Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*شعرائے لکھنؤ نے غزل کے پھول کھلائے*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

شعرائے لکھنؤ نے غزل کے پھول کھلائے*

*مسرور ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر اہتمام کامیاب ردیفی مشاعرہ*

لکھنؤ{ابوشحمہ انصاری} شدید ٹھنڈ غزل کے پھولوں سے ان کی شادابی چھیننے اور شعرا کی قلمی حرارت کم کرنے میں ناکام رہی۔ نہ جذبہ کم ہوا نہ حوصلہ سرد پڑابلکہ پوری تب وتاب سے غزل کے پھول کھانے کے لئے مختلف علاقوں کے جوان دل شعراء سینٹ روز پبلک اسکول میں ڈاکٹر منصور حسن خاں کی دعوت پر تشریف لائے اور مادری ردیف ” غزل کے پھول” پررنگ برنگے پھول کھلائے۔ مسرور ایجوکیشنل سوسائٹی کی کوشش بارآور ہوئی اورنت نئے انداز میں شعراء نے غزل کے پھول کھلائے۔ صدارت معروف رباعی گو ڈاکٹر سنجے مصرا شوق نے کی اور نظامت کی باگ دور رفعت شیدا صدیقی نے سنبھالی۔ بطور مہمان خصوصی ڈاکٹر عتیق فاروقی وحیدر علوی شریک مشاعرہ رہے۔ سیدضیا تقوی مہمان اعزازی کی حیثیت سے شریک رہے۔
اشعر علیگ، مسرو شاہ جہاں پوری، رضوان فاروقی، ڈاکٹر زبیرانصاری کی غزلیں بذریعے وہاٹسیپ موصول ہوئیں۔
منتخب کلام درج ذیل ہے۔:
باغ سخن میں جاکے کبھی دیکھئیے جناب
پہنے ہیں ہرخیال کے پیکر غزل کے پھول
ڈاکٹر سنجے مصرا شوق
لائی ہے چن کے باد بہاری غزل کے پھول
مہکے ہیں اس طرح سے ہماری غزل کے پھول
رفعت شیدا صدیقی
کھلتے ہیں سنگلاخ زمینوں پہ بارہا
ان میں بھی ڈھونڈ لیتے ہیں پانی غزل کے پھول
اختر ہاشمی
کون منظر غزل کا ہے حیدر
منکر داستان غزل کے پھول
حیدرعلوی
رنگیں بھی خواب ہوتے ہیں اور دل پذیر بھی
ذومعنی سچ میں گرہوں ہماری غزل کے پھول
سید ضیا تقوی
شاعر اگر ہیں آپ کھلائیں غزل کے پھول
فن کار ہیں تو سامنے لائیں غزل کے پھول
ڈاکٹر منصور حسن خاں
مرجھاگئی ہے شاخ تخیل ہری بھری
کس نے ردیف ایسی نکالی غزل کے پھول
مسرورشاہ جہاں پوری
غزلوں کے جو حریف تھے وہ بھی یہ کہہ اٹھے
تعریف اس کی جس نے بنائے غزل کے پھول
ڈاکٹرزبیرانصاری
کس نے کہا ردیف ہے گڑبڑ غزل کے پھول
نکلے اسی زمین پہ الھڑ غزل کے پھول
اشعر علیگ
اسلوب فون میں اس لئے رضوان ہے نکھار
کہتا ہوں شعر سامنے رکھ کر غزل کے پھول
رضوان فاروقی
غزلوں کی شاعری کا یہی تو کمال ہے
دیتے ہیں زندگی یہ مچلتے غزل کے پھول
ڈاکٹر عتیق فاروقی
ملتی ہے ان کو عشق سے یہ آن بان شان
ہیں عاشقوں کے دل میں دھڑکتے غزل کے پھول
محمد اعظم قریشی
دوچار پھول ہیں کہ جنھیں جانتے ہیں لوگ
ورنہ تو بے شمار ہیں اردو غزل کے پھول
عاشق رائے بریلوی
یاد جاناں میں جب بھی انقلاب آتا ہے
تب وجود پاتے ہیں من چلے غزل کے پھول
ماجد نثار آشتی
تصور میں جو ان کی یاد میرے ذہن میں آئی
نہ جانے کیسے کھل اٹھے دبے کچلے غزل کے پھول
قاری نعیم منظر
مذکورہ شعراء کے علاوہ ایم مدہوش نے ردیفی غزل سنائی۔ کنوینر پروگرام ڈاکٹر منصور حسن خاں نے کلمات تشکر کے ساتھ پرتکلف ضیافت کی۔