Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

** دیندوا موڑ پر سرکاری سڑک کاٹ کر غیر قانونی پانی کی لائن، عوام میں شدید غم و غصہ**

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

سالان پور بلاک کے تحت دیندوا موڑ علاقے میں بغیر کسی سرکاری اجازت کے ڈبلیو بی ایس ای ڈی سی ایل سب اسٹیشن کے سامنے پی ڈبلیو ڈی کی پختہ سڑک کاٹ کر محکمہ پی ایچ ای کی مرکزی پانی کی پائپ لائن میں غیر قانونی طور پر کنکشن دیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر مقامی لوگوں میں سخت ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق دیندوا سے کلیانیشوری جانے والی مرکزی سڑک، دیندوا بوسٹنگ اسٹیشن کے عین سامنے، سڑک کے بالکل درمیان جے سی بی مشین کے ذریعے رات کی تاریکی میں کاٹی گئی۔ کلیانیشوری پی ایچ ای واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے آنے والی اس پانی کی لائن کے لیے سرکاری پی ڈبلیو ڈی سڑک کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
اس غیر قانونی کھدائی کے نتیجے میں مرکزی سڑک پر گہرے گڑھے، ٹوٹی ہوئی سڑک اور بہتا ہوا پانی اب راہگیروں کے لیے موت کا جال بن چکا ہے۔ پانی کے مسلسل رساؤ کی وجہ سے پوری سڑک زیرِ آب ہے، اور رات کے وقت اندھیرے میں یہ گڑھے نظر نہ آنے کے باعث کسی بھی وقت جان لیوا حادثہ پیش آنے کا خدشہ ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر کوئی بڑا حادثہ ہوا تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟
قابلِ ذکر ہے کہ ضابطے کے مطابق پی ڈبلیو ڈی اور پی ایچ ای محکموں کی تحریری اجازت کے بغیر ایک انچ زمین بھی نہیں کھودی جا سکتی، لیکن یہاں تمام اصول و ضوابط کو پامال کرتے ہوئے سرکاری سڑک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بنی سرکاری املاک کو تباہ کر کے عام لوگوں کی جان خطرے میں ڈالی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ محض لاپرواہی نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قصوروار افسران کے خلاف فوری اور مثال قائم کرنے والی کارروائی کی جائے اور ہنگامی بنیاد پر سڑک کی مرمت نہ کی گئی تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔ ادھر پی ڈبلیو ڈی آسنسول ڈویژن کے ایک ایگزیکٹو افسر نے موقع کا معائنہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ پی ایچ ای محکمہ کی خاموشی کئی سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ بار بار رابطہ کرنے کے باوجود محکمہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ وہیں بجلی محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر نے ذمہ داری سے بچتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس معاملے کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔