Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کلپ، کلام اور کہانی: خان حسنین عاقب کے اشعار کی سوشل میڈیا پر بازگشت*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*کلپ، کلام اور کہانی: خان حسنین عاقب کے اشعار کی سوشل میڈیا پر بازگشت*

( لفظوں کی عدالت: منوج منتشر، شبھانکر مشرا اور وائرل اشعار کے پس پردہ حقائق)

بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

————————————————————————-

یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ سچا اور کھرا ادب وقت کی گرد میں دب تو سکتا ہے مگر فنا نہیں ہوتا۔ وہ کسی چنگاری کی مانند راکھ کے نیچے دبا رہتا ہے اور ہوا کا ایک جھونکا اسے دوبارہ شعلہ بنا کر زمانے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ خان حسنین عاقب کے اُن اشعار کے ساتھ پیش آیا ہے جو آج کل سوشل میڈیا پر ہر خاص و عام کی زبان پر ہیں۔ 10 دسمبر 2025 کو معروف اینکر شبھانکر مشرا اور نغمہ نگار منوج منتشر کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ایک پرانا کلپ جب منظرِ عام پر آیا، تو اس نے ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں بھی ہلچل مچا دی۔ اسے تیرہ ملین سے زیادہ لوگ اب تک دیکھ چکے ہیں ۔ یہ کلپ مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی پوسٹ کیا جارہا ہے اور ہر پوسٹ لاکھوں ناظرین تک پہنچ رہی ہے ۔ اس کلپ میں شبھانکر مشرا نے منوج منتشر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں خان حسنین عاقب کے یہ شہرہ آفاق اشعار سنائے:

پکڑی نہ تھی کتاب کہ استاد ہوگئے

ہاتھ آگئی غلیل تو صیاد ہوگئے

تعمیر یوں ہوئے تھے کہ حیران تھے محل

اجڑے بھی یوں کہ صورتِ بغداد ہوگئے

یہ اشعار محض شعری حسن کا نمونہ نہیں تھے بلکہ ایک گہری معنوی ضرب بھی تھے۔ تحقیق سے یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ ان اشعار کا انتخاب شبھانکر مشرا نے یونہی نہیں کیا تھا، بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا ادبی اور صحافتی تناظر کارفرما تھا۔ دراصل، بالی ووڈ کے مشہور ہدایت کار اور مصنف اویناش داس نے 2021 میں منوج منتشر کے ادبی تنازعات پر لکھے گئے اپنے ایک مضمون کا عنوان ہی پہلے شعر کو بنایا تھا اور اپنے مضمون کا آغاز انہی دو اشعار سے کیا تھا ۔ اویناش داس نے ان مصرعوں کے ذریعے منوج منتشر کی ادبی ساکھ پر جو کاری طنز کیا تھا، شبھانکر مشرا نے پوڈکاسٹ کے دوران اسی طنز کو زندہ کرتے ہوئے منوج کو ان کا ماضی اور تنازعات یاد دلائے۔ یہ لمحہ کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا اور اب یہ لاکھوں لوگوں کے لیے دلچسپی کا سامان بن چکا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ اس ویڈیو میں منوج منتشر حسنین عاقب کے ان اشعار پر بے ساختہ داد دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔

یہ واقعہ اس پرانی کہاوت کی عملی تفسیر ہے کہ “جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔” خان حسنین عاقب کے یہ اشعار حالات پر اتنے صادق آتے ہیں اور ان میں موجود طنز کی کاٹ اتنی گہری ہے کہ سالوں پہلے کہے جانے کے باوجود یہ آج کے حالات پر ہو بہو فٹ بیٹھتے ہیں۔ یہ اچھے ادب کی خاصیت ہے کہ وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتا ہے اور جب بھی اسے موزوں سیاق و سباق ملتا ہے، وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ اپنا لوہا منوا لیتا ہے۔ منوج منتشر کے روبرو ادا کیے گئے یہ الفاظ صرف شعر نہیں رہے بلکہ ایک ایسی آئینہ سازی بن گئے جس نے دیکھنے والوں کو چونکا دیا۔

دوسری جانب، یہ سارا معاملہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ سوشل میڈیا ادب اور شاعری کے لیے زحمت نہیں بلکہ ایک غیر معمولی رحمت ثابت ہو رہا ہے۔ وہ اشعار جو شاید کتابوں کے اوراق میں سمٹے رہتے یا ادبی محفلوں تک محدود رہتے، آج ٹویٹر، فیس بک ، انسٹا گرام اور یوٹیوب کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کے ذہنوں تک پہنچ رہے ہیں۔ ڈیجیٹل دور نے شاعری کو ایک نئی زندگی اور نئی رفتار عطا کی ہے۔ ایک مختصر ویڈیو کلپ نے نہ صرف ایک منفرد شاعر کے کلام کو عالمی سطح کے ناظرین تک پہنچا دیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ اگر مواد میں جان ہو تو ٹیکنالوجی اسے پر لگا کر اڑا لے جاتی ہے۔ خان حسنین عاقب کے اشعار کی یہ بازگشت دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ الفاظ کی تاثیر کبھی نہیں مرتی، اور سوشل میڈیا وہ جدید ہرکارہ ہے جو اس تاثیر کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کا فریضہ بخوبی انجام دے رہا ہے۔