Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*رانی گنج: عرسِ مقدس کے موقع پر دینی، روحانی و انعامی پروگراموں کا شاندار انعقاد، علماء کے فکر انگیز خطابات*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

رانی گنج میں حضرت کمبل شاہ بابا اور حضرت سید شاہ بابا کے عرسِ مقدس کے بابرکت موقع پر دینی و روحانی پروگراموں کے ساتھ ساتھ انعامی مقابلہ جات نہایت عقیدت، احترام اور نظم و ضبط کے ساتھ منعقد کیے گئے۔ اس روحانی اجتماع میں علماء کرام، حفاظ، طلبہ اور عوام الناس کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔پروگرام کے مطابق 31 دسمبر کو بعد نمازِ عصر غسل کی رسم ادا کی گئی، جبکہ بعد نمازِ مغرب تا دیر رات ایک عظیم الشان انعامی مقابلہ آستانۂ حضور غوث بنگالہ کے سامنے واقع گراؤنڈ میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر قرأت، خطابت، آذان اور اسلامی کوئز کے بامقصد مقابلے کرائے گئے۔
ان مقابلہ جات میں آسنسول، رانی گنج اور اطراف و نواح کے علاقوں کے مدارس و اسکولوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس سے دینی ذوق اور تعلیمی معیار کا اعلیٰ مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔
پروگرام کی صدارت حضرت مفتی اورنگزیب عالمگیر سعدی صاحب قبلہ ( آستانۂ حضور غوث بنگالہ) نے فرمائی، جبکہ پروگرام کی قیادت حضرت حافظ و قاری مولانا محمد غلام جیلانی قادری مصباحی (خطیب و امام مسجد بلال، حضور غوث بنگالہ، رانی گنج) نے انجام دی۔
اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مفتی اورنگزیب عالمگیر سعدی صاحب نے فرمایا کہ ایسے دینی مقابلے نئی نسل میں قرآن فہمی، دینی شعور اور اسلامی اقدار کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرسِ اولیاء اللہ ہمیں محبت، اخوت اور خدمتِ خلق کا درس دیتا ہے، جو معاشرے میں امن و اتحاد کے قیام کے لیے نہایت ضروری ہے۔
قیادت فرما رہے حضرت حافظ و قاری مولانا محمد غلام جیلانی قادری مصباحی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرأت، اذان اور اسلامی کوئز جیسے مقابلے بچوں اور نوجوانوں میں دینی دلچسپی پیدا کرتے ہیں، اس لیے ایسے پروگراموں کا انعقاد تسلسل کے ساتھ ہونا چاہیے۔
اسی موقع پر خادمِ اہلِ سنت حضرت حافظ قاری مبین احمد حبیبی صاحب قبلہ (برنپور، آسنسول) نے کہا کہ اہلِ سنت کے یہ اجتماعات اتحادِ امت اور صحیح عقیدے کی پہچان ہیں، اور ہمیں اولیاء اللہ کے پیغام کو عام کرنا چاہیے۔
جبکہ مفکرِ قوم و ملت حضرت علامہ مولانا سرفراز احمد قادری شبلی باڑی (دھنباد، جھارکھنڈ) نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ موجودہ فتنہ پرور دور میں نوجوانوں کو مسلکِ اعلیٰ حضرت سے جوڑنا بے حد ضروری ہے، کیونکہ یہی مسلک اعتدال، محبت اور امن کا راستہ دکھاتا ہے۔
مقابلہ جات کے اختتام پر کامیاب طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔ شعبۂ قرأت میں محمد ساجد حسین (مدرسہ رضائے مصطفیٰ، اکھڑا) نے اول پوزیشن حاصل کی، جبکہ شعبۂ خطابت میں محمد شان رضا (جامعہ قمر الہدیٰ، مزار شریف، رانی گنج) کامیاب قرار پائے۔ شعبۂ آذان میں سید اکبر رضا نوری (دارالعلوم غریب نواز، حسین نگر) نے اول پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح اسلامی کوئز میں مزار شریف کی ٹیم جس میں محمد زید، محمد ارسلان اور محمد شمشاد شامل تھے، نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اول مقام حاصل کیا۔ قرأت، خطابت اور اسلامی کوئز کے کامیاب طلبہ کو نقد 2500 روپے جبکہ اذان کے مقابلے میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے کو نقد 5551 روپے بمعہ تحائف پیش کیے گئے، اس کے علاوہ تمام شرکاء کو ترغیبی انعامات سے بھی نوازا گیا۔
یکم جنوری کو بعد نمازِ فجر قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ دوپہر 12 بجے سے شام 6 بجے تک وسیع پیمانے پر لنگر تقسیم کیا گیا، جبکہ دوپہر 1:30 بجے چادر پوشی، قل شریف اور اجتماعی دعا کا روح پرور منظر دیکھنے کو ملا۔
اسلامی کوئز کے مقابلے میں ٹی ڈی بی کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شمشیر عالم نے بحیثیت جج اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں غوثیہ امن محلہ کمیٹی کے اراکین نے مثالی نظم و ضبط اور بھرپور تعاون پیش کیا، جسے شرکاء اور منتظمین نے خوب سراہا۔
یہ عرسِ مقدس دینی بیداری، روحانی فیوض و برکات اور باہمی بھائی چارے کے فروغ کا ایک روشن اور قابلِ تقلید نمونہ ثابت ہوا۔

Latest News