کلٹی میں کوئلہ مافیا کی بے لگام سرگرمیاں ایک بار پھر جان لیوا ثابت ہوئیں۔ تمام تر کوششوں کے باوجود کوئلہ کانوں میں غیر قانونی کوئلہ نکاسی کا سلسلہ بند نہیں ہو پا رہا ہے۔ معاشی تنگی کے باعث علاقے کے غریب لوگ جان جوکھم میں ڈال کر کھلے کوئلہ کانوں سے بغیر کسی حفاظتی انتظام کے کوئلہ جمع کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں آئے دن حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ تازہ واقعہ کلٹی کے بڑیرہ علاقے میں بی سی سی ایل کے ایک کھلے کوئلہ کان میں پیش آیا، جہاں غیر قانونی طور پر کوئلہ نکالنے کے دوران اچانک دھنسان ہو گیا۔ اس حادثے میں کم از کم چھ افراد کے کان کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔
اب تک چار افراد کو کان سے باہر نکالا جا چکا ہے، جن میں سے دو کی موت ہو گئی ہے، جبکہ مرنے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ باقی دو افراد شدید زخمی حالت میں آسنسول ضلع اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کان کے اندر اب بھی دو افراد کے پھنسے ہونے کا امکان ہے، جن کی تلاش اور بچاؤ کے لیے تیز رفتاری سے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ واقعے کے بعد علاقے کی سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس اور سی آئی ایس ایف کے جوانوں کو موقع پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ ادھر حادثے کی خبر ملتے ہی جاں بحق اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کان کے علاقے میں پہنچ گئے، جہاں اپنے پیاروں کی تلاش میں وہ زار و قطار روتے نظر آئے۔ الزام ہے کہ کوئلہ مافیا کے لوگ متاثرہ خاندانوں کو زبردستی علاقے سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس کھلے کوئلہ کان میں اس سے قبل بھی کئی بار دھنسان کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، اس کے باوجود کوئلہ مافیا کا دہشت اور غیر قانونی سرگرمیاں رکنے کا نام نہیں لے رہیں۔ اس تازہ حادثے کے بعد ایک بار پھر کوئلہ کانوں کی سیکورٹی اور غیر قانونی کوئلہ نکاسی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ پولیس نے واقعے کی جانچ شروع کر دی ہے۔










