*موسیٰ ندی پروجیکٹ کے نام پر غریبوں کو بے گھر کرنے کی کوششیں ناقابل قبول*
*سوشل میڈیا پر جاری کردہ گمراہ کن ویڈیوز حذف کئے جائیں*
*بصورت دیگر قانونی چارہ جوئی کا کمشنر حیدرا رنگناتھ کو انتباہ*
*کھمم متاثرین کو انصاف کی فراہمی تک جدوجہد کا عزم۔ کے کویتا کی پریس کانفرنس*
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے بنجارہ ہلز میں واقع جاگروتی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور ریاستی حکومت اورعہدیداروں پر شدید تنقید کی۔ کویتا نے کہا کہ اگر ان کے خلاف سوشیل میڈیا پر جاری کردہ مبینہ گمراہ کن ویڈیوز فوری طور پر حذف نہ کئے گئے تو وہ متعلقہ عہدیدار رنگناتھ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کریں گی۔کویتا نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ حقائق اور ثبوت کے ساتھ بات کی ہے اور وہ بغیر ثبوت کے کوئی الزام نہیں لگاتیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حیدرا کے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے ان کے احتجاج کے بعد پانچ ویڈیوز جاری کئے گئے جن میں وائس اوور کے ذریعہ غلط معلومات پیش کر کے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اگر آج شام تک ان ویڈیوز کو حذف نہ کیا گیا تو وہ قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے معاملہ عدالت سے رجوع کریں گی۔انہوں نے کہا کہ جس ریئل اسٹیٹ تعمیرات کے خلاف انہوں نے احتجاج کیا، اس کے بارے میں ماضی میں خود رنگناتھ نے مکتوب لکھ کر بتایا تھا کہ زمین پر قبضہ اور دیگر سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ کویتا کے مطابق اسی عمارت کے حوالے سے 0.37 ایکڑ زمین پر قبضہ اور تقریباً 23 میٹر تک تجاوز کی بات سرکاری سطح پر تسلیم کی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نالوں کا رخ موڑے بغیر تعمیرات کی وجہ سے کوکہ پیٹ اور نارسنگی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی جس کا اعتراف بھی متعلقہ عہدیداروں نے کیا تھا۔کویتا نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں غریبوں کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں جبکہ بااثر افراد کی بڑی عمارتوں کے خلاف کارروائی سے گریز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اب تک چھ مرتبہ تحریری شکایات ثبوتوں کے ساتھ پیش کیں لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اگر وہی مسائل وہ عوامی سطح پر اٹھاتی ہیں تو انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔انہوں نے ریاستی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ موسیٰ ندی کی صفائی اور ترقی کے نام پر ایک بڑا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے لیکن اس کے اصل فوائد اور تفصیلات عوام کے سامنے واضح نہیں کی جا رہی ہیں۔ کویتا نے کہا کہ حکومت کی حالیہ پریزنٹیشن میں صرف پہلے مرحلے کی بات کی گئی جبکہ پورے منصوبے کی مکمل ڈی پی آر ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ کویتا نے موسی ندی کے مجوزہ ترقیاتی منصوبہ پر بھی کئی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس منصوبہ کے بارے میں مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ستمبر میں پیش کیے گئے ابتدائی تخمینہ کے مطابق پہلے مرحلہ پر 5641 کروڑ روپے خرچ ہونے کی بات کہی گئی تھی، جبکہ حالیہ پریزنٹیشن میں اس کی لاگت 6500 سے 7000 کروڑ روپے تک بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ صرف چھ ماہ کے اندر منصوبہ کی لاگت میں تقریباً 1400 کروڑ روپے کا اضافہ کیسے ہوگیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ چند ماہ کے اندر منصوبہ کی لاگت میں ہزاروں کروڑ روپئے کا اضافہ کیسے ہو گیا اور اس بارے میں حکومت کو عوام کے سامنےوضاحت کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ موسیٰ پروجیکٹ کے نام پر ہزاروں ایکڑ زمین متاثر ہو سکتی ہے اور سینکڑوں مکانات منہدم کئے جانے کی بات کی جا رہی ہے، مگر متاثرین کو اعتماد میں لینے کے بجائے انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے عالمی بینک کے نمائندوں، ریئل اسٹیٹ کاروباریوں اور سیاسی شخصیات کے ساتھ بند کمرہ میں اجلاس منعقد کیا مگر ان خاندانوں کو نہیں بلایا جو اپنی زمینیں اور مکانات کھونے والے ہیں۔کویتا نے کہا کہ موسیٰ ندی کی صفائی ایک اچھا اقدام ہونا چاہئے اور اس سے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچنا چاہئے، مگر اس کے نام پر غریبوں کے گھروں کو مسمار کر کے زمینیں طاقتور طبقات کو دینا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موسیٰ کے اطراف پہلے گندے پانی کے اخراج کو روکا جائے، نالوں کی صفائی کی جائے اور قبضہ جات کو روکنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کھمم ضلع کے ویلوگمٹلا متاثرین کے مسئلہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ تقریباً 750 مکانات کے انہدام کے بعد انہوں نے اور دھرم سماج پارٹی کے صدر وشاردھن مہاراج نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کی تھی جس کے بعد حکومت نے کچھ متاثرین کو زمین کے حقوق دینے کا اعلان کیاتاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس عمل میں بھی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔ کویتا نے اعلان کیا کہ 17 تاریخ کو ویلوگمٹلا معاملہ پر ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی جائے گی اور جب تک تمام متاثرین کو انصاف نہیں ملتا تب تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی متاثرین کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔










