Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے فقیر موہن یونیورسٹی کے 12ویں کانووکیشن کی رونق بڑھائی*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

بالاسور 03 فروری :فقیر موہن یونیورسٹی (ایف ایم یو)، بالاسور کا 12واں کانووکیشن آج نہایت وقار، علمی شان اور مسرت کے ماحول میں منعقد ہوا، جس میں ملک کی معزز صدرِ جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو کی شرکت نے تقریب کو تاریخی اہمیت بخش دی۔محترمہ صدرِ جمہوریہ دوپہر 12 بج کر 10 منٹ پر فکیر موہن یونیورسٹی کے ہیلی پیڈ پر پہنچیں، جہاں ان کا استقبال اڈیشا کے گورنر و یونیورسٹی کے چانسلر شری ہری بابو کمبھم پتی، ڈی آئی جی شری پناک مشرا، ضلع کلکٹر و ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بالاسور شری سوریابنشی میور وکاش اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شری پرتیش دیباکر نے کیا۔اس کے بعد صدرِ جمہوریہ نے یونیورسٹی میں نو تعمیر شدہ آڈیٹوریم کا افتتاح کیا اور سابق وزیر اعظم شری اٹل بہاری واجپئی کے مجسمے کی نقاب کشائی کی۔

تقریب گاہ میں ان کا استقبال وائس چانسلر پروفیسر سنتوش کمار ترپاٹھی، معزز رکنِ پارلیمنٹ شری پرتاپ چندر سارنگی اور دیگر معزز شخصیات نے کیا۔اپنے کانووکیشن خطاب میں محترمہ صدرِ جمہوریہ نے عظیم ادیب فکیر موہن سیناپتی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے خواتین کی تعلیم کے فروغ میں ان کی بے مثال خدمات کو یاد کیا۔ انہوں نے فقیر موہن کی مشہور ادبی تخلیق “ربتی” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہانی سماجی رکاوٹوں کے باوجود تعلیم کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے کی جرات اور حوصلے کی علامت ہے۔ صدرِ جمہوریہ نے یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی، سماجی خدمات اور کمیونٹی انگیجمنٹ کے میدان میں کی گئی نمایاں پیش رفت کی ستائش کی اور طلبہ کو اقدار، دیانت داری اور سماجی ذمہ داریوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی۔اس کانووکیشن میں مجموعی طور پر 1,831 انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ٹاپرز کو ڈگریاں اور تمغے عطا کیے گئے۔ گزشتہ تین برسوں میں یونیورسٹی کی جانب سے 110 گولڈ میڈلز تفویض کیے گئے، جبکہ 89 ریسرچ اسکالرس کو پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا، جو ادارے کی مسلسل تعلیمی و تحقیقی برتری کا ثبوت ہے۔ریاستی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم اور اوڈیا زبان، ادب و ثقافت شری سوریابنشی سورج نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور ریاست میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے جاری نئی پالیسی اصلاحات اور اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فکیر موہن یونیورسٹی کی تحقیقی کامیابیوں اور علمی اختراعات کی بھرپور تعریف کی۔اس موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگریاں بھی عطا کی گئیں:محترمہ انورادھا بسوال، کھیل کے میدان میں نمایاں خدماتشری سنتانو کمار آچاریہ ، ادب میں گراں قدر خدمات گرو گوپال چندر پنڈا ، کلاسیکی اوڈیسی موسیقی میں ممتاز خدمات کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر سنتوش کمار ترپاٹھی نے یونیورسٹی کی تعلیمی ترقی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر مفصل رپورٹ پیش کی۔اوڈیشہ کے گورنر و چانسلر شری ہری بابو کمبھم پتی نے کہا کہ تعلیم سماج کی ہمہ گیر ترقی کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ انہوں نے طلبہ کو عمر بھر سیکھنے کا عمل جاری رکھنے اور علم کے ساتھ خود کو مسلسل بہتر بنانے کا مشورہ دیا۔تقریب میں رکنِ پارلیمنٹ شری پرتاپ چندر سارنگی، بالاسور، نیلگیری، سمیلیا اور ریمونا کے معزز اراکینِ اسمبلی (ڈپٹی چیف وہپ سمیت)، اعلیٰ سرکاری افسران، ماہرینِ تعلیم اور بڑی تعداد میں طلبہ شریک ہوئے۔اس باوقار تقریب کا اسٹیج اسٹیج آپریشن پروفیسر نہار رنجن راؤت نے بحسن و خوبی انجام دیا۔ تقریب اختتام پذیر ہوئی تو تعلیمی فخر، حوصلے اور تحریک کا ایک یادگار منظر قائم ہو چکا تھا، جس نے فقیر موہن یونیورسٹی کو اوڈیشہ کے ایک ممتاز علمی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کر دیا۔بالاسور سے عظیم بالیسری کی رپورٹ۔