مرکزی حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے چار نئے لیبر کوڈز کے خلاف مختلف مزدور تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں آج سینٹرل لیبر کمشنر سی۔ ساہو نے ایک پریس کانفرنس میں ان لیبر کوڈز سے متعلق اہم معلومات فراہم کیں اور بتایا کہ یہ نئے قوانین دراصل مزدوروں کے حق میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ویج (اجرت) سے متعلق کئی الگ الگ قوانین موجود تھے جنہیں اب ایک جگہ لا کر وَج کوڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ پہلے ان قوانین کا فائدہ صرف 30 فیصد ملازمین تک محدود تھا، لیکن نئے کوڈ کے تحت اب 100 فیصد ملازمین کو اس کا فائدہ ملے گا۔ حکومت کے مقرر کردہ کم از کم اجرت (Minimum Wage) دینا اب ہر آجر کے لیے لازمی ہوگا۔ سی۔ ساہو نے بتایا کہ پہلے صرف وہ ملازم شکایت کرسکتا تھا جس کی ماہانہ تنخواہ 24 ہزار روپے سے کم ہو، لیکن اب تنخواہ کی حد ختم کر دی گئی ہے۔ یعنی اگر کسی بھی ملازم کو وقت پر تنخواہ نہیں مل رہی ہے تو وہ بلا جھجھک شکایت درج کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ مالکان اپنے فائدے کے لیے ملازمین کا بیسک پے بہت کم رکھتے تھے، لیکن نئے قانون کے مطابق کل تنخواہ کا 50 فیصد لازمی طور پر بیسک پے رکھنا ہوگا۔ اب مزدور بونس کا دعویٰ بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پہلے کسی مسئلے پر شکایت درج کرنے کی مدت 6 ماہ تھی، جو اب بڑھا کر 3 سال کر دی گئی ہے۔ نئے ویج کوڈ کی ایک اہم خصوصیت مرد اور عورت ملازمین کی اجرت میں برابری ہے۔ اب کسی بھی ادارے میں خواتین کو وہی تنخواہ ملے گی جو اسی عہدے کے مرد ملازمین کو دی جاتی ہے۔ ٹھیکہ مزدوروں کیلئے بھی اہم سہولیات شامل کی گئی ہیں۔ اگر کوئی ٹھیکہ دار اپنی ذمہ داری سے بھاگتا ہے تو کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو اس کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی، جو ٹھیکہ مزدوروں کے مفاد میں ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
سوشل سکیورٹی پر گفتگو کرتے ہوئے کمشنر نے کہا کہ منظم اور غیر منظم دونوں سیکٹر کے ملازمین کو سوشل سکیورٹی کے فائدے ملیں گے۔ تمام اداروں میں ملازمین کو پراویڈنٹ فنڈ اور ای ایس آئی کی سہولت فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ پہلے ایک ایس آئی صرف ان اداروں میں لازمی تھا جہاں 20 سے زیادہ ملازمین کام کرتے تھے، لیکن اب 20 سے کم ملازمین والے ادارے بھی یہ سہولت دے سکتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ خطرناک نوعیت کا ہے تو ایک ملازم ہونے پر بھی پی ایف اور ای ایس آئی دینا ضروری ہوگا۔ نئے قوانین کے مطابق اب ملازم کے نانا، نانی، ساس اور سسر بھی سوشل سکیورٹی کے فائدے کے حقدار ہوں گے۔ بڑی تعداد میں موجود گیگ ورکرز کو بھی سوشل سکیورٹی کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ حادثات سے متعلق قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پہلے صرف کام کی جگہ پر حادثہ ہونے پر معاوضہ دیا جاتا تھا، لیکن اب اگر کوئی ملازم کام پر آنے جانے کے دوران حادثے کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اہل خانہ کو تمام سہولیات ملیں گی۔ آئی آر کوڈ کے تحت فکسڈ ٹرم ملازمین کو مستقل ملازمین کے برابر سہولیات، بشمول گریچویٹی دی جائیں گی۔ ان کے معاہدے کی مدت پوری ہونے پر انہیں باقاعدہ تجربہ سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔ ہر ادارے میں گریونس سیل قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس میں خواتین کو شامل کیا جائے گا تاکہ خواتین کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ نئے لیبر کوڈز حکومتی دعوؤں کے مطابق مزدوروں کو مزید بااختیار بنانے اور ان کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں، تاہم اس کے باوجود مختلف مزدور تنظیموں کی جانب سے ان قوانین پر اعتراضات و احتجاج جاری ہے۔










