پچھم بردوان ضلع کے سالان پور بلاک سے ایک نہایت دردناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کے باعث 70 سالہ بزرگ نے خودکشی کر لی۔ متوفی کی شناخت نارائن چندر سین گپتا کے طور پر ہوئی ہے، جو چترنجن ریل انجن فیکٹری کے سابق ملازم تھے۔ یہ افسوسناک واقعہ اتوار کے روز ہندوستان کیبلس سے متصل اربند نگر کے وارڈ نمبر 7 میں پیش آیا۔ نارائن چندر سین گپتا اپنی اہلیہ اور تین بیٹیوں کے ساتھ اسی علاقے میں طویل عرصے سے مقیم تھے۔ تینوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں، جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی والدین کے ساتھ رہتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ووٹر لسٹ کی گہری نظرثانی کے دوران نارائن بابو کو معلوم ہوا کہ ان کا اور ان کی چھوٹی بیٹی کا نام مسودہ ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہے، حالانکہ انہیں سماعت (ہیئرنگ) کے لیے نوٹس موصول ہوا تھا۔ سماعت کے لیے درکار دستاویزات کے حوالے سے بار بار بدلتے ضوابط، ایڈمٹ کارڈ قبول نہ کیے جانے اور پی ایف پنشن بک کو ناکافی دستاویز قرار دیے جانے سے وہ شدید ذہنی دباؤ میں آ گئے تھے۔
قریبی لوگوں کے مطابق وہ اس مسئلے پر گزشتہ کئی دنوں سے انتہائی پریشان تھے اور دوستوں، پڑوسیوں اور اپنے سابق ساتھی ملازمین کے ساتھ اکثر اس بارے میں گفتگو کرتے تھے۔ انہیں خدشہ لاحق تھا کہ اگر حکام نے ان کے کاغذات قبول نہ کیے تو ان کا اور ان کی بیٹی کا مستقبل کیا ہوگا۔
مقامی سماجی کارکن پرنس داس نے بتایا کہ نارائن بابو گزشتہ تین دنوں سے خاموش تھے۔ اتوار کی صبح وہ معمول کے مطابق نائی کی دکان گئے، پھر بازار سے خریداری کی۔ بعد ازاں انہوں نے گھر کے نچلے حصے میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کے حوالے سامان کیا اور اوپر کی منزل پر چلے گئے، جہاں انہوں نے بیڈ شیٹ کے ذریعے پنکھے سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سبھی نے انہیں یقین دلایا تھا کہ سماعت کے لیے نوٹس ملنا کوئی غیر معمولی بات نہیں اور مسئلہ حل ہو جائے گا، مگر بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ ان کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سال 2002 کی ووٹر لسٹ میں متعلقہ بوتھ کے سیریل نمبر 1002 پر ان کی بیٹی کا نام موجود ہے، جس میں والد کے طور پر نارائن چندر سین گپتا کا نام درج ہے، تاہم اسی فہرست میں خود نارائن بابو کا نام شامل نہیں تھا۔ مقامی حلقوں کا ماننا ہے کہ انتخابی کمیشن کے بار بار فیصلوں میں تبدیلی، دستاویزات کے حوالے سے ابہام اور گمراہ کن تشہیر نے اس سانحے کو جنم دیا۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد متوفی کی بیمار اہلیہ اور بیٹیاں غم سے نڈھال ہو چکی ہیں۔ علاقے میں سوگ کا ماحول ہے اور لوگ اس واقعے کو انتخابی عمل میں موجود خامیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔










