Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بہار سے کرناٹک تک: خواتین کی بامعاوضہ چھٹی کا اعلان اور اس کی آفاقی اہمیت*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*بہار سے کرناٹک تک: خواتین کی بامعاوضہ چھٹی کا اعلان اور اس کی آفاقی اہمیت*

*(چار لاکھ کی جیت، ساٹھ لاکھ کا انتظار: ماہواری کی چھٹی کا ادھورا خواب)*

بقلم : اسماء جبین فلک

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک نے حال ہی میں ایک ایسا اعلان کیا ہے جس کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے اور جس نے کام کی جگہ پر خواتین کے حقوق کی بحث کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ یہ محض ایک سرکاری حکم نامہ نہیں، بلکہ ایک ایسی پالیسی کا آغاز ہے جو لاکھوں خواتین کی زندگیوں کو چھوتے ہوئے سماجی انصاف اور معاشی حقیقتوں کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت، سرکاری اور نجی، دونوں شعبوں میں کام کرنے والی 18 سے 52 سال کی خواتین کو ہر ماہ ماہواری کے دوران ایک دن کی بامعاوضہ چھٹی ملے گی، اور اس کے لیے انہیں کسی ڈاکٹر کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ یہ فیصلہ اس لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں پہلی بار نجی شعبے کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو اسے بہار جیسی ریاست کی دہائیوں پرانی پالیسی سے کہیں زیادہ وسیع اور جامع بنا دیتا ہے، جہاں یہ سہولت صرف سرکاری ملازمین تک محدود تھی۔ یہ قدم ایک ایسے معاشرے میں اٹھایا گیا ہے جہاں آج بھی ماہواری جیسے فطری عمل پر بات کرنا شرمندگی اور جھجک کا باعث بنتا ہے۔ ایسے میں یہ قانون نہ صرف خواتین کو جسمانی آسودگی فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے، بلکہ اس خاموشی کے کلچر کو توڑنے کا ایک طاقتور ذریعہ بھی بن سکتا ہے جو نسل در نسل خواتین پر مسلط رہا ہے۔
اس پالیسی کا سب سے روشن پہلو اس کی وسعت اور اس میں پوشیدہ احترام کا عنصر ہے۔ یہ قانون انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں، کارپوریٹ دفاتر اور گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کرنے والی تقریباً 4 لاکھ خواتین پر لاگو ہوگا، جو ہر ماہ شدید درد اور تکلیف کے باوجود کام پر آنے پر مجبور تھیں۔ ان خواتین کے لیے یہ ایک بہت بڑی راحت ہے کہ اب وہ اپنی صحت کا خیال رکھنے کے لیے ایک دن کی چھٹی لے سکیں گی اور انہیں اپنی تنخواہ کٹنے کا خوف بھی نہیں ہوگا۔ طبی سرٹیفکیٹ کی شرط کو ختم کرنا ایک انتہائی ترقی پسندانہ قدم ہے جو اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ ماہواری کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک قدرتی عمل ہے، اور اس کی تکلیف کو ثابت کرنے کے لیے کسی گواہی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ دراصل خواتین کے اپنے جسم پر ان کے اختیار کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے، ایک ایسا وقار جو اکثر کام کی جگہ پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
لیکن ہر تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہوتا ہے۔ اس پالیسی کا سب سے بڑا اور تشویش ناک پہلو اس کا ادھورا پن ہے۔ یہ قانون صرف منظم شعبے کی خواتین کا احاطہ کرتا ہے، اور ان لاکھوں خواتین کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے جو اس سماجی تحفظ کے نظام سے باہر ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، ریاست میں ایسی خواتین کی تعداد 60 لاکھ کے قریب ہے— یہ وہ محنت کش خواتین ہیں جو گھروں میں کام کرتی ہیں، کھیتوں میں مزدوری کرتی ہیں یا روزانہ کی بنیاد پر اجرت کما کر اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالتی ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جسے اس طرح کی سہولت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، کیوں کہ ان کے لیے ایک دن کام نہ کرنے کا مطلب اس دن کی روٹی سے محروم ہو جانا ہے۔ جب تک یہ پالیسی ان غریب ترین اور سب سے زیادہ ضرورت مند خواتین تک نہیں پہنچتی، یہ ایک ادھورا انقلاب ہی رہے گا جو صرف مراعات یافتہ طبقے کی خواتین تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی، کچھ حقیقی خدشات بھی سر اٹھا رہے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کے قدامت پسند معاشرتی ڈھانچے میں، جہاں ماہواری کو آج بھی ناپاکی سے جوڑا جاتا ہے، یہ دیکھنا ہوگا کہ کمپنیاں اور مرد ساتھی کارکن اس پالیسی پر کیا ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ کچھ ناقدین نے اسے خواتین کو “کم پیداواری” بنانے والا قدم قرار دیا ہے، اور بعض خواتین کو خود یہ ڈر ہے کہ اس چھٹی کا استعمال کرنے پر انہیں کمزور یا غیر پیشہ ور سمجھا جائے گا، یا مستقبل میں کمپنیاں خواتین کو ملازمت دینے سے کترانے لگیں گی۔ یہ خدشات بے بنیاد نہیں ہیں، اور اگر اس پالیسی کو حساسیت اور آگاہی کی مہم کے بغیر نافذ کیا گیا تو یہ خواتین کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ کرناٹک کا یہ قدم بلاشبہ ایک جرات مندانہ اور خوش آئند سنگِ میل ہے، لیکن یہ منزل نہیں، بلکہ ایک طویل سفر کا آغاز ہے۔ اس کی اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا حکومت اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کرواتی ہے اور کیا وہ اس کا دائرہ کار بڑھا کر ان 60 لاکھ محنت کش خواتین کو بھی اس میں شامل کرتی ہے جو فی الحال اس سے محروم ہیں۔ اگر ایسا ہو سکا، تو یہ ماڈل پورے بھارت اور دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے، ورنہ یہ محض ایک اچھا خیال بن کر رہ جائے گا جو اپنی پوری صلاحیت تک پہنچنے میں ناکام رہا۔