ہیراپور تھانہ کے تحت شیام باندھ علاقے میں بدھ کی دوپہر ایک معمولی تنازع نے سنگین رخ اختیار کر لیا، جس کے بعد بڑتھول علاقے کے لوگوں کے درمیان زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی۔ شام تک صورتحال مزید بگڑ گئی، جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔
تفصیلات کے مطابق، بڑتھول کی باشندہ ایک خاتون اپنے دو بچوں کے ساتھ ٹوٹو میں سوار ہو کر شیام باندھ کے راستے گھر واپس جا رہی تھی۔ اسی دوران جاگرتی کلب کے قریب واقع ایک چاپ کی دکان کے سامنے سڑک کے گڈھے میں ٹوٹو کے جانے سے گندا پانی دکان کے باہر بیٹھے کچھ لوگوں پر چھینٹے کی صورت میں پڑ گیا۔ اس بات پر مشتعل افراد نے پہلے ٹوٹو ڈرائیور کے ساتھ مارپیٹ کی۔
الزام ہے کہ خاتون کی گود میں بیٹھے بچے اور اس کے پانچ سالہ بچے کو بھی زد و کوب کیا گیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بڑتھول گاؤں سے لاٹھی ڈنڈوں سے لیس مشتعل افراد موقع پر پہنچ گئے اور مبینہ طور پر چاپ کی دکان میں توڑ پھوڑ کے ساتھ ساتھ قریبی جاگرتی کلب کو بھی نشانہ بنایا۔ اطلاع ملنے پر ہیراپور تھانہ کی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹوٹو ڈرائیور اور بچوں کے ساتھ مارپیٹ میں ملوث چار افراد کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔
گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی بدھ کی شام بڑتھول گاؤں سے سیکڑوں خواتین، نوجوان اور مرد ہیراپور تھانہ پہنچے اور ملزمین کو ان کے حوالے کرنے اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے تھانے کا گھیراؤ کر لیا۔
صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اے سی پی اپشیتا دتہ، سی آئی اشوک سنگھ مہاپاترا اور بورو چیئرمین شیوانند باوری موقع پر پہنچے اور لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ اے سی پی اپشیتا دتہ نے یقین دہانی کرائی کہ واقعہ میں ملوث تمام قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کی جانب سے مسلسل کوششوں اور عوام کے ساتھ میٹنگ کے بعد معاملے کو سلجھانے کی کوشش جاری ہے۔ خبر لکھے جانے تک ہیراپور تھانہ میں حالات پر قابو پانے اور تنازع کو حل کرنے کا عمل جاری تھا۔









