انتخابات سے قبل حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کی اندرونی گروہ بندی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ دُرگاپور کے فریدپور تھانہ علاقہ کے تحت آرتی گاؤں میں سڑک کی تعمیر کو لے کر جمعرات کی دوپہر ترنمول کانگریس کے دو گروپوں کے درمیان شدید تصادم ہوا، جس میں دو افراد کے سر پھٹ گئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ حالات پر قابو پانے کے لیے فریدپور تھانہ کی بھاری پولیس فورس کو موقع پر تعینات کیا گیا۔ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی ہے۔
تصادم میں زخمی شیخ نفیجُل نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شیخ راجو اور شیخ افضل کی قیادت میں ان پر منصوبہ بند حملہ کیا گیا۔ ان کا سر پھاڑ دیا گیا اور ان کے گھر میں گھس کر زبردست توڑ پھوڑ کی گئی۔ نفیجُل کے مطابق ان کی اہلیہ ایک پنچایت رکن ہونے کے باوجود خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔
دوسری جانب مخالف گروپ کے لیڈر شیخ افضل نے جوابی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سڑک کھولنے کو لے کر بات چیت کے دوران سب سے پہلے شیخ نفیجُل کے ماموں نے شیخ راجو پر حملہ کیا۔ اس حملے میں شیخ راجو کی آنکھ زخمی ہوئی جبکہ ان کے بھائی شیخ سامیعُل اسلام عرف ناین کے سر پر بھی شدید چوٹ آئی۔ شیخ افضل نے کہا کہ نفیجُل کے گھر پر حملہ کس نے کیا، اس بارے میں انہیں کوئی معلومات نہیں ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق دُرگاپور اسٹیل پلانٹ کے ٹھیکہ مزدور تنظیم کے ٹوٹنے کے بعد سے ہی آرتی گاؤں میں ترنمول کانگریس کے دو گروپوں کے درمیان کافی عرصے سے اندرونی کشیدگی چل رہی تھی۔ جمعرات کو سڑک کی تعمیر کے سلسلے میں ہونے والی میٹنگ کے دوران یہی پرانا تنازع اچانک پرتشدد رخ اختیار کر گیا، جس سے پورا گاؤں ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا۔
فی الحال آرتی گاؤں میں حالات کشیدہ مگر قابو میں بتائے جا رہے ہیں، اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔










