی کی موجودگی نے مہاگٹھ بندھن کی شکست کو مزید تذلیل آمیز بنا دیا اور مستقبل کے لیے اس کی راہیں مزید دشوار کر دیں۔ ان انتخابات نے ثابت کر دیا کہ سیکولر سیاست اب محض بی جے پی مخالفت کا نام نہیں، بلکہ اسے اپنی صفوں میں جامعیت اور حقیقی نمائندگی کو بھی یقینی بنانا ہو گا۔
بہار سے ابھرنے والے اس رجحان کے اثرات قومی سیاست پر پڑنا ناگزیر ہیں۔ اویسی نے بہار کو ایک “تجربہ گاہ” کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ ایک توانا، حقوق پر مبنی مسلم سیاست کے لیے گنجائش موجود ہے۔ اس نمونے کی کامیابی اب اتر پردیش، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں اے آئی ایم آئی ایم کے حوصلے بلند کرے گی۔ یہ بھارتی مسلمانوں کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دے گا: کیا انہیں روایتی سیکولر جماعتوں کے ساتھ “کمتر برائی” کے طور پر جڑے رہنا چاہیے، یا اپنی آزاد سیاسی قوت تشکیل دینی چاہیے جو سودے بازی کرنے کی پوزیشن میں ہو؟ اس رجحان پر تنقید کرنے والے اسے “مسلم سیاست کی گروہ بندی” قرار دیتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ بالآخر مسلم برادری کو قومی دھارے سے الگ تھلگ کر دے گا اور اکثریتی صف بندی کو مزید ہوا دے گا۔ ان کا استدلال ہے کہ اویسی کی سیاست بی جے پی کے بیانیہ کو ہی تقویت دیتی ہے جو یہ کہتی ہے کہ مسلمان کبھی قومی دھارے کا حصہ نہیں بن سکتے۔ یہ ایک سنجیدہ تنقید ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اس کے جواب میں اویسی کے حامی یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب اکثریتی سیاست کھلے عام مذہبی شناخت پر مبنی ہو چکی ہے، تو اقلیتوں کو اپنی شناخت چھپا کر “فرضی سیکولرزم” کا نقاب اوڑھے رکھنے پر مجبور کیوں کیا جائے؟ وہ کہتے ہیں کہ حقیقی سیکولرزم کا تقاضا یہ ہے کہ تمام شناختوں کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اظہار کا مساوی حق ملے۔
بالآخر، بہار میں اویسی کی دوسری شاندار کارکردگی بھارتی جمہوریت کے ارتقاء میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ بیک وقت متعدد امور کی علامت ہے: یہ روایتی ووٹ بینک کی سیاست کے خاتمے کا اشارہ ہے؛ یہ مسلم برادری کے اندر ایک نئی نسل کی سیاسی بیداری کا ثبوت ہے جو اب مظلومیت کے بیانیے سے آگے بڑھ کر حقوق اور شراکت داری کا مطالبہ کر رہی ہے؛ اور یہ نام نہاد سیکولر جماعتوں کے لیے ایک سخت انتباہ ہے کہ وہ اقلیتوں کو کمتر سمجھنے کی اپنی روش ترک کر دیں۔ اویسی کا سیاسی سفر متنازعہ ہو سکتا ہے، ان کے زبان و بیان پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں، اور ان کی حکمتِ عملی کے طویل مدتی نتائج پر بحث جاری رہ سکتی ہے، لیکن بہار 2025ء نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ ایک ایسی سیاسی حقیقت ہیں جسے اب پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے بہار کی سیاست کی لغت تبدیل کر دی ہے، اور اس کی گونج آنے والے برسوں میں پورے ملک میں سنائی دیتی رہے گی، جو بھارت کی جمہوری روح سے یہ سوال کرتی رہے گی کہ ایک متنوع معاشرے میں حقیقی نمائندگی اور جامعیت کے اصل معنی کیا ہیں۔