Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بھارت امریکہ تعلقات: سفارتی قربت یا تجارتی تناؤ؟*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*بھارت امریکہ تعلقات: سفارتی قربت یا تجارتی تناؤ؟*

*بھارت امریکہ دوطرفہ تجارت: حقائق اور چیلنجز*

*از قلم: اسماء جبین فلک*

موجودہ عالمی سیاست میں سفارتی تعلقات محض رسمی ملاقاتوں اور مشترکہ بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کی حقیقی بنیاد معاشی مفادات، تجارتی توازن اور قومی خودمختاری پر استوار ہے۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان حالیہ برسوں میں سفارتی گرمجوشی کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ چوتھے ممالک کے اتحاد، دفاعی معاہدوں اور ٹیکنالوجی کی شراکت داری کی صورت میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم تجارتی محاذ پر تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ کیا بھارت کی تزویراتی خودمختاری امریکی دباؤ کے سامنے برقرار رہ سکتی ہے؟ یہ مضمون حالیہ واقعات کا تجزیاتی جائزہ پیش کرتا ہے، معتبر اعداد و شمار اور تاریخی سیاق کے ذریعے، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ سفارتی قربت کے باوجود تجارتی بے رخی خارجہ پالیسی کو چیلنج کر رہی ہے، جس کا حل متوازن عالمی تعلقات میں پنہاں ہے۔
حال ہی میں امریکی وزیر تجارت جینا ریمونڈو کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے اشارہ کیا کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے میں تاخیر وزیراعظم نریندر مودی کی فون کال میں تین ہفتوں کی دیر کی وجہ سے ہوئی۔ یہ بیان، جو اکتوبر 2024 میں دیا گیا، نہ صرف مذاکرات کی ناکامی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ بھارتی قیادت کی سفارتی حکمت عملی پر گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔ امریکی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بھارت کی تجارتی زیادتی، جو 2024 میں 23 بلین ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ کل تجارت 190 بلین ڈالر ہوئی، اور سخت تکنیکی قوانین اس ناکامی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ بھارت کا موقف ہے کہ وہ اپنے کسانوں اور لبنیاتی صنعت کی حفاظت کر رہا ہے، جیسا کہ عالمی تجارتی تنظیم میں درج ہے۔ یہ صورتحال حقیقت پسندی کے نظریے کی یاد دلاتی ہے، جہاں قومی مفادات ہر چیز پر فوقیت رکھتے ہیں۔ بھارتی قیادت کو عالمی فورمز پر واضح اور جرات مندانہ جواب دینا چاہیے، جیسا کہ 2023 کے جی 20 اجلاس میں کیا گیا، تاکہ خاموشی کی بجائے فعال سفارت کاری کا مظاہرہ ہو۔
اسی طرح بھارت کا روس سے سستا تیل خریدنا اس کی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کا اہم ذریعہ ہے، جو معاشی شرح نمو کو پانچ فیصد تک یقینی بناتا ہے۔ 2025 میں بھارت کی تیل کی کل درآمدات میں روس کا حصہ 40 فیصد تک پہنچ گیا، اور 2024 میں روزانہ 1.7 ملین بیرل کی مقدار درآمد کی گئی، جو یورپ کی پابندیوں کے باوجود جاری رہی۔ امریکہ اسے روس کی یوکرین جنگ میں رسد کی مدد قرار دیتا ہے، اور سینیٹ میں پیش کیا گیا بل روس سے تیل خریدنے والوں پر پانچ سو فیصد اضافی محصولات لگانے کا مطالبہ کرتا ہے، جو بھارت کے سالانہ 100 بلین ڈالر کے تیل کے بل کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ پولینڈ جیسے ممالک دعویٰ کرتے ہیں کہ بھارت نے خریداری کم کر دی، مگر بھارتی وزارت پٹرولیم کے اعداد و شمار اس کی تردید کرتے ہیں، جو 2024 میں 35 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت کا جواز بالکل واضح ہے کہ تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل تک محدود رکھنا مہنگائی کو چھ فیصد پر روکتا ہے۔ یہ کثیر جہتی اتحاد والی پالیسی کی عمدہ مثال ہے، جو بھارت کو امریکہ اور روس دونوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتی ہے، مگر عوام کو اعتماد میں لینے والی شفافیت کی شدید ضرورت ہے۔
لداخ میں 2020 کے فوجی تناؤ کے باوجود بھارت نے چینی کمپنیوں کو سرکاری ٹھیکوں میں دوبارہ شامل کر لیا ہے۔ 2024 میں چینی درآمدات 101 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کل درآمدات کا 15 فیصد ہیں۔ مقامی پیداوار کی ترغیبی اسکیم کے تحت چینی پرزوں کی اجازت اس کی واضح مثال ہے، اور اس سے اسمارٹ فون کی برآمدات میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔ امریکہ اسے اپنے اتحاد کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ بھارت کی معاشی مجبوریاں جیسا کہ سیمی کنڈکٹرز میں 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری اسے ناگزیر بناتی ہیں۔ یہ تجارتی انحصار سیاسی تناؤ کو بڑھاتا ہے، جو عالمی تعلقات کے آزاد خیال نظریے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت کو اپنی خود انحصاری کی پالیسی کو مزید مضبوط کرنا چاہیے تاکہ معاشی مجبوریاں تزویراتی فیصلوں پر حاوی نہ ہوں۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کا “عالمی استاد” اور “دنیا کا رہنما” جیسا بیانیہ حقیقت سے دور ہے۔ سفارتی دورے تو متاثر کن ہیں، مگر زمینی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی توازن 30 بلین ڈالر بھارت کے حق میں ہے، جبکہ محصولات اور ملکیت کے حقوق کے مسائل حل طلب ہیں۔ یہ تشہیر عوام کو گمراہ کرتی ہے، جبکہ عالمی صحافت متوازن تجزیہ پیش کرتی ہے۔
بھارت امریکہ تعلقات سفارتی طور پر مضبوط ہیں مگر تجارتی تناؤ قومی خودمختاری کو کمزور کر رہا ہے۔ روس سے تیل اور چین کے معاملات قومی مفادات کی حفاظت دکھاتے ہیں، مگر شفافیت اور جرات کی ضرورت ہے۔ سفارشات یہ ہیں کہ پارلیمنٹ میں تیل کی پالیسی کی وضاحت کریں، عالمی تجارتی تنظیم میں امریکی محصولات کے بل کا مقابلہ کریں، اور متعدد اتحادوں سے متوازن فائدہ اٹھائیں جیسا کہ برازیل اور انڈونیشیا کرتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کو اعداد و شمار پر مبنی بنائیں۔ عالمی سیاست کے اس شطرنج میں بھارت کو مہرہ نہیں بلکہ ماہر کھلاڑی بننا ہوگا، جو وقار، معاشی مفادات اور شفافیت پر استوار ہو۔