*اساتذہ (معمارِ قوم) اب آوارہ کتوں کی نگرانی پر مامور* 🐕🦮🐕🦺
*دانش کی بے توقیری اور انتظامیہ کا دیوالیہ پن*
*علم کے وارثوں کے ہاتھ میں کتوں کا سروے: تاریخ کا بدترین المیہ”*
*ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین*
تہذیبوں کا زوال کبھی یک لخت نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک دھیمی اور خاموش موت کی مانند ہوتا ہے جو سب سے پہلے قوم کی ترجیحات کو دیمک کی طرح چاٹتی ہے اور پھر اس کے معتبر ترین اداروں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ سے ابھرنے والا یہ ہولناک منظر نامہ، جس میں اساتذہ کو درس گاہ کے منبر سے اتار کر آوارہ کتوں کی گنتی کے لیے گلیوں کی خاک چھاننے پر مجبور کیا گیا، محض ایک انتظامی حکم نامہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی شعور کی موت کا باضابطہ اعلان ہے۔ 21 ویں صدی کے اس دہانے پر جہاں دنیا علم و حکمت کی بنیاد پر تسخیرِ کائنات کے خواب دیکھ رہی ہے اور جہاں اقوام عالم اپنے تعلیمی نظام کو جدید ترین مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ کر رہی ہیں، وہاں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی ایک اہم ریاست میں علم کے وارثوں کے ہاتھ میں کتوں کی گنتی کا سروے رجسٹر تھما دینا دراصل اس “وشو گرو” بننے کے خواب کا ایک بھیانک اور طنزیہ رخ ہے جو ہم آئے دن دیکھتے ہیں۔ یہ واقعہ صرف اساتذہ کی توہین نہیں بلکہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہماری انتظامیہ کی نظر میں علم اور کتے کی گنتی کے درمیان ترجیح کا پیمانہ کس قدر ٹیڑھا ہو چکا ہے۔
اس پورے معاملے کو اگر ہم ایک نئے اور فلسفیانہ زاویہ سے دیکھیں تو یہ دانش کی بے توقیری کی بدترین مثال ہے۔ استاد، جسے معاشرے میں روحانی باپ اور قوم کا معمار کہا جاتا ہے، اس کا اصل کام ذہنوں کی آبیاری اور روحوں کی پاکیزگی ہے۔ جب ایک افسر اپنے ایئرکنڈیشنڈ دفتر میں بیٹھ کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسکول کا استاد اب آوارہ کتوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرے گا، تو وہ دراصل اس مقدس پیشے کی روح کو قتل کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ذہنیت اس نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتی ہے جب حکمران طبقہ مقامی دانشوروں کو محض کلرک یا منشی سمجھتا تھا، جن سے کوئی بھی بیگار لی جا سکتی تھی۔ علی گڑھ انتظامیہ کا یہ فیصلہ اسی سامراجی ذہنیت کا تسلسل ہے جو استاد کو ایک مفکر یا محقق کے بجائے ایک ایسے فالتو کارکن کے طور پر دیکھتی ہے جسے کبھی مردم شماری، کبھی پولیو کے قطرے پلانے اور اب کتوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ رویہ اساتذہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ آلود کرنے اور انہیں نفسیاتی طور پر مفلوج کرنے کی ایک سازش معلوم ہوتا ہے۔
اس المیہ کا سب سے دردناک پہلو وہ خاموش پیغام ہے جو ہماری نئی نسل تک پہنچ رہا ہے۔ بچے، جو اپنے اساتذہ کو نمونہ عمل مانتے ہیں، جب وہ اپنے استاد کو کتوں کے پیچھے بھاگتے یا ان کی فہرستیں تیار کرتے دیکھیں گے، تو ان کے ذہنوں میں علم کی عظمت کا جو بت پاش پاش ہوگا، اس کا ازالہ صدیوں تک ممکن نہ ہوگا۔ منشی پریم چند نے جس باوقار اور غیور استاد کا خاکہ اپنے افسانوں میں کھینچا تھا، یوپی حکومت کے اس فیصلے نے اس خاکے میں ذلت کے رنگ بھر دیے ہیں۔ کیا یہ وہی بھارت ہے جہاں استاد کے احترام میں بادشاہ اپنے تخت سے اتر جایا کرتے تھے؟ آج اسی بھارت میں استاد کو بلدیہ کے اس خاکروب کے برابر لا کھڑا کیا گیا ہے جو صفائی کا ذمہ دار ہے، حالانکہ صفائی اور آوارہ جانوروں کا انتظام خالصتاً بلدیاتی اداروں کا کام ہے۔ جب ریاست اپنی انتظامی ناکامیوں اور بلدیاتی اداروں کی سستی کا بوجھ اساتذہ کے کندھوں پر ڈالتی ہے، تو یہ دراصل ریاستی مشینری کے دیوالیہ پن کا اعتراف ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے شہروں کا انتظام چلانے والے ادارے اس قدر ناکارہ ہو چکے ہیں کہ انہیں اپنی بنیادی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے بھی اسکولوں سے کارندے ادھار لینے پڑ رہے ہیں۔
قانونی اور آئینی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ دستورِ ہند کی روح اور تعلیم کے حق کے قانون کے صریحاً منافی ہے۔ قانون سازوں نے بڑی دانشمندی سے اساتذہ کو غیر تدریسی کاموں سے دور رکھنے کی شقیں رکھی تھیں تاکہ قوم کا مستقبل محفوظ رہ سکے، لیکن افسوس کہ انتظامیہ نے ان قوانین کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا ہے۔ یہ محض ایک قانون شکنی نہیں بلکہ یہ اس عمرانی معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان طے پایا تھا کہ ریاست معیاری تعلیم فراہم کرے گی۔ جب استاد کلاس روم چھوڑ کر کتوں کی نگرانی کرے گا، تو اس وقت جو تعلیمی نقصان ہوگا، اس کی تلافی کون کرے گا؟ یہ تعلیمی نسل کشی کی ایک ایسی شکل ہے جس میں خون تو نہیں بہتا، لیکن نسلوں کا مستقبل ضرور ذبح ہو جاتا ہے۔ اساتذہ کا کام انسانوں کو انسان بنانا ہے، نہ کہ جانوروں کا حساب رکھنا۔ جب ہم اس بنیادی فرق کو مٹا دیتے ہیں، تو ہم دراصل جنگل کے قانون کی طرف واپسی کا راستہ ہموار کر رہے ہوتے ہیں۔
عالمی تناظر میں یہ صورتحال ہمیں شرمندگی کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتی ہے۔ ترقی یافتہ دنیا، جہاں اساتذہ کو سب سے زیادہ مراعات اور عزت دی جاتی ہے، وہ حیرت سے دیکھ رہی ہے کہ ڈیجیٹل انڈیا کے دعویدار ملک میں مسائل کا حل ٹیکنالوجی کے بجائے اساتذہ کی تذلیل میں ڈھونڈا جا رہا ہے۔ ڈرونز اور جدید نگرانی کے نظام کے دور میں انسانوں سے کتوں کی گنتی کروانا، اور وہ بھی اساتذہ سے، یہ ہماری تکنیکی ترقی کے دعووں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارے پاس عمارتیں اور اسمارٹ کلاسز تو شاید آ گئی ہوں، لیکن وہ اسمارٹ سوچ ابھی تک مفقود ہے جو انسانی وسائل کی قدر جانتی ہو۔ یہ ایک ایسا لمحہ فکریہ ہے جہاں ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا ہم اپنے اساتذہ کو قوم کا معمار سمجھتے ہیں یا سرکاری ملازم۔ اگر اس سوال کا جواب فوری طور پر درست سمت میں نہ دیا گیا اور اس طرح کے غیر دانشمندانہ احکامات کا راستہ نہ روکا گیا، تو وہ وقت دور نہیں جب ہمارے تعلیمی ادارے علم کے مراکز کے بجائے محض سرکاری احکامات کی تعمیل کرنے والے دفاتر بن کر رہ جائیں گے، اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی کہ جب ہمیں ستاروں پر کمند ڈالنی تھی، ہم نے اپنی قوم کے بہترین دماغوں کو گلیوں کی خاک چھاننے پر لگا دیا۔








