*ڈیجیٹل درویش*
ازقلم: اسماء جبین فلک
ہمارے عہدِ بے توفیق میں آدمی کے پاس اگر کوئی چیز واقعی اپنی، نجی اور سراسر “شخصی” رہ گئی ہے تو وہ صرف اس کا پاس ورڈ ہے؛ باقی سب کچھ تو یا ‘شیئر’ ہو جاتا ہے یا ‘لیک’۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں راز داری کا تصور ویسا ہی ہو گیا ہے جیسے کسی زمانے میں توبہ کا ہوا کرتا تھا، یعنی کرنی سب کو پڑتی ہے مگر یقین کسی کو نہیں آتا۔ چنانچہ جن باتوں پر پہلے دل دھڑکتا تھا، اب وہاں جیب میں رکھا موبائل وائبریٹ کرتا ہے؛ اور جن خبروں کے لیے پہلے اخبار صبح سویرے چھت پر کبوتروں کے ساتھ نازل ہوتا تھا، اب خبر خود چل کر، بلکہ دوڑتی ہوئی آپ کے بستر تک آتی ہے اور اتنی خود سر ہوتی ہے کہ سچائی سے اجازت لینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتی۔ اسی ہنگامہ خیز دور میں ہمارے ایک نہایت قدیم، شفیق اور کسی حد تک “مضرِ صحت” دوست ہیں جنہیں ہم مصلحت، محبت اور تھوڑی سی مجبوری کے تحت ’نادر خان‘ کہتے ہیں۔ نادر خان کی شخصیت میں وہ تمام خوبیاں یکجا ہیں جو کسی زمانے میں صرف عجائب گھروں یا پرانی واسکٹوں میں پائی جاتی تھیں۔ ان کے نام کے ساتھ ’نادر‘ کا لاحقہ شاید اسی لیے لگا ہے کہ ایسی نایاب اشیاء قدرت کبھی کبھی صرف عبرت کے لیے پیدا کرتی ہے۔ تعارف کے بعد ہم انہیں صرف نادر ہی کہیں گے، اگرچہ ان کی حرکات و سکنات دیکھ کر انہیں نادر کے بجائے ’ڈیجیٹل درویش‘ کہنا زیادہ قرینِ انصاف ہے۔
پرانے زمانے کے درویش جنگلوں، غاروں اور سنسان بیابانوں میں بیٹھ کر چلہ کاٹتے تھے تاکہ دنیا سے کٹ سکیں؛ ہمارے نادر صاحب وائی فائی کے سگنلز کے دائرے میں بیٹھ کر آن لائن مراقبہ کرتے ہیں تاکہ پوری دنیا کو خود سے کاٹ سکیں۔ ان کی درویشی کا یہ عالم ہے کہ کائنات ادھر کی ادھر ہو جائے، آسمان گر پڑے یا بیگم پکار پکار کر ہلکان ہو جائیں، ان کی نظر اسکرین کے سحر سے آزاد نہیں ہوتی۔ یہ وہ واحد درویش ہیں جن کا رابطہ عالمِ بالا سے تو خیر کیا ہوگا، عالمِ ڈیٹا سے نہایت گہرا ہے۔ ان کے ہاتھ میں موبائل ایسے جڑا رہتا ہے جیسے کسی پیشہ ور ملنگ کے ہاتھ میں لکڑی کا کشکول؛ فرق صرف یہ ہے کہ کشکول میں کچھ مانگا جاتا ہے، اور یہ موبائل کے ذریعے بن مانگے علم کی وہ خیرات پوری قوم میں بانٹتے پھرتے ہیں جس کی طلب کسی کو بھی نہیں۔ نادر صاحب کی درویشی کا دوسرا رخ ان کی “سوشل میڈیا” سے وہ والہانہ وابستگی ہے جو کسی زمانے میں مجنوں کو لیلیٰ سے تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مجنوں تو صرف ایک لیلیٰ کے پیچھے خوار ہوا، نادر صاحب نے بیک وقت فیس بک، واٹس ایپ اور ٹویٹر (جو اب ‘ایکس’ ہو کر کسی نامعلوم سمت کو پرواز کر گیا ہے) کی صورت میں درجن بھر لیلائیں پالی ہوئی ہیں، اور وہ سب کی سب ان سے مسلسل توجہ اور ڈیٹا کی قربانی مانگتی ہیں۔
ڈیجیٹل درویش کی صبح کا آغاز سورج کی پہلی کرن سے نہیں، بلکہ اسکرین کی اس نیلی شعاع سے ہوتا ہے جو اندھیرے کمرے میں ان کے چہرے پر پڑتی ہے تو وہ کسی قدیم ممی کے بجائے جدید دور کے بھوت نظر آنے لگتے ہیں۔ ہمارے بزرگ اٹھ کر پہلے پانی پیتے تھے، پھر چائے کا پیالہ سنبھالتے تھے اور پھر کہیں جا کر دنیا کے کاموں کی فکر کرتے تھے؛ نادر صاحب اٹھتے ہی نہار منہ ’نیٹ‘ پیتے ہیں، اور وہ بھی ایسی پیاس کے ساتھ جیسے ریگستان میں بھٹکے ہوئے مسافر کو اچانک ٹھنڈے شربت کی بوتل مل گئی ہو۔ ان کی شہادت کی انگلی میں، جس سے وہ اسکرین کو مسلسل اوپر نیچے (اسکرول) کرتے ہیں، ایک ایسا مستقل، مقدس اور فنی رعشہ پیدا ہو چکا ہے جسے اگر کوئی نیا اور ناتجربہ کار ڈاکٹر دیکھ لے تو دل کے بجائے ان کے انگوٹھے کی ای سی جی تجویز کر دے۔ موصوف موبائل کو ہاتھ میں نہیں رکھتے، بلکہ یوں لگتا ہے کہ موبائل نے انہیں اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور وہ محض ایک انسانی اسٹینڈ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ صبح سے ان کے چہرے پر ایسی گھمبیر سنجیدگی طاری رہتی ہے جیسے ابھی ابھی انہیں اقوامِ متحدہ نے دنیا بچانے کا آخری ٹھیکہ دے دیا ہو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو اس وقت سب سے بڑا خطرہ خود ان کی اسی ’دنیا بچانے والی‘ ڈیجیٹل سرگرمی سے ہے۔
میں نے ایک دن ڈرتے ڈرتے عرض کیا: ”نادر صاحب! یہ صبح صبح کس محاذ پر نکل جاتے ہیں؟ کیا کہیں حملہ کرنا ہے یا دفاع کی کوئی نئی صورت نکالی ہے؟“ انہوں نے عینک کے اوپر سے مجھے ایسے گھور کر دیکھا جیسے میں کوئی وائرس ہوں اور غلطی سے ان کے نظام میں داخل ہو گیا ہوں۔ بولے: ”میاں! خبر کے محاذ پر ہوں! قوم سو رہی ہے، اسے جگانا پڑتا ہے۔ غفلت کی نیند بڑی گہری ہوتی ہے، اور میرے پاس اس کی چابی واٹس ایپ کے پیغامات کی صورت میں موجود ہے۔“ میں نے دل میں کہا کہ قوم کا تو پتہ نہیں، البتہ آپ کی ان “بیدار مغز” حرکتوں سے فرشتوں کی نیند میں ضرور خلل پڑ رہا ہو گا جو آپ کے نامہِ اعمال میں نیکیوں کے بجائے ’فارورڈڈ مینی ٹائمز‘ درج کر رہے ہوں گے۔
ہمارے ڈیجیٹل درویش کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ کسی بھی بات پر یقین کرنے سے پہلے یہ ہرگز نہیں دیکھتے کہ اس کا ماخذ کیا ہے یا اسے کس نے لکھا ہے؛ وہ تو بس یہ دیکھتے ہیں کہ اس کا ’مصرف‘ کیا ہے اور اس سے فوری طور پر کس کا “تیا پانچہ” کیا جا سکتا ہے۔ ان کی نظر میں وہ بات سب سے معتبر ہے جو کسی مخالف کے حسبِ نسب پر ضرب لگائے؛ وہ خبر سب سے مستند ہے جس سے کسی پرانے حریف کا دل دکھ سکے؛ اور وہ اطلاع عین قومی مفاد میں ہے جس سے پورے محلے میں بلاوجہ کا خوف و ہراس پھیل جائے۔ نادر صاحب کی لغت میں ’تحقیق‘ ایک نہایت نفیس، مختصر اور بے ضرر سے عمل کا نام ہے جس میں آدمی اپنی دو انگلیوں سے تین لفظ ٹائپ کرتا ہے: ”فارورڈ کریں پلیز!“ اور اس کے بعد اپنے ضمیر کو یوں مطمئن کر لیتا ہے جیسے اس نے کوئی افواہ نہیں پھیلائی، بلکہ قوم کی بگڑی ہوئی وائرنگ ٹھیک کرنے کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ میں نے ایک بار ٹوکا: ”نادر صاحب، خبر فارورڈ کرنے سے پہلے تھوڑی دیر توقف بھی کر لیا کریں۔“ چونک کر بولے: ”توقف؟ بھلا کس لیے؟“ میں نے کہا: ”صرف یہ سوچنے کے لیے کہ کیا یہ سچ بھی ہے یا محض کسی شرارتی ذہن کی اپج؟“ فرمانے لگے: ”بھائی صاحب، سوچنا تو پرانے زمانے کی سست روی تھی۔ اب تو خبر خود بتا دیتی ہے کہ کیا سوچنا ہے، بلکہ یہ بھی بتا دیتی ہے کہ کس پر غصہ کرنا ہے اور کس کے لتے لینے ہیں۔ سچ کا انتظار کیا تو خبر باسی ہو جائے گی، اور باسی خبر اور باسی کڑھی، دونوں ہی ہضم نہیں ہوتیں۔“
موصوف کا ذہن بیک وقت نہایت سادہ بھی ہے اور حد درجہ پیچیدہ بھی۔ سادہ اس معنی میں کہ جو بات ان کے پہلے سے قائم شدہ تعصب یا خیال کے مطابق ہو، اسے وہ فوراً وحیِ منزل کی طرح سچ مان لیتے ہیں؛ اور پیچیدہ اس معنی میں کہ جو بات کھلی اور واضح حقیقت ہو، اس میں بھی وہ کوئی نہ کوئی ایسی بین الاقوامی سازش تلاش کر لیتے ہیں جس کا سرا سراسر ان کی اپنی ذہانت تک جاتا ہے۔ اگر محلے کی بجلی چلی جائے تو یہ نہیں کہتے کہ لوڈشیڈنگ ہے یا ٹرانسفارمر جل گیا ہے؛ بلکہ آنکھیں سکیڑ کر، لہجے میں پراسراریت بھر کر کہتے ہیں: ”یہ کسی کا اشارہ ہے! پیچھے کوئی اور کہانی چل رہی ہے۔“ اگر دودھ والا ایک دن دیر سے آئے تو اسے ٹریفک کا مسئلہ یا بھینس کی سستی نہیں سمجھتے؛ بلکہ فرماتے ہیں: ”یہ ایک منظم اور مربوط منصوبہ ہے تاکہ ہماری صبح کی چائے کا ذائقہ خراب کر کے ہمارا قومی مورال گرایا جا سکے۔“ حد تو یہ ہے کہ اگر ان کے اپنے موبائل کا نیٹ سست ہو جائے تو وہ اس کا قصوروار پی ٹی اے کو نہیں ٹھہراتے، بلکہ فوراً نتیجہ نکالتے ہیں کہ ”عالمی طاقتیں مجھ سے کچھ چھپا رہی ہیں، اسی لیے ڈیٹا کی رفتار روکی گئی ہے۔“ میں نے ایک دن شرارت سے کہا: ”نادر صاحب! کبھی یہ بھی ممکن ہے کہ نیٹ ورک ہی کمزور ہو؟ سگنل بھی تو تھک سکتے ہیں، آخر بیچارے کب تک ہواؤں میں دوڑتے رہیں گے؟“ بولے: ”نیٹ ورک کمزور نہیں ہوتا میاں، اسے کمزور کیا جاتا ہے!“ میں نے پوچھا: ”آخر کس نے کیا؟“ وہ رازدارانہ لہجے میں بولے: ”وہی!“ میں نے عرض کیا: ”کون وہی؟“ کہنے لگے: ”آپ سمجھتے نہیں؟ وہ جو سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں۔“ میں نے مسکرا کر کہا: ”نادر صاحب! آپ کا یہ ‘وہی’ دراصل آپ کی وہ ذہنی سہولت ہے جسے آپ ہر جگہ ایسے استعمال کرتے ہیں جیسے بیگمات ہانڈی میں نمک ‘حسبِ ذائقہ’ اور ‘حسبِ توفیق’ ڈالتی ہیں۔ جہاں عقل جواب دے جائے، وہاں ‘وہی’ کا لیبل لگا کر جان چھڑا لیجیے۔“
ڈیجیٹل درویش کی شخصیت کا سب سے نازک، بلکہ یوں کہیے کہ سب سے ’ٹرجک‘ پہلو یہ ہے کہ ان کی نفرت اور ان کی پسند کے درمیان ایک ایسی غیر مرئی راہداری ہے، جس سے وہ روزانہ کئی بار گزرتے ہیں مگر خود کو کبھی آئینے میں نہیں دیکھتے۔ دن کے اجالے میں وہ جن لوگوں، جس تہذیب اور جس نام سے خوف کھاتے ہیں اور جنہیں “غیر” قرار دے کر ان کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہیں، رات کے سناٹے میں انہی لوگوں کے فن پر یوں قربان ہوتے ہیں جیسے کوئی پروانہ شمع پر۔ محلے میں کسی داڑھی والے یا مخصوص وضع قطع کے آدمی کا نام اگر ذرا سا بھی ان کے اندیشے کے مطابق نکل آئے، تو موصوف کے ماتھے پر وہ شکنیں نمودار ہو جاتی ہیں جو عام طور پر انکم ٹیکس کے نوٹس کو دیکھ کر پڑتی ہیں۔ مگر اسی شام اگر ٹی وی پر کوئی پرانی بلیک اینڈ وائٹ فلم لگ جائے، مدھوبالا اسکرین پر مسکرا دے، دلیپ کمار (جو ان کے بقول یوسف خان تھے) کا کوئی جذباتی مکالمہ گونج اٹھے، یا محمد رفیع کی تان ٹوٹے، تو نادر صاحب کی آنکھوں میں وہی نمی تیرنے لگتی ہے جو انسان کے دل میں اُس وقت اترتی ہے جب اسے یاد آتا ہے کہ وہ تعصب کا چشمہ لگانے سے پہلے واقعی ایک جیتا جاگتا انسان تھا۔ ایسے موقع پر وہ ہمیں بڑے فخر سے بتاتے ہیں: ”بھئی، فن تو فن ہے! اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، یہ تو روح کی پکار ہے۔“ میں نے ایک بار ان کی اس “روحانیت” پر گرفت کی اور عرض کیا: ”نادر صاحب! آپ کے ہاں فن تو فن ہے، مگر فنکار مشکوک؛ نغمہ محبوب ہے، مگر گانے والا نامنظور۔ یہ کیا تماشا ہے کہ آپ آم تو بڑے شوق سے کھاتے ہیں، مگر پیڑ گنتے وقت کلہاڑی ساتھ رکھتے ہیں؟“ وہ ذرا سا ہنسے، پان کی پیک سنبھالی اور بڑے تفاخر سے بولے: ”آپ بھی عجیب باتیں کرتے ہیں، آپ بات کی گہرائی کو نہیں سمجھتے۔“ میں نے عرض کیا: ”گہرائی تو میں خوب سمجھتا ہوں، مگر ڈرتا ہوں کہ آپ کی اسی گہرائی میں کہیں پوری قوم ہی نہ ڈوب جائے۔“
میرے لیے سب سے زیادہ حظ اور لطف کا مقام وہ ہوتا ہے جب یہ ڈیجیٹل درویش مجھے کوئی طبی ٹوٹکہ یا کوئی “آزمودہ” نسخہ بھیجتے ہیں۔ ایک دن انہوں نے نہایت خلوص کے ساتھ ایک پیغام بھیجا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فلاں خود رو پتا ابال کر پینے سے آدمی کی عمر میں پندرہ سال کا اضافہ ہو جاتا ہے اور فلاں چیز کا استعمال چھوڑ دینے سے ملک کا سارا قرضہ اتر سکتا ہے۔ میں نے جواب میں لکھا: ”نادر صاحب! اس کا کوئی سائنسی ثبوت یا کوئی مستند حوالہ؟“ فوراً جواب آیا: ”ثبوت کی ضرورت ہی کیا ہے میاں؟ پیغام کے نیچے دیکھو، کتنے ہزار لوگوں نے اسے فارورڈ کیا ہے! کیا اتنے سارے لوگ جھوٹے ہو سکتے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: ”نادر صاحب، تعداد کبھی سچائی کا پیمانہ نہیں ہوتی۔ کسی زمانے میں ساری دنیا زمین کو چپٹی سمجھتی تھی، تو کیا ان کے سمجھنے سے وہ چپٹی ہو گئی؟“ بولے: ”مگر وہ تو پرانے زمانے کی بات ہے۔ اب تو سنسر کا دور ہے۔“ میں نے کہا: ”جی بالکل، اور آپ کے ان پیغامات میں ہمیشہ وہ پرانا زمانہ ہی کیوں لوٹ آتا ہے جہاں عقل سے زیادہ توہم پرستی کا راج تھا؟“ فرمانے لگے: ”کیونکہ سچ ہمیشہ قدیم ہوتا ہے!“ میں نے دل میں کہا: ”اور جھوٹ ہمیشہ جدید، خاص طور پر جب اس پر واٹس ایپ کی مہرِ تصدیق ثبت ہو جائے۔“
نادر صاحب کے ہاں شاعری بھی کوئی دل لگی نہیں، بلکہ ایک مہلک ہتھیار ہے۔ جب ان کے اندر کا سویا ہوا آدمی کسی لمحے جاگتا ہے یا شاید غلطی سے کروٹ لیتا ہے، تو وہ شعر پڑھتے ہیں، اور شعر بھی ایسے پڑھتے ہیں جیسے کسی مریض کو کڑوا نسخہ لکھ کر دے رہے ہوں۔ غالب اور اقبال کے اشعار کی تشریح وہ اپنی سیاسی ضرورت اور وقتی غصے کے مطابق یوں کرتے ہیں جیسے کوئی ہوشیار وکیل مقدمے کی نوعیت دیکھ کر قانون کی دفعہ لگاتا ہے۔ ان کا سارا زور معنی پر نہیں بلکہ اپنی نیت پر ہوتا ہے۔ میں نے ایک بار کسی شعر پر ٹوکا: ”نادر صاحب، یہ شعر تو محبت، رواداری اور وسیع المشربی کی بات کر رہا ہے، آپ اسے نفرت کے لیے کیسے استعمال کر رہے ہیں؟“ انہوں نے تیوری چڑھا کر جواب دیا: ”محبت میں بھی احتیاط ضروری ہے میاں! آج کل کے حالات دیکھ کر شعر کے معنی بدلنے پڑتے ہیں۔“ میں نے کہا: ”احتیاط اچھی چیز ہے، مگر آپ کے ہاں احتیاط کا مطلب اکثر بدگمانی ہوتا ہے۔“ فرمانے لگے: ”مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔“ میں نے عرض کیا: ”آپ کسی سوراخ سے نہیں ڈسے جا رہے، آپ تو اس سانپ کو خود پال کر اپنے موبائل میں بیٹھے ہیں اور اسے دودھ کی جگہ ڈیٹا پلا رہے ہیں۔“
اس تمام قصے میں اگر کوئی چیز واقعی قابلِ رحم اور لائقِ ہمدردی ہے تو وہ نادر صاحب کا وہ موبائل فون ہے جو بیچارہ دن رات یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ وہ مواصلات کا آلہ ہے، تفریح کا ذریعہ ہے یا افواہ سازی کی کوئی ایٹمی فیکٹری۔ میں نے نادر صاحب سے دوستی تو خیر نہیں چھوڑی کہ صوفیانہ مزاج یہی سکھاتا ہے کہ انسان سے نہیں بلکہ اس کی حماقت سے اختلاف کیجیے، البتہ ان کے لیے ایک مخصوص دعا ضرور شروع کر دی ہے۔ پہلے میں نے دعا مانگی تھی کہ باری تعالیٰ انہیں عقلِ سلیم عطا فرمائے، پھر اچانک خیال آیا کہ عقل ایک بہت بھاری ذمہ داری ہے، اور اس عمر میں نادر صاحب سے شاید یہ بوجھ نہ اٹھایا جا سکے۔ چنانچہ میں نے اپنی دعا میں تھوڑی سی ترمیم کر لی: ”یا اللہ! ہمارے اس ڈیجیٹل درویش کے موبائل کی بیٹری ذرا جلدی ختم کر دیا کر، مگر صرف اتنی دیر کے لیے کہ وہ چارجر ڈھونڈنے کے بہانے دو منٹ کے لیے نظر اٹھا کر اپنے آس پاس موجود جیتے جاگتے اور زندہ انسانوں کو دیکھ لیں۔“ کیونکہ بعض اوقات قوموں کی اصلاح بڑے بڑے فلسفوں اور انقلابوں سے نہیں، بلکہ صرف چارجر کی عدم دستیابی اور تھوڑی سی خاموشی سے شروع ہوتی ہے۔









