Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سماج کے آئینے میں انسانی رویے*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*سماج کے آئینے میں انسانی رویے*

تحریر: ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج، بارہ بنکی

انسانی سماج دراصل انسانی رویوں کا مجموعہ ہے۔ جو کچھ ہم سوچتے ہیں، بولتے ہیں اور کرتے ہیں، وہی ہمارے سماج کی پہچان بن جاتا ہے۔ سماج کوئی الگ وجود نہیں رکھتا، بلکہ وہ افراد کے مجموعی کردار اور طرزِ عمل سے تشکیل پاتا ہے۔ اسی لیے جب سماج پر سوال اٹھتے ہیں تو درحقیقت وہ سوال ہمارے اپنے رویوں پر ہوتے ہیں۔ سماج کا آئینہ بہت بے رحم ہوتا ہے، یہ بنا کسی لاگ لپیٹ کے انسان کو اس کی اصل صورت دکھا دیتا ہے۔
آج کا انسان خود کو ترقی یافتہ کہلانا پسند کرتا ہے، مگر اس ترقی کے ساتھ انسانی رویوں میں جو تلخی، خودغرضی اور بے حسی در آئی ہے، وہ لمحۂ فکریہ ہے۔ ہم سہولتوں میں اضافہ کو ترقی سمجھ بیٹھے ہیں، جبکہ اخلاق، برداشت اور احساسِ ذمہ داری پیچھے رہ گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ سماج میں شور تو بہت ہے، مگر سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہر شخص بول رہا ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں۔ ہر کوئی حق مانگ رہا ہے، مگر فرض ادا کرنے کو تیار نہیں۔
انسانی رویوں کا سب سے بڑا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب مفاد سامنے آتا ہے۔ مفاد کی آنچ میں اکثر اخلاق پگھل جاتے ہیں۔ وہی شخص جو باتوں میں انصاف، مساوات اور ہمدردی کی مثالیں دیتا ہے، عمل کے وقت اپنے فائدے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی دوغلا پن سماج کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔ اعتماد ٹوٹتا ہے، رشتے کمزور ہوتے ہیں اور دلوں میں فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
سماج میں پھیلتی بے حسی بھی انسانی رویوں کی ایک خطرناک شکل ہے۔ کسی کے دکھ سے بے خبر رہنا، ظلم دیکھ کر خاموش ہو جانا اور ناانصافی کو معمول سمجھ لینا آہستہ آہستہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو مفلوج کر دیتا ہے۔ جب حساسیت ختم ہو جائے تو پھر صرف قانون، ادارے یا نظام سماج کو نہیں بچا سکتے۔ سماج کو زندہ رکھنے کے لیے زندہ ضمیر انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انسان بنانا بھی ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہم نے تعلیم کو صرف ڈگری اور نوکری تک محدود کر دیا ہے۔ نتیجتاً ذہین دماغ تو پیدا ہو رہے ہیں، مگر باشعور انسان کم ہوتے جا رہے ہیں۔ جب تعلیم اخلاق سے خالی ہو جائے تو وہ انسان کو طاقت تو دیتی ہے، مگر سمت نہیں دیتی۔ ایسی طاقت اکثر سماج کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
انسانی رویوں میں عدم برداشت کا بڑھتا رجحان بھی سماج کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے۔ بات بات پر اشتعال، الزام تراشی اور نفرت نے مکالمے کی روایت کو کمزور کر دیا ہے۔ حالانکہ ایک صحت مند سماج وہی ہوتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے۔ جہاں دلیل کا جواب دلیل سے دیا جائے، نہ کہ گالی اور دھمکی سے۔
رشتوں میں بھی انسانی رویوں کی تبدیلی صاف نظر آتی ہے۔ پہلے رشتے اعتماد اور قربانی سے نبھائے جاتے تھے، اب زیادہ تر رشتے شرطوں اور توقعات پر قائم ہیں۔ جیسے ہی توقع پوری نہیں ہوتی، رشتہ بوجھ لگنے لگتا ہے۔ اس رویے نے خاندانی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ بزرگ تنہا ہوتے جا رہے ہیں، بچے توجہ سے محروم ہیں اور خاندان محض ایک رسمی ڈھانچہ بن کر رہ گیا ہے۔
سماج کے آئینے میں سیاست، معیشت اور مذہب سب کچھ انسانی رویوں کے ذریعے ہی نظر آتا ہے۔ جب رویے صاف ہوں تو نظام بھی بہتر ہو جاتے ہیں، اور جب نیت میں کھوٹ ہو تو بہترین نظام بھی بیکار ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اصلاح کا آغاز ہمیشہ فرد سے ہونا چاہیے۔ ہر شخص اگر اپنے رویے پر نظر رکھے، تو سماج خود بخود سنورنے لگے گا۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چھوٹے چھوٹے رویے بڑی تبدیلیوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ سچ بولنا، وعدہ نبھانا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اور کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا بظاہر معمولی باتیں لگتی ہیں، مگر یہی باتیں سماج کو مضبوط بناتی ہیں۔ ایک فرد کا درست رویہ کئی اور لوگوں کے لیے مثال بن سکتا ہے۔
آخرکار سوال یہی ہے کہ ہم سماج کے آئینے میں کیسا عکس دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسا سماج جو بداعتمادی، نفرت اور خودغرضی سے بھرا ہو، یا ایک ایسا سماج جہاں احترام، انصاف اور انسانیت کو فوقیت حاصل ہو۔ اس سوال کا جواب کسی اور کے پاس نہیں، بلکہ ہم سب کے اپنے رویوں میں پوشیدہ ہے۔ جب انسان خود کو درست کر لیتا ہے، تو سماج خود بخود درست ہونے لگتا ہے۔
مضمون نگار آل انڈیا ماٸناریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرواشاعت کےسیکریٹری ہیں۔