Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*2026 کا عالمی منظر نامہ: ایران بطور عالمی نجات دہندہ؟*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

2026 کا عالمی منظر نامہ: ایران بطور عالمی نجات دہندہ؟*

*مشرقِ وسطیٰ کی نئی جیو پولیٹکس اور ایران کا کلیدی کردار*

*یک قطبی دنیا کا خاتمہ: ایران کی مزاحمتی حکمتِ عملی*

*ازقلم: اسماء جبین فلک*

عصرِ حاضر کا عالمی منظر نامہ اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی حرکیات اس بات کی غماز ہیں کہ دنیا ایک فیصلہ کن تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ فروری 2026 میں بھڑکنے والے حالیہ تنازعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ محض دو یا تین ریاستوں کے درمیان روایتی سرحدی جھڑپ نہیں، بلکہ عالمی تسلط اور علاقائی خودمختاری کے درمیان ایک فیصلہ کن نظریاتی اور تزویراتی جنگ ہے۔ اس وسیع تر کینوس پر جب ہم ایران کے کردار کا تنقیدی اور علمی جائزہ لیتے ہیں، تو وہ محض ایک علاقائی طاقت کے بجائے ایک ایسی عالمی مزاحمت کے استعارے کے طور پر ابھرتا ہے جو امریکی اور اسرائیلی استعمار کے خلاف سینہ سپر ہے۔ عالمی سیاست کے مروجہ بیانیوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ایران کی یہ جدوجہد ایک ایسے کثیرالقطبی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہے جس میں دنیا کو یک قطبی دہشت گردی اور استحصالی پنجوں سے نجات دلانے کا خواب پوشیدہ ہے۔
اس مزاحمتی بیانیے کو سمجھنے کے لیے بین الاقوامی تعلقات کے نظریہ تعمیریت پسندی اور تنقیدی نظریات کا سہارا لینا ناگزیر ہے۔ دہائیوں سے امریکہ اور اسرائیل نے اپنی بے پناہ عسکری اور معاشی طاقت کے بل بوتے پر مشرق وسطیٰ کو اپنے تزویراتی مفادات کی تجربہ گاہ بنائے رکھا ہے۔ اس تسلط کے نتیجے میں نہ صرف فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق غصب ہوئے، بلکہ پورے خطے میں حکومتوں کی تبدیلی، پراکسی جنگوں اور معاشی پابندیوں کا ایک ایسا جال بچھا دیا گیا جسے توڑنا ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔ اس جابرانہ ماحول میں ایران نے یک طرفہ عالمی حکم ناموں کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے ایک ایسا اخلاقی اور تزویراتی موقف اپنایا جس نے مظلوم اقوام کے لیے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایران کی مزاحمت کو محض اس کے ریاستی دفاع کے بجائے عالمی جبر کے خلاف ایک ڈھال تصور کیا جا رہا ہے۔
عسکری اور تزویراتی زاویے سے ایران کی حکمت عملی نہایت غیر روایتی اور کثیرالجہتی ہے۔ اسرائیل کی بے پناہ فضائی برتری اور امریکہ کی لامحدود فوجی امداد کے مدمقابل، ایران نے روایتی جنگ لڑنے کے بجائے ایک ایسا محورِ مزاحمت تشکیل دیا ہے جو پورے خطے میں پھیلا ہوا ہے۔ اس نیٹ ورک میں لبنان، شام، عراق، یمن اور فلسطین کی وہ تمام مزاحمتی قوتیں شامل ہیں جو استعماریت کے خلاف ایک مشترکہ نظریہ رکھتی ہیں۔ اس غیر متناسب جنگی حکمت عملی نے دشمن کی طاقت کو اس حد تک منتشر کر دیا ہے کہ اربوں ڈالر کا جدید ترین دفاعی نظام بھی انہیں مکمل تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس بازدارندہ صلاحیت نے ثابت کیا ہے کہ بے پناہ عسکری طاقت کے باوجود عالمی استعمار اب خطے کے فیصلے مسلط کرنے میں آزاد نہیں ہے۔
معاشی اور جغرافیائی جنگ اس موجودہ تنازعے کا ایک اور انتہائی اہم پہلو ہے۔ استعماری طاقتوں کا سب سے بڑا ہتھیار ان کی معاشی بالادستی اور اقتصادی پابندیاں ہیں، جن کے ذریعے وہ مخالف ریاستوں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایران نے اس معاشی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو ایک زبردست تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسی انتہائی حساس آبی گزرگاہوں پر ایران کا اثر و رسوخ اسے یہ طاقت بخشتا ہے کہ وہ بوقتِ ضرورت عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کو کنٹرول کر سکے۔ مغربی دنیا کی معیشت کا پہیہ جس تیل اور گیس پر چلتا ہے، اس پر تزویراتی گرفت حاصل کر کے ایران نے دراصل پوری دنیا کو ڈالر کی بالادستی اور امریکی معاشی تسلط سے نجات دلانے کا ایک عملی خاکہ پیش کیا ہے۔
عرب دنیا کے تناظر میں ایران کا کردار ایک عجیب سفارتی اور سماجی تضاد کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایک جانب بیشتر عرب ریاستوں کی حکومتیں امریکی دباؤ، اپنے خاندانی اقتدار کی بقا اور مغربی مفادات کے تحت ایران سے محتاط فاصلہ رکھتی ہیں اور بعض اوقات اسرائیل کی خاموش حلیف بھی نظر آتی ہیں۔ دوسری جانب، انہی عرب ممالک کے عوام میں ایران کی مزاحمتی پالیسی اور بالخصوص فلسطین کی غیر مشروط حمایت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب عالمی طاقتیں غزہ اور لبنان پر بدترین بمباری کی پشت پناہی کر رہی ہوتی ہیں، تو عرب گلی کوچوں میں ایران ہی وہ واحد عملی قوت نظر آتا ہے جو اس ریاستی دہشت گردی کا راستہ روکے کھڑا ہے۔ یہ عوامی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران نے سفارتی تنہائی کے باوجود عرب دنیا کے اجتماعی شعور میں اپنا مقام بطور نجات دہندہ مستحکم کر لیا ہے۔
عالمی جنوب اور کثیرالقطبی دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقتوں، بالخصوص بھارت کے لیے، ایران کی یہ جدوجہد انتہائی گہرے تزویراتی اثرات رکھتی ہے۔ بھارت ایک جانب امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی اور تکنیکی روابط کو وسعت دے رہا ہے، تو دوسری جانب اسے اپنی توانائی کی ضروریات اور خطے میں تزویراتی رسائی کے لیے ایران کی اشد ضرورت ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی تسلط کو چیلنج کرنے کا براہِ راست فائدہ بھارت جیسی بڑی معیشتوں کو اس صورت میں ملتا ہے کہ انہیں مغربی کیمپ کے دباؤ سے نکل کر ایک آزاد خارجہ پالیسی ترتیب دینے کی گنجائش مل جاتی ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ کی ترقی اور بین الاقوامی شمال جنوب تجارتی راہداری جیسے منصوبے اس بات کی دلیل ہیں کہ ایران عالمی تجارت کو مغربی کنٹرول سے آزاد کر کے بھارت اور ایشیا کے لیے نئے متبادل راستے فراہم کر رہا ہے۔
بھارت کی سفارتی پوزیشن اس جنگ میں نہایت حساس اور متوازن رہنے کی متقاضی ہے۔ تاریخی اعتبار سے بھارت نے ہمیشہ غیر جانبدارانہ اور سامراج مخالف تحریکوں کی حمایت کی ہے، لیکن موجودہ دور کے معاشی مفادات نے اسے ایک پیچیدہ دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ تاہم، ایران کا مستحکم رہنا بھارت کے طویل مدتی مفاد میں ہے، کیونکہ اگر مشرق وسطیٰ مکمل طور پر امریکی اور اسرائیلی بالادستی میں چلا گیا تو توانائی کے ذخائر اور تجارتی گزرگاہوں پر مغرب کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی۔ اس تناظر میں، ایران کی مزاحمت دراصل بھارت کو اس بلیک میلنگ سے بچانے کی ایک بالواسطہ جنگ بھی ہے جسے واشنگٹن مستقبل میں نئی دہلی کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ یہ پیچیدہ باہمی انحصار ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی بقا صرف مشرق وسطیٰ کے لیے نہیں، بلکہ ابھرتے ہوئے ایشیا کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
ایک خالص علمی، تحقیقی اور تنقیدی زاویے سے اس تنازعے کا جائزہ لیتے ہوئے جنگ کے انسانی اور اخلاقی پہلوؤں کو نظر انداز کرنا علمی دیانت کے منافی ہوگا۔ بین الاقوامی قانون کی رو سے ہر ریاست کو اپنے دفاع کا جائز حق حاصل ہے، لیکن ریاستی دہشت گردی کے نام پر جس طرح اسرائیل نے عام شہریوں، ہسپتالوں اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، اس نے عالمی اداروں کی ساکھ کو خاک میں ملا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس جارحیت کی مستقل سفارتی اور عسکری سرپرستی نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار دراصل خود سب سے بڑے انسانی المیے کے ذمے دار ہیں۔ ایسے میں، ایران کا آگے بڑھ کر اس خونی مشینری کو چیلنج کرنا، اخلاقی اعتبار سے اسے ایک ایسے محافظ کا درجہ دیتا ہے جو ظالم کا ہاتھ پکڑنے کی جرات رکھتا ہے۔
تاہم، بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اس مزاحمتی رومانیت کے ساتھ ساتھ سلامتی کے مخمصے کی حقیقت کو بھی زیرِ بحث لاتے ہیں۔ جنگ خواہ کتنی ہی اصولی کیوں نہ ہو، اس کی سب سے بھاری قیمت ہمیشہ عام شہریوں، معصوم بچوں اور خطے کی معیشت کو چکانی پڑتی ہے۔ ایران اور اس کے اتحادیوں پر ہونے والی مسلسل بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والا جانی و مالی نقصان اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ سامراج سے آزادی کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم استعمار کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے مزاحمت کا کٹھن راستہ چنتی ہے، تو عارضی تباہی کے باوجود وہ اپنے مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک خودمختار اور باعزت ریاست کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔
ایران کی اس جرات مندانہ اور کثیرالجہتی حکمت عملی نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا توازن محض ایٹمی ہتھیاروں اور ایف 35 طیاروں سے متعین نہیں ہوتا۔ ارادے کی پختگی، نظریاتی ہم آہنگی اور زمین پر موجود عوامی حمایت وہ عوامل ہیں جو جدید ترین ٹیکنالوجی کو بھی شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فروری 2026 کے آپریشن ٹرو پرامس 4 جیسی کارروائیوں نے اسرائیلی انٹیلی جنس اور امریکی دفاعی چھتری کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا بھرم توڑ دیا ہے۔ اس سے خطے کے چھوٹے ممالک اور دنیا بھر کی کمزور اقوام کو یہ حوصلہ ملا ہے کہ اگر ایک ریاست تنہا کھڑے ہو کر عالمی سامراج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکتی ہے، تو اجتماعی مزاحمت سے اس خونی نظام کو مکمل طور پر اکھاڑ پھینکنا ہرگز ناممکن نہیں۔
حرفِ آخر کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کا موجودہ ریاستی اور علاقائی کردار ان روایتی پیمانوں سے بہت بلند ہو چکا ہے جن میں ہم عام طور پر بین الاقوامی سیاست کو پرکھتے ہیں۔ یہ اب محض سرحدوں کے تحفظ کی جنگ نہیں رہی، بلکہ اس کا بنیادی مقصد ایک ایسے عالمی نظام کی تشکیل ہے جو انصاف، مساوات اور تمام ریاستوں کی باہمی تکریم پر استوار ہو۔ ایران کی یہ جنگ امریکی تسلط کی شام اور ایک نئی، آزاد اور کثیرالقطبی صبح کا پیش خیمہ ہے۔ اگر دنیا کو واقعی دہشت گردی، وسائل کی لوٹ مار اور نوآبادیاتی غلامی کے نئے ہتھکنڈوں سے نجات پانی ہے، تو اسے ایران کی اس مزاحمت کو تنقیدی نگاہ سے پرکھنے کے ساتھ ساتھ، اس کے تزویراتی اور اخلاقی جواز کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر مستقبل کی دنیا کو استعماری طاقتوں کے خون آشام پنجوں سے مستقل طور پر محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔