*مودی حکومت نے کسانوں کے خون اور پسینے کو فروخت کردیا*
*سرفرازاحمدقاسمی* حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طویل انتظار کے بعد پچھلے مہینے جس تجارتی معاہدے کا اعلان کیا گیا،اسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیراعظم نریندرمودی دونوں نے اپنی اپنی جیت قرار دیا ہے،امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعوی کیا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ایک نیا تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے،یہ اعلان انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد کیا،ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکہ ہندوستانی اشیاء پر ٹیرف کو کم کر کے 18 فیصد کردے گا، جبکہ نئی دہلی،امریکی مصنوعات پر اپنے ٹیرف اور نان ٹریف رکاوٹیں ختم کرنے کی سمت پیش رفت کرے گا،ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ نئے ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے،تاہم اس اعلان کے کئی اہم پہلو اب بھی غیر واضح ہیں،ٹرمپ کے پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی ٹیرف 25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کیے جائیں گے لیکن اسی پوسٹ میں ہندوستان کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے کا ذکر بھی شامل تھا،ٹرمپ نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ ہندوستان امریکی مصنوعات پر اپنے تمام ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں ختم کردے گا لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس دائرے میں کون سی اور کتنی مصنوعات شامل ہوں گی؟سوال یہ بھی ہے کہ آیا زرعی مصنوعات،غذائی اجناس،جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خوراک (جی ایم فوڈ)اور دیگر ریگولیٹیڈ درآمدات جیسے حساس شعبے بھی اس معاہدے کا حصہ ہوں گے؟ اب تک ہندوستان کی تاریخ یہی رہی ہے کہ ان شعبوں کو غیر ملکی مسابقت کے لیے کھولنے سے گریز کرتارہا ہے،اسی طرح ٹرمپ کا یہ دعوی بھی سوالات کے گھیرے میں ہے کہ بھارت امریکہ سے 500 ارب ڈالر سے زائد کی توانائی، ٹیکنالوجی،زرعی مصنوعات اور دیگر اشیاء خریدے گا،حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اس وقت امریکہ سے سالانہ 50 ارب ڈالر سے بھی کم کی درآمدات کرتا ہے،اس سطح تک پہنچنے میں دو دہائیاں یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے،اس لیے یہ دعوی کسی فوری اور ٹھوس وعدے کے بجائے ایک طویل مدتی ہدف زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
کانگریس قائد راہل گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس معاہدے میں امریکی دباؤ کے آگے وزیراعظم نریندر مودی جھک گئے اور اس کے نتیجے میں کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا،ان کے بقول 4 ماہ سے رکا ہوا یہ معاہدہ اچانک کیوں اور کیسے منظور ہوا؟یہ عوام کے لیے ایک پہیلی بنی ہوئی ہے،راہل گاندھی کا موقف ہے کہ امریکہ میں کاروباری شخص اڈانی کے خلاف کیس جیسے معاملات نے وزیراعظم پر دباؤ بڑھایا اور ملکی مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے تجارتی معاہدے کی منظوری دی گئی،اپوزیشن کے تنقیدوں کی بوچھار پر حکومت نے ہند،امریکہ تجارتی معاہدے کے سلسلے میں جلد ہی پارلیمنٹ میں بیان دینے کا اعلان کیا ہے،راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان نے سخت اعتراض کیا کہ پارلیمنٹ کو اس معاہدے کی جانکاری نہیں دی گئی،جبکہ امریکہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس معاہدے کا ذکر کیا گیا،جس پر جے پی نڈا نے اپوزیشن کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قراردیتے ہوئے کہا کہ حکومت جلد ہی پارلیمنٹ کو اس معاہدے کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی،انہوں نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اچھائی میں بھی برائی تلاش کرنا اس کی عادت بن گئی ہے اور یہ طریقہ جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے،اسی دوران کانگریس کے سینئر قائد جے رام رمیش نے وزیراعظم اور مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب ہندوستان کو اپنے اہم اور قومی فیصلوں کی اطلاع خود اپنی حکومت کے بجائے امریکہ کے صدر یا ان کے نمائندوں سے ملتی ہے،انہوں نے اس رجحان کو ٹرمپ نربھرتا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کی قومی خود مختاری کے لیے سنگین خطرہ ہے،جے رام رمیش نے سابق واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ماضی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اپنے کردار کا دعوی کیا حالانکہ حکومت ہند نے اسے مسترد کیا ان تمام واقعات سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو وزیراعظم پر غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے،ہندوستان اور امریکہ کی جانب سے معاہدے کے سلسلے میں کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا گیا نہ ہی کسی تحریری معاہدے یا عمل درآمد کے واضح طریقہ کار کا اعلان ہوا ہے،اس صورتحال میں ماہرین اس اعلان کو ایک مکمل اور نافذ ہونے والے تجارتی معاہدے کے بجائے محض ایک سیاسی اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے پر قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے گزشتہ دنوں وزیراعظم مودی کو نشانہ بنایا تھا انہوں نے 2 فروری کو پارلیمنٹ میں دعوی کیا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو کمپرومائز دباؤ میں کر لیا گیا ہے،اسی لیے انہوں نے امریکہ کے ساتھ یہ تجارتی معاہدہ کیا ہے،انہوں نے پارلیمنٹ احاطے میں یہ بھی الزام لگایا کہ وزیراعظم نے اس معاہدے کے ذریعے ملک کو بیچ دیا ہے اور وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں ان کی شبیہ کا غبارہ نہ پھٹ جائے، کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ کسی نہ کسی وجہ سے وزیراعظم مودی نے اس معاہدے پر دستخط کردیے،وزیراعظم مودی شدید دباؤ میں ہیں،انہیں ڈر ہے کہ ہزاروں کروڑ روپے خرچ کر کے جو شبیہ بنائی گئی ہے، کہیں وہ غبارہ پھٹ نہ جائے،اصل مسئلہ نرواے جی کا بیان نہیں ہے وہ تو صرف ایک سائیڈ شو ہے اصل بات یہ ہے کہ بھارت کے وزیراعظم کمپرومائز ہو چکے ہیں جو تجارتی معاہدہ چار مہینوں سے رکا ہوا تھا،اس میں کچھ بھی نہیں بدلا اور کل شام اچانک اس پر دستخط کردیے گئے،انہوں نے دعوی کیا کہ وزیراعظم کو کس نے کمپرو مائز کیا اور کیسے کیا؟ یہ بھارت کی عوام کو سوچنا چاہیے،بھارت کے کسانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس معاہدے میں آپ کی محنت اورآپ کا خون پسینہ وزیراعظم نریندر مودی نے بیچ دیا ہے،انہوں نے صرف آپ کو نہیں بلکہ پورے ملک کو بیچ دیا ہے،راہل گاندھی نے یہ بھی دعوی کیا کہ انہیں لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر پیش کیے گئے شکریہ کی تجویز پر بولنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، کانگریس نے امریکی وزیر زراعت براک رولنز کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت پر حملہ کیا، بروک رولنز نے کہا تھا کہ اب امریکی کسانوں کی مصنوعات،بھارت کی منڈی میں فروخت ہوں گی، اس سے امریکہ کے دیہی علاقوں میں پیسہ آئے گا،امریکی کسانوں کے لیے بھارت کی منڈی انتہائی اہم ہے،ٹرمپ نے اس معاہدے کے ذریعے امریکی کسانوں کو فائدہ پہنچایا ہے، کانگریس نے اس بیان کو بھارت کے لیے انتہائی تشویش ناک قراردیا،امریکی وزیر زراعت کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ مودی حکومت نے بھارتی کسانوں کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ معاہدہ کیا ہے،اس سے بھارت کے کسانوں کو نقصان ہوگا،اب انہیں اپنے ہی ملک میں امریکی کسانوں کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا،یہ مکمل طور پر بھارتی کسانوں پر حملہ ہے،وزیراعظم مودی کو جواب دینا چاہیے کہ انہوں نے بھارتی کسانوں کے مفادات کا سودا کیوں کیا؟لوک سبھا میں بولنے کی اجازت نہ دیے جانے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک مضمون سے اقتباس پر اصرار کیا جو سابق آرمی چیف جنرل نروانے کی غیر شائع شدہ کتاب کے بارے میں ہے،راہل گاندھی نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قائد اپوزیشن کو صدر جمہوریہ کے خطاب پر اظہار خیال کی اجازت نہیں دی گئی،ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا کہ مودی مفاہمت کرچکے ہیں وہ نروانے اور ایپیسٹن فائلز کے بارے میں پارلیمنٹ میں مجھے بولنے کی اجازت دینے سے خوفزدہ ہیں اور اب انہوں نے ٹیرف پر سمجھوتہ کیا ہے،کانگریس نے مطالبہ کیا کہ مودی حکومت کو امریکہ یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدوں کی تفصیلات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے،پارٹی نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے ہندوستان کے کسانوں کی قیمت پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے مکمل طور پر خود سپردگی اختیار کی، کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ مودی کی درخواست پر ہند امریکہ تجارتی معاہدہ فوری اثر کے ساتھ نافذ ہورہا ہے،پارٹی نے یہ بھی دعوی کیا کہ یہ درخواست توجہ ہٹانے کے لیے کی گئی ہے، کیونکہ چین کے تعلق سے ان کی بزدلی اور خود سپردگی کو راہل گاندھی نے بے نقاب کیا ہے، صدر ٹرمپ نے کل رات دیر گئے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ہند امریکہ تجارتی معاہدے کا اعلان کیا جارہا ہے اور اس پر مسٹر مودی کی درخواست پر فوری اثر کے ساتھ عمل ہو رہا ہے،یہ درخواست سرخیاں بٹورنے کی کوشش ہے،رمیش نے ایکس پر لکھا کہ اگر مودی سمجھتے ہیں کہ وہ اس طرح سے بیانیہ پر کنٹرول کرسکتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں؟ کیونکہ نہ صرف قومی سلامتی کے لئے ان کی دغا بازی بے نقاب ہوچکی ہے،بلکہ ہندوستان کے کسان ان کے دوغلے پن کو دیکھ رہے ہیں اور ان کے مفادات کو فروخت کرنے پر ان کی آمادگی سے واقف ہورہے ہیں،رمیش نے کہا کہ ہندوستان ان افسوسناک واقعات کی وجہ سے معدوم ہو گیا ہے۔
ٹریڈ ڈیل میں نریندر مودی نے کسانوں کو خوشحال بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے لیکن وہ کسان امریکہ کے ہیں یہ تلخ تبصرہ کانگریس نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طے پائے تجارتی معاہدے پر کیا ہے، کانگرس نے اس معاہدے کو ہندوستان اور ہندوستانی کسانوں کے لیے زبردست خسارے والا بتایا ہے،اس کے نقصانات کا ذکر پارٹی لیڈران تو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کرہی رہے ہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی پارٹی ٹیکسٹ اور ویڈیوز کی شکل میں اپنی بات رکھ رہی ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایک سفر جاری ہے،پوسٹ میں کانگریس نے امریکہ سے تجارتی معاہدے کو ہندوستانی کسانوں کے لیے خطرناک قراردیا ہے، اس تعلق سے ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے،جس میں وزیراعظم مودی کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے،ویڈیو کے بیک گراؤنڈ سے آواز آرہی ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی اپنے ڈیئر فرینڈ ٹرمپ سے ٹریڈ ڈیل کرنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں مگر یہ کوئی دو فریقی معاہدہ نہیں بلکہ نریندر کا یکطرفہ سرینڈر ہے،ویڈیو میں آگے کہا گیا ہے کہ آئیے سمجھتے ہیں کس طرح مودی نے امریکہ کے ساتھ خسارے کا سودا کیا ہے؟ گزشتہ سال تک امریکہ ہندوستانی سامانوں پر دو سے تین فیصد ٹیرف لگاتا تھا،اب مودی نے جو تجارتی معاہدہ کیا ہے اس میں ہندوستان کے سامان پر 18 فیصد لگائے گا،دوسری طرف بدلے میں ہندوستان امریکی سامانوں پر ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئر زیرو فیصد تک گھٹائے گا،ویڈیو میں ہند امریکہ تجارتی معاہدے کے اس ضابطے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے تحت امریکی زرعی مصنوعات ہندوستانی بازار میں بآسانی پہنچائے جائیں گے، کانگریس کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے اپنا بازار امریکی زرعی مصنوعات کے لیے کھول دیا ہے،اس سے ہندوستانی کسانوں کا زبردست نقصان ہوگا، مجموعی طور پر یہ معاہدہ ہندوستان کے لیے بڑے خسارے کا ثابت ہوگا اوراس کا خمیازہ ہمارے کسانوں،تاجروں اور ملک کی عوام کو بھگتنا پڑے گا لیکن نریندر مودی کو اس کی کوئی فکر ہی نہیں ہے،مزید ایک ویڈیو ایکس ہینڈل پر شیئر کی گئی ہے جس میں کیپشن لگایا گیا ہے مودی نے امریکہ کی ٹریڈ ڈیل میں ہمارے کسانوں کی خوشیاں فروخت کردی،اس ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کے مائی فرینڈ ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی طرح ٹریڈ ڈیل کا اعلان بھی خود ہی کردی،اس میں مزید کہاگیا کہ مودی کی گزارش پر تجارتی معاہدہ کیا جارہا ہے،امریکہ کے اوپر ہندوستان ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئر زیرو فیصد تک گھٹائے گا،ویڈیو میں ایک اینکر یہ بھی کہہ رہا ہے کہ مودی روس سے تیل نہیں خریدیں گے،تیل کی خریداری امریکہ اور وینز ویلا سے ہوگی لیکن سب سے زیادہ حیران کرنے والی بات زراعت سے متعلق ویڈیو میں آئی ہے۔
راہل گاندھی نے مودی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ قومی مفادات پر سمجھوتہ کررہے ہیں اور اپنے کارپوریٹ اتحادیوں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں،ایکس پر جاری ایک سخت بیان میں راہل گاندھی نے وزیراعظم کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے شرم کے مسئلے کو بنیاد بنایا،انہوں نے لکھا کہ مسٹر مودی آپ شرم کی بات کرتے ہیں،آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ واقعی شرمناک کیا ہے،نام نہاد ایپسٹین فائلز کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم کا نام،ایک وزیر اور ایک قریبی ساتھی کے ساتھ آنجہانی امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں سامنے آیا ہے جس پر جنسی اسمگلنگ نیٹ ورک چلانے کا الزام تھا،آپ کا نام اپنے وزیر اور اپنے ساتھی کے ساتھ ایپسٹین فائلز میں آنا اور ایسے سنگین مجرم سے تعلق ہونا یہ شرمناک ہے،وزیراعظم کے دفتر نے اس مخصوص الزام پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے،حکومت اس سے قبل اپوزیشن کے الزامات کو سیاسی محرکات پر مبنی قراردے کرمسترد کرچکی ہے،راہل گاندھی نے امریکہ کے ساتھ حکومت کے تجارتی معاہدے کو بھی نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اس سے قومی مفادات پر سمجھوتہ ہوا،انہوں نے لکھا کہ وہ تجارتی معاہدہ جوآپ نے امریکہ کے ساتھ کیا،جس میں آپ نے ملک کو بیچ دیا یہ شرمناک ہے،انہوں نے مزید الزام لگایا کہ آپ نے ہمارے ملک کا ڈیٹا امریکہ کے حوالے کردیا،آپ نے کسانوں کو تباہ کیا،آپ نے ٹیکسٹائل صنعت کو برباد کردیا یہ شرمناک ہے، کانگریس مسلسل مرکزی حکومت کی زرعی پالیسیوں اور تجارتی فیصلوں پر تنقید کرتی رہی ہے، یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان سے چھوٹے پیداوار کنندگان اور مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے،تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی معاشی اصلاحات کا مقصد ترقی کو فروغ دینا،سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور ہندوستان کی عالمی مسابقت کو بہتر بنانا ہے،راہل گاندھی نے امریکہ میں صنعت کار گوتم اڈانی کے خلاف جاری قانونی کاروائیوں کا بھی حوالہ دیا اور دعوی کیا کہ اس معاملے نے حکمراں حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے،انہوں نے کہا کہ پورا ملک جانتا ہے کہ امریکہ میں اڈانی کے خلاف جاری مقدمہ نے آپ کی کئی راتوں کی نیند اڑا دی ہے کیونکہ اس کا تعلق بی جے پی اور آپ کے مالیاتی ڈھانچے سے ہے،14 ماہ سے اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی یہ شرمناک ہے،وزیراعظم کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ مسٹر مودی آپ اپنے دوستوں انیل امبانی،اڈانی اور اپنے لیے جو مناسب سمجھیں کریں،ہم ملک کے دفاع کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور اسکے لئے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے،مودی حکومت نے کسانوں کے خون اور پسینے کو فروخت کردیا ہم دیش کو یہ بتاتے رہیں گے۔
*(مضمون نگارمعروف صحافی،سیاسی تجزیہ نگار اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com







