جمعرات کی صبح آسام میں آدیواسی برادری کے افراد پر مبینہ مظالم کے خلاف آسنسول میں آدیواسی برادری کی جانب سے ضلع مجسٹریٹ دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی ریلی آسنسول بی این آر موڑ سے شروع ہو کر ضلع مجسٹریٹ دفتر پر اختتام پذیر ہوئی۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ آسام میں طویل عرصے سے آدیواسی برادری کے لوگوں پر مختلف نوعیت کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ آدیواسی برادری کے ضلع سکریٹری موتی لال سورین نے بتایا کہ گزشتہ 19 تاریخ کو خود کو مقامی باشندہ قرار دینے والے کچھ افراد نے آدیواسی برادری کے گھروں کو نذر آتش کیا اور عام لوگوں کو ہراساں کیا۔ موتی لال سورین کے مطابق یہ حملے آدیواسی برادری کے لوگوں کو وہاں سے بے دخل کرنے کے مقصد سے منصوبہ بندی کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ آسام میں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہاں صرف مخصوص طبقے کے لوگ ہی رہ سکتے ہیں جبکہ آدیواسی برادری کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی جا رہی۔
اس واقعہ کے خلاف آدیواسی برادری کی جانب سے ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک عرضداشت بھی پیش کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ آسام میں آدیواسی برادری کے خلاف تمام حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے مرکزی سطح پر مداخلت کی جائے۔
احتجاجی پروگرام کے دوران ضلع مجسٹریٹ دفتر کے احاطے میں کچھ دیر کے لیے کشیدگی پیدا ہوئی، تاہم صورتحال قابو میں رہی۔






