Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*صوتی انقلاب کی علمبردار: گوہر جان، نوآبادیاتی بھارت میں فن، ٹیکنالوجی اور سماجی مزاحمت کا امتزاج*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*صوتی انقلاب کی علمبردار: گوہر جان، نوآبادیاتی بھارت میں فن، ٹیکنالوجی اور سماجی مزاحمت کا امتزاج*

(صوتی انقلاب کی ملکہ: گوہر جان اور جدید بھارتی موسیقی کا جنم)
از قلم: *اسماء جبین فلک*
بیسویں صدی کا آغاز جنوبی ایشیا کی ثقافتی تاریخ میں محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ یہ وہ دوراہا تھا جہاں قدیم روایات کا ٹکراؤ جدید صنعتی ٹیکنالوجی سے ہو رہا تھا۔ اس ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی گونج نے آنے والی صدی کی موسیقی کی سمت کا تعین کیا، اور اس تاریخی عمل کے مرکز میں کوئی قدامت پسند مرد استاد نہیں، بلکہ ایک ایسی خاتون تھیں جنہوں نے اپنی بصیرت سے فن کو فنا ہونے سے بچا لیا۔ گوہر جان کا نام بھارتی کلاسیکی موسیقی کی تاریخ میں صرف “پہلی ریکارڈڈ آواز” کے طور پر ہی نہیں، بلکہ ایک ایسی ثقافتی معمار کے طور پر زندہ ہے جنہوں نے نوآبادیاتی بھارت میں فنکار کی خود مختاری اور موسیقی کی اقتصادیات کے نئے اصول وضع کیے۔ 1902 میں جب گراموفون کمپنی نے بھارت میں قدم رکھا، تو یہ صرف ایک کاروباری مہم نہیں تھی، بلکہ یہ ایک تہذیبی تجربہ تھا جس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر تھا کہ آیا ہزاروں سال پرانی زبانی روایت خود کو مشینی سانچے میں ڈھال سکتی ہے یا نہیں۔ اس سوال کا جواب گوہر جان نے اپنی آواز کے ذریعے دیا۔
گوہر جان کی داستانِ حیات ایک ایسے ہم آہنگ ثقافتی امتزاج کی عکاس ہے جو برصغیر کی پہچان رہا ہے۔ 26 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں اینجلینا یوارڈ کے نام سے پیدا ہونے والی یہ بچی نسلی اعتبار سے آرمینیائی، برطانوی اور بھارتی خون کا ملاپ تھی۔ ان کے والد رابرٹ ولیم یوارڈ اور والدہ وکٹوریہ ہیمنگز تھیں، مگر والدین کی علیحدگی اور بنارس منتقلی نے اینجلینا کو گوہر جان اور وکٹوریہ کو “بڑی ملکہ جان” میں تبدیل کر دیا۔ بنارس اور بعد ازاں کلکتہ، جو اس وقت برطانوی بھارت کا دارالحکومت اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز تھا، وہاں گوہر جان کی پرورش ایک روایتی “طوائف” کے ماحول میں ہوئی۔ یہاں یہ سمجھنا ازحد ضروری ہے کہ انیسویں صدی کے بھارت میں “طوائف” کا ادارہ مغرب کے جسم فروشی کرنے والی خاتون کے تصور سے یکسر مختلف تھا۔ یہ خواتین فن، ادب، رقص اور تہذیب کی امین تھیں اور اشرافیہ کو آدابِ محفل سکھانے کی ذمہ دار سمجھی جاتی تھیں۔ گوہر جان نے اسی ماحول میں پٹیالہ گھرانے کے استاد کالو خان، رام پور کے استاد وزیر خان اور کتھک کے ماہرین سے سخت فنی تربیت حاصل کی۔ ان کی تعلیم صرف موسیقی تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ اردو، ہندی، بنگالی، انگریزی اور فارسی سمیت متعدد زبانوں پر عبور رکھتی تھیں، جس نے انہیں ایک حقیقی معنوں میں “عالمی شہری” فنکارہ بنایا۔
تاہم، جس وقت گوہر جان اپنے فن کی بلندیوں پر تھیں، وہ دور طوائفوں کے ادارے کے لیے شدید بحران کا دور تھا۔ 1890 کی دہائی میں بھارت میں “رقص کی مخالف تحریک” زور پکڑ چکی تھی۔ برطانوی مشنریز اور مغربی تعلیم یافتہ بھارتی مصلحین نے وکٹوریائی اخلاقیات کے زیرِ اثر طوائفوں کے فن کو “فحاشی” اور “ابتذال” قرار دے کر ان کے خلاف ایک منظم سماجی بائیکاٹ شروع کر رکھا تھا۔ اس تحریک کا مقصد فنونِ لطیفہ کو ان “بدنام” کوٹھوں سے نکال کر شریف گھرانوں تک لانا تھا، جس کا براہِ راست نقصان ان خواتین فنکاروں کو ہو رہا تھا جن کی روزی روٹی کا انحصار محفلوں اور نجی دعوتوں پر تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو گوہر جان کا گراموفون ریکارڈنگ کی طرف راغب ہونا محض شہرت کی خواہش نہیں تھی، بلکہ یہ ایک سیاسی اور سماجی بقا کی حکمت عملی کا فیصلہ تھا۔ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ اگر فن کو زندہ رکھنا ہے تو اسے درباروں اور کوٹھوں کی محدود فضا سے نکال کر عوامی سطح پر لانا ہوگا۔
نومبر 1902 میں جب گراموفون کمپنی کے نمائندے فریڈ گیسبرگ ریکارڈنگ کا سازوسامان لے کر کلکتہ پہنچے، تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کے بڑے بڑے مرد اساتذہ اور موسیقاروں نے اس نئی ٹیکنالوجی کو “شیطانی مشین” قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ ان کا خوف تھا کہ اس سے ان کی آواز کی تاثیر ختم ہو جائے گی یا ان کا فن عام ہو کر اپنی قدر کھو دے گا۔ ایسے میں گوہر جان نے وہ جرات مندانہ قدم اٹھایا جو مغرب میں ان کی ہم عصر ڈیم نیلی میلبہ نے اٹھایا تھا۔ جس طرح نیلی میلبہ نے اوپیرا کو گراموفون کے ذریعے اشرافیہ کے ڈرائنگ رومز تک پہنچا کر اسے عالمی مقبولیت بخشی، بالکل اسی طرح گوہر جان نے بھارتی موسیقی کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ 8 نومبر 1902 کو انہوں نے راگ جوگیا میں خیال گا کر برصغیر کی پہلی ریکارڈنگ کروائی۔ گیسبرگ نے اپنی ڈائری میں گوہر جان کی ذہانت اور کاروباری سمجھ بوجھ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ہر ریکارڈنگ سیشن کے لیے نئے زیورات اور لباس پہن کر آتی تھیں اور اپنے فن کی منہ مانگی قیمت وصول کرتی تھیں۔
گوہر جان کا اصل فنی کارنامہ گراموفون ریکارڈز کی تکنیکی مجبوریوں کو فن میں تبدیل کرنا تھا۔ اس وقت کے 78 آر پی ایم شیلک ریکارڈز میں صرف تین سے ساڑھے تین منٹ کی ریکارڈنگ کی گنجائش ہوتی تھی۔ بھارتی کلاسیکی موسیقی، خاص طور پر “خیال” گائیکی، ایک طویل عمل ہے جس میں الاپ، بڑھت، استھائی، انترہ اور تانیں گھنٹوں پر محیط ہوتی ہیں۔ گوہر جان کے سامنے چیلنج یہ تھا کہ وہ اس سمندر کو کوزے میں کیسے بند کریں؟ انہوں نے یہاں ایک انقلابی تکنیکی ہیئت ایجاد کی جسے آج ہم “تھوڑی جگہ میں زیادہ موسیقی” کے پیش خیمہ کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے روایتی الاپ کو انتہائی مختصر کیا، استھائی اور انترہ کی بندشوں کو تیزی سے پیش کیا اور آخر میں دُرت (تیز لے) تانوں کے ساتھ تین منٹ میں راگ کی مکمل تصویر پیش کر دی۔ یہ موسیقی کی ہئیت میں ایک بہت بڑی ساختیاتی تبدیلی تھی جس نے بعد ازاں ریڈیو اور فلمی موسیقی کے لیے بنیاد فراہم کی۔ ان کا یہ تجربہ اتنا کامیاب رہا کہ یہ “تین منٹ کا فارمیٹ” انڈسٹری کا معیاری پیمانہ بن گیا۔
ان کی ریکارڈنگز کے آخر میں گونجنے والا جملہ “میرا نام گوہر جان ہے!” بھی محض تعلی یا فخر کا اظہار نہیں تھا بلکہ یہ اس دور کی صنعتی ضرورت تھی۔ دراصل، ریکارڈنگ کے مومی سانچے پروسیسنگ کے لیے جرمنی کے شہر ہینوور بھیجے جاتے تھے۔ وہاں موجود جرمن انجینئرز کو یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کون سا ٹریک کس فنکار کا ہے، آڈیو کے آخر میں انگریزی میں نام کے اعلان کی ضرورت ہوتی تھی تاکہ وہ لیبل صحیح طور پر لگا سکیں۔ گوہر جان نے اس تکنیکی مجبوری کو اپنی ذاتی تشہیر کا حصہ بنا لیا۔ ان کا لہجہ اتنا بااعتماد اور پروقار ہوتا تھا کہ سامعین کے لیے یہ جملہ معیار کی ضمانت بن گیا۔ انہوں نے دس سے زائد زبانوں میں 600 کے قریب گانے ریکارڈ کروائے، جن میں ٹھمری، دادرا، غزل اور بھجن شامل تھے۔ ان کی “راگ بھیروی” میں گائی گئی ٹھمری “رس کے بھرے تورے نین” نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور کلاسیکی موسیقی کو عوامی مقبولیت کے نئے آسمانوں سے روشناس کرایا۔
گوہر جان کی زندگی کا تجزیہ ان کے سماجی اور معاشی رتبے کے بغیر نامکمل ہے۔ وہ بھارت کی پہلی “کروڑ پتی گلوکارہ” تھیں جو اس دور میں ایک ریکارڈنگ سیشن کا تین ہزار روپے معاوضہ لیتی تھیں جب سونا بیس روپے تولہ تھا۔ ان کی دولت اور شاہانہ طرزِ زندگی نوآبادیاتی حاکمیت اور جاگیردارانہ سماج کے خلاف ایک “علامتی احتجاج” کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ اس بات پر مصر تھیں کہ ایک فنکار، چاہے وہ عورت ہو اور طوائف ہی کیوں نہ ہو، اسے وہی عزت اور آسائش ملنی چاہیے جو نوابوں اور انگریز افسروں کو حاصل ہے۔ کلکتہ میں ان کی چھ گھوڑوں والی بگھی کا واقعہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔ اس دور میں وائسرائے کے علاوہ کسی کو ایسی شاہانہ سواری کی اجازت نہ تھی، لیکن گوہر جان نے حکومتی پابندیوں اور بھاری جرمانے کی پرواہ کیے بغیر اپنی بگھی کی سواری جاری رکھی۔ یہ عمل انگریز سرکار کو یہ باور کرانے کے لیے کافی تھا کہ بھارتی فنکار اب ان کے طے کردہ سماجی درجات کا پابند نہیں رہا۔ اسی طرح اپنی بلی کی سالگرہ پر بیس ہزار روپے خرچ کرنا محض فضول خرچی نہیں تھی، بلکہ یہ اس وقت کے مردانہ سماج کو چیلنج کرنے کا ایک طریقہ تھا کہ ایک خود مختار عورت اپنی دولت کو اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
گوہر جان نے موسیقی کو “عوامی” بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے ریکارڈز کی بدولت موسیقی نوابوں کی ڈیوڑھیوں سے نکل کر عام آدمی کے گلی کوچوں تک پہنچی۔ وہ پہلی بھارتی فنکارہ تھیں جنہوں نے حقِ تصنیف کے نظام کو سمجھا اور اس سے استفادہ کیا۔ تاہم، زندگی کے آخری ایام میں انہیں بھی انہی المیوں کا سامنا کرنا پڑا جو اکثر عظیم فنکاروں کا مقدر ہوتے ہیں۔ ان کے اردگرد موجود خوشامدیوں اور رشتہ داروں نے ان کی دولت کا استحصال کیا اور قانونی مقدمات نے انہیں معاشی طور پر کمزور کر دیا۔ بالآخر، 1928 میں انہوں نے میسور کے مہاراجہ کرشنا راجہ واڈیار چہارم کی دعوت پر میسور میں پناہ لی، جہاں 17 جنوری 1930 کو 56 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ تھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گوہر جان محض ایک گلوکارہ نہیں تھیں بلکہ وہ جدید بھارتی میوزک انڈسٹری کی بانی تھیں۔ وکرم سمپت جیسے جدید محققین نے ان کی خدمات کا ازسرنو جائزہ لے کر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر گوہر جان گراموفون کو نہ اپناتیں، تو شاید بھارتی موسیقی کا ایک بڑا حصہ سینہ بہ سینہ منتقل ہونے کی روایت میں کہیں گم ہو جاتا۔ انہوں نے “طوائف” کے داغدار کیے جانے والے ادارے سے نکل کر ایک “پیشہ ور فنکارہ” کی جدید شناخت تشکیل دی۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی اور روایت ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ حلیف ہو سکتے ہیں۔ آج ایک صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی، جب ہم پرانے ریکارڈز کے شور میں ان کی آواز سنتے ہیں، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف موسیقی نہیں گا رہیں، بلکہ تاریخ کے پنوں پر اپنے ہونے کا اعلان کر رہی ہیں۔ ان کا وہ جملہ “میرا نام گوہر جان ہے” آج بھی ان کی فنی ابدیت کی گواہی دے رہا ہے۔