Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سابقہ بی جے ڈی حکومت کے ناقص فیصلوں کے سبب پل کی تعمیر بند* *صدر ایم ایل اے مانس داتا کی کوششوں سے پاس ہوا آڈر،کسیمیلا پل کے لیے حاصل ہوئی این او سی*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

بالاسور 06 جنوری:سیاسی فائدہ اٹھانے کی نیت سے سابقہ بی جے ڈی حکومت کے دور میں کیے گئے ناقص اور غیر دور اندیش فیصلوں کے سبب کئی ترقیاتی منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم منصوبہ بالاسور شہر کے مضافاتی علاقے کسیمیلا سے نگرم پنچایت کے آرڈ تک پل کی تعمیر کا منصوبہ ہے، جو برسوں سے بند پڑا تھا۔سال 2019 کے عام انتخابات سے چند دن قبل ’ایک یوجنا‘ کے تحت اس پل کی تعمیر کے لیے فنڈ منظور ہونے کا اعلان کرتے ہوئے سنگ بنیاد رکھا گیا تھا، مگر اس کے بعد بالاسور لوک سبھا سیٹ اور صدر اسمبلی حلقہ ہاتھ سے نکل جانے کے سبب پل کی تعمیر کا کام ٹھپ ہو گیا۔ گزشتہ سات برسوں کے بعد اب ایک بار پھر اس پل کی تعمیر کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔صدر حلقہ کے ایم ایل اے مانس کمار داتا کی مسلسل کوششوں سے پل کی تعمیر کے لیے مرکزی آبی کمیشن کی جانب سے ضروری این او سی حاصل ہو چکی ہے۔ دیہی ترقیاتی محکمہ کے سینئر افسران نے اعلان کیا ہے کہ نئے ٹینڈر کے عمل کے بعد جلد ہی پل کی تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا۔اسی تناظر میں آرڈ کھیل میدان میں مقامی پنچایت باشندوں کی ایک عوامی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ایم ایل اے مانس کمار داتا نے شرکت کر کے بتایا کہ آرڈ۔کسیمیلا پل کی تعمیر میں حائل تمام رکاوٹیں دور کر لی گئی ہیں۔ بھارتی اندرونِ آبی گذرگاہ اتھارٹی کی این او سی شرائط کے مطابق پل کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا جائے گا اور اس کے بعد تعمیراتی کام شروع ہوگا۔ایم ایل اے نے امید ظاہر کی کہ یہ پل صدر حلقہ کے ایک بڑے علاقے کے لوگوں کی دیرینہ مانگ کو پورا کرے گا اور نگرم، بوانل، سندھیا وغیرہ پنچایتوں کے عوام کو بالاسور شہر تک سیدھا راستہ میسر آئے گا، جس سے فاصلہ کافی کم ہو جائے گا۔
دیہی ترقیاتی محکمہ کے سپرنٹنڈنگ انجینئر سوبھاگیہ کمار داس نے بتایا کہ پہلے ریلوے محکمے کے اعتراضات اور بعد میں بھارتی اندرونِ آبی گذرگاہ اتھارٹی کی منظوری نہ ملنے کے باعث یہ منصوبہ التوا کا شکار رہا۔ اب این او سی ملنے کے بعد نئے ڈیزائن کے تحت دو 30 میٹر اسپین کو ملا کر اسٹیل گرڈر کی مدد سے 60 میٹر کا ایک اسپین بنایا جائے گا۔ اس کے لیے نیا تخمینہ اور نیا ٹینڈر ہوگا، اور تمام کارروائی مکمل ہونے کے بعد تقریباً دو ماہ کے اندر تعمیراتی کام شروع ہو جائے گا۔
میٹنگ میں موجود مقامی لوگوں نے کہا کہ برسوں کی غیر ضروری تاخیر کے بعد اب ایم ایل اے مانس دتہ کی کوششیں علاقے کے عوام کے لیے خوشی کی بڑی خبر لے کر آئی ہیں۔ انہوں نے ایم ایل اے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے وعدوں کی تکمیل کر کے ایک مثال قائم کی ہے۔

اس موقع پر ضلع پریشد رکن گیادھر بہیرا، علاقائی مارکیٹنگ کمیٹی کے صدر سربیشور مہانتی، سرپنچ بنیتا بھوئیاں، سمیتی رکن رنجن پانی، کہنو چرن مہالک، راجیش ساہو، دلیپ ساہو، ہریش چندر ساہو، سنگیتا سنگھ، ششی کانت راؤت، اننت دلائی، اوشا رانی نائک، جھنو مانی نائک، گریش چندر نائک، پنچانن بانوآ، بابولا بشوال سمیت مختلف پنچایتوں کے سرکردہ افراد موجود تھے۔بالاسور سے عظیم بالیسری کی رپورٹ۔