آسنسول : مویشی تسکری معاملہ میں گرفتار انوبرتا منڈل کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے پھر جیل حراست میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔بدھ کے دن سی بی آئی کے خصوصی عدالت کے جج راجیش چکرورتی نے انوبرتا منڈل کی ضمانت عرضی پھر خارج کرتے ہوئے انہیں جیل حراست میں رکھنے کا حکمدیا ہے۔اگلی شنوائی آیندہ 29اکتوبر کو ہوگی۔ شنوائی آسنسول سی جے ایمکورٹ میں ہوگی۔ شنوائی کی تاریخ سے یہ صاف ظاہر ہے کہ انوبرتا کی درگا پوجا تہوار جیل میں ہی ہوگی۔بدھ کے دن وکیل سندیپن گنگو پاندھیائے اور وکیل انربن گوہا ٹھاکر نے اپنے موکل انوبرتا کی ضمانت کے لیے عرضی داخل کی۔انہوں نے یہ دلیل پیش کی کہ مویشی تسکری کے اہم ملزم کو ضمانت دےدی گئی ہے۔ کوئی 32دن جیل میںرہا تو کوئی 33دن۔بغیر جیل حراست کے کسی کو ضمانت نہیں دی گئی۔انوبرتا کے وکلاء نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گو تسکری معاملہ میں انعامل حق،بی ایس ایف کمانڈنٹ ستیش کمار،انعامل کی اہلیہ رشیدہ بی بی،وکاش مشرا،شیخ عبد الطیف،انارل شیخ،تانیہ شانیال،بادل سانیال کو ضمانت دے دی گئی ہے۔وکلاء کے مطابق بھارت سے بنگلہ دیش مویشی تسکری کرنے والوں کو ضمانت مل گئی ہے اور جس پر بیر بھوم سے مرشد آباد گائے لے جانے کاالزام ہے وہ اب بھی جیل میں ہے۔اس کے بعد انکے وکلاء نے اپنے موکل کے جسمانی کمزوری کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت کی عرضیداخل کی۔وکیلوں کا کہنا ہے کہ جیل میں بیت الخلاء کی حالت انتہاءی خراب ہے۔انکے موکل کا کھانا پینا بھی صحیح نہیں ہورہا ہے۔65سالہ انوبرتا کی طبعیت مزید بگڑنے کے لیے یہ ماحول کافی ہے۔
دوسری جانب سی بی آئی کے وکیل راکیش کمار نے کہا کہ دو تنظیموں کے ذریعہ کافی پیسے کا لین دین کیا گیا ہے۔بینک کے ذریعہ بھی کافی رقم منتقل کی گئی ہے۔سماجی تنظیموں کے نام پر کئی کالج کھل گئے ہیں۔اس ریاست کے علاوہ دیگر ریاست میںبھی ایسا ہی ہوا ہے۔سبھی پہلوؤں پر غور کریں۔اس کے علاوہ سی بی آئی کے وکیل نے یہ دعویٰ کیا کہ انوبرتا منڈل بڑے اثر ورسوخ والے نیتا ہیں اگر باہر آئے تو وہ جانچ کو متاثر کریں گے۔جج نے دنوں جانب کی دلیل سننے کے بعد ضمانت کی عرضی خارج کردی۔














