Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*یومِ جمہوریہ کے موقع پر عظیم الشان مشاعرہ و کوی سمیلن کا انعقاد*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری) بارہ بنکی شہر کے معروف عظیم الدین اشرف اسلامیہ انٹر کالج میں یومِ جمہوریہ کے موقع پر ایک عظیم الشان مشاعرہ اور کوی سمیلن کا انعقاد کیا گیا۔
سرپرست جمشید احمد کی موجودگی میں مشاعرہ اور کوی سمیلن کی صدارت استاد شاعر الحاج نصیر انصاری نے کی۔ استاد شاعر ہاشم علی ہاشم اور ریٹائرڈ اسسٹنٹ ڈائریکٹر بیسک ایجوکیشن مبین احمد بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ ریٹائرڈ پرنسپل احرار احمد، صحافی طارق خان اور اختر جمال عثمانی نے بطور مہمان زی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔ شاعر شارق شاکری نے دلکش انداز میں پروگرام کی نظامت کی۔
قبل ازیں کالج کے پرنسپل جمشید احمد نے سکول کیمپس میں پرچم کشائی کی۔ قومی ترانے کے بعد تقریری مقابلے، گلوکاری اور ڈرامہ پرفارمنس جیسے پروگرام پیش کیے گئے۔
شعرائے کرام اور کویوں نے مشاعرہ اور کوی سمیلن میں ایک سے ایک بہترین کلام پیش کیا۔
در بدر جو نہ پھرائے وہ نہیں عشق کوئی
جوش جو نہ کھو دے عاشق کے وہ جلوہ کیا ہے
الحاج نصیر انصاری
نیت بناتی ہے یہ ظروفِ غم
زندگی میری کوزہ گر سے ہے
ہاشم علی ہاشم
کسی بزرگ کو کہنا جو محترم بھولے
تو یوں لگا ہے کہ تہذیب اپنی ہم بھولے
محسن قدوائی
دنیا سے مٹائیں گے نفرت کو محبت سے
ہم اہلِ محبت تھے ہم اہلِ محبت ہیں
صغیر نوری
ہمارے کام زمانے کو یاد ہیں اب تک
ہمارا نام نہ لینے سے کچھ نہیں ہوگا
عثمان بینائی
وہاں پے ہونگی یقیناً ہی رحمتیں نازل
جہاں ہریک تہجد گزار ہو جائے
ڈاکٹر ریحان علوی
یہ دنیا خانقاہِ عشق ہے تو
ہمارا دل بھی سجادہ نشی ہے
وقار بارہ بنکوی
تول کر سارے شبد کہتا ہوں
انیتھا میں نشبد رہتا ہوں
آدرش بارہ بنکوی
دن رات کر رہے ہیں جو میرے لیے دعا
اللہ اُس کو مُجھ سے زیادہ عطا کرے
اِرشاد بارہ بنکوی
لیتا بھی بھلا کیوں کوئی سنگیان ہمارا
آیا نہ ہمیں خُد بھی کبھی دھیان ہمارا
فوزان قدوائی
بات کہتا ہوں دل و ایمان سے
جشن ازادی مناؤ شان سے
نفیس بارہ بنکوی
ڈھونڈتے،ڈھونڈتے،ڈھونڈتے سچ مُجھے مل گیا
ہے وہ زندہ مگر سخت بیمار ہے
شارق شاکری
میں لکھنا ویر رس چاہوں مگر شیریگار لکھتا ہوں
دلوں میں پیار پیدا ہو اِسی سے پیار لکھتا ہوں
آشتوش ترپاٹھی
سکون ممکن نہیں بےتاب دِل کو تیری فرقت میں
قدومِ ناز پہ سر ہو تو عاشق کو قرار آئے
سرور کنتوری
ہر روز جو بناتا ہے سب کے لیے مکان
رہتا ہے آج بھی وہ کرائے کے گھر میں ہے
لطیف بارہ بنکوی
وہ فکر جس میں میر کی غالب کا وصف ہو
اے کاش وہ مُجھے غزل ایسی عطا کرے
ماسٹر شعیب کامل
درد سے دل جوان ہوتا ہے
آدمی تب مہان ہوتا ہے
صبا جہانگیر آبادی
اِن کے علاوہ ھذیل لعل پوری اور بشر مسولوی نے بھی اپنے،اپنےکلام پیش کیے۔
اس موقع پر چوھدری شعیب عرف شبو، ڈاکٹر تاج الدین، فیروز اختر، عبدالمجید، ایڈووکیٹ محمد عاصم، ارشد جمال، سید محمد حارث، اور چوھدری عثمان سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔
پروگرام کے اختتام پر کالج کے پرنسپل جمشید احمد نے تمام شعرائے کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔