مغربی بنگال میں جاری اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے اور کئی ناموں کو “انڈر ایڈجوڈیکیشن” میں رکھنے کے معاملہ پر سماجی تنظیم India Awake Initiative نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اس سلسلہ میں فیروز خان (ایف کے) نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور چیف الیکٹورل آفیسر، ویسٹ بنگال کے دفتر کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر عمل کے دوران عام لوگوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس کے باوجود بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ میں “انڈر ایڈجوڈیکیشن” کے زمرہ میں ڈال دیے گئے ہیں جبکہ کئی افراد کے نام مکمل دستاویزات جمع کرنے اور سماعت میں شرکت کے باوجود فہرست سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث عوام کے درمیان تشویش اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
اویک انڈیا نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ویسٹ بنگال میں انتخابات کے اعلان سے قبل ایسے تمام معاملات کی مکمل جانچ کی جائے اور انہیں جلد از جلد حل کیا جائے۔ ساتھ ہی تنظیم نے یہ بھی اپیل کی ہے کہ حتمی ووٹر لسٹ انتخابات کے اعلان سے پہلے جاری کی جائے تاکہ پورا عمل شفاف، غیر جانبدار اور واضح رہے۔ تنظیم نے اپنے خط میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی حقیقی اور اہل ووٹر کو ہندستان کے آئین کے آرٹیکل 326 کے تحت حاصل حقِ رائے دہی سے محروم ہونا پڑے۔
اویک انڈیا کا کہنا ہے کہا جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ ہر اہل شہری کو ووٹ دینے کا پورا حق اور موقع ملے۔ آخر میں فیروز خان نے کہا کہ India Awake عام لوگوں کی مشکلات اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل آواز اٹھاتا رہے گا اور انہیں انصاف دلانے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔








