درگاپور کے آرتی گاؤں میں مبینہ طور پر ترنمول کانگریس کے دو گروپوں کے درمیان پُرتشدد جھڑپ کے بعد پورے علاقے میں شدید تناؤ پھیل گیا ہے۔ اس باہمی تصادم میں دونوں جانب سے ایک ایک شخص شدید طور پر زخمی ہو گیا، جنہیں نازک حالت میں درگاپور سب ڈویژنل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ زخمیوں میں ایک جانب ترنمول کانگریس کے کارکن شیخ نیئن شامل ہیں، جبکہ دوسری طرف مقامی خاتون پنچایت رکن کے شوہر زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ ایک مقامی تنازع سے شروع ہوا، جو دیکھتے ہی دیکھتے سیاسی تصادم کی شکل اختیار کر گیا۔
زخمی ترنمول کارکن شیخ نیئن کا الزام ہے کہ گاؤں میں ایک سرکاری سڑک کی تعمیر میں خاتون پنچایت رکن اور ان کے شوہر رکاوٹ ڈال رہے تھے۔ جب انہوں نے اس کی مخالفت کی تو گھر کی چھت سے ان پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کا سر پھٹ گیا۔
دوسری جانب زخمی پنچایت رکن کے شوہر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تنازع گھر کی رنگائی کو لے کر شروع ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ معاملہ سلجھانے گئے تو ترنمول کے ہی ایک دوسرے گروپ نے ان پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے سیکیورٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکمراں جماعت کے عوامی نمائندے ہی محفوظ نہیں ہیں تو عام لوگوں کی سلامتی پر بھی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
ادھر ترنمول کانگریس کی ضلع قیادت نے اسے گروپ بندی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی تصادم نہیں بلکہ پڑوسیوں کے درمیان ہونے والا باہمی تنازع ہے۔ پارٹی کے مطابق پورے معاملے کی اطلاع ضلع قیادت کو دے دی گئی ہے۔
فی الحال حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے گاؤں میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان برقرار










