*🌟صداے حق۔۔۔۔۔ درویشوں کی چوکھٹ سے۔۔۔۔۔۔۔۔*
اللہ کا قرب کسی ظاہری دعوے کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ دل کی حالت کا فیصلہ ہوتاہے ۔کیا عبادت کی کثرت،زبان کی روانی،لباس کی سادگی اللہ کے قریب کر دیتی ہے۔دل اگر غرور سے بھرا ہواگر اپنی نیکیوں پر ناز ہواگر دوسروں کو حقیر سمجھےتو وہ دل اللہ کے قربت سے دور ہو جاتاہے.
انسان اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھے۔جب بندہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنےلگتا ہےتووہ دراصل اللہ کی عظمت کے مقابل خود کو کھڑا کر لیتا ہے۔۔
سخت دلوں میں نہ تو ندامت اترتی ہےاور نہ ہی اللہ کی طرف لوٹنے کا جزبہ پیدا ہوتا ہے۔جب انسان اپنی کمزوریوں کو اپنے گناہوں کو قبول کر لیتا ہے۔اپنی بے بسی ومحتاجی کو اللہ کے آگے رکھ دیتا ہےتو وہ اللہ کے قریب ہو جاتاہے۔دنیا استعمال کرنا منع نہیں مگر دنیا کو دل میں بیٹھالینا اللہ کے قرب کو حاصل کرنے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔۔۔جب دلوں میں مال،برتری،لالچ،،شہرت اور تعریف کی خواہش پیدا ہوتی ہےتو وہاں اللہ کے قرب کیلیےجگہ باقی نہیں رہتی۔
جب تک نفس سلامت اور تندرست ہے دل بیمار رہتا ہےاور جب دل بیمارہوتو اللہ کے نور کو قبول نہیں کر سکتا اس وقت انسان اصلاح کو توہین اور نصیحت کو بوجھ بنا لیتا ہے۔انسان عبادت تو کرتا ہے مگر دل اللہ کے اگے جھکتا نہیں وہ اپنے نفس کو توڑتا نہیں نفس اپنی بقا کیلےانسان کو ہر طرح کے دھوکھے دیتا ہے کبھی علم کا تکبر کبھی عبادت کا غرور کبھی دولت کی انا۔۔۔
عاجزی کیا ہے؟اپنی نیکیوں کو کم سمجھنااپنے گناہوں کو یاد کرنااور اپنے کو حقیر سمجھنا جو اپنی خطاوں پر شرمندہ ہو اور اللہ کی بارگاہ میں امید کے ساتھ جھک جاۓ اب وہ دل اللہ کی طرف مایل ہو جاتاہےاور اس پر سکون اترنا شروع ہو جاتی ہے
توبہ کرو کے توبہ دل کی واپسی کا نام ہے۔توبہ وہ نہیں جو زبان پر ہو توبہ وہ ہے جو دل کو بدل دے اور دل کی یہ نامت اللہ کو بہت پسند ہے۔۔۔
تحریر۔۔محمد صابر اسمعیل
سیتارامپور ۔ضلع۔پچھم بردوان
رابتہ۔8436355526










