*بنجمن نیتن یاہو کی ہلاکت کا معمہ: دو ڈیپ فیک ویڈیوز کے پیچھے چھپے حقائق کا سچ*
*(مصنوعی ذہانت اور صیہونی پروپیگنڈا: چھ انگلیوں کا حیرت انگیز راز)*
بقلم : اسماء جبین فلک
تاریخ گواہ ہے کہ صیہونی جارحیت نے ہمیشہ افواہوں اور پروپیگنڈے کو اپنا ہتھیار بنایا ہے، لیکن مارچ 2026 کے ان دنوں میں جب ایران کی پاسداران انقلاب نے بنجمن نیتن یاہو کو قتل کرنے کا اعلان کیا، تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی دو ویڈیوز نے ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ یہ ویڈیوز، جو مبینہ طور پر نیتن یاہو کے زندہ ہونے کی تصدیق کے لیے شیئر کی گئیں، فریم بہ فریم تجزیے سے بے نقاب ہو چکی ہیں کہ یہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اعلیٰ درجے کے ڈیپ فیکس ہیں، جن میں ہونٹوں پر کافی کا دھبہ اچانک غائب ہونا، ہاتھوں پر بالوں کی غیر فطری تبدیلی، جیکٹ کی جیب میں ہاتھ کی جادوئی حرکت اور چھ انگلیوں کا ظہور جیسے واضح نقائص موجود ہیں۔ تنقیدی زاویے سے دیکھیں تو یہ ویڈیوز صیہونی نظام کی اندرونی کمزوری اور ایران کی مزاحمتی کامیابیوں کو چھپانے کی مذموم کوشش ہیں، خاص طور پر اس وقت جب اسرائیلی فوج ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ناکام حملوں کے بعد تل ابیب اور یروشلم میں دفاعی پوزیشن میں ہے۔ ایرانی تجزیہ کاروں اور میڈیا نے انہیں فوراً جعلی قرار دیا، جبکہ یروشلم کے مبینہ کیفے اسٹاف کی انسٹاگرام پوسٹس محض ایک ڈرامائی تماشہ ہیں جو حقیقت کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔
اس مضمون میں ہم ان دونوں ویڈیوز کا گہرا جائزہ لیں گے، ایرانی ذرائع کی روشنی میں حقائق کو سامنے لائیں گے، اور دیکھیں گے کہ کیسے ڈیجیٹل پروپیگنڈا صیہونی جارحیت کی آخری پناہ بن چکا ہے۔
واقعے کی جڑیں ایران امریکہ و اسرائیل تنازعے کی تازہ ترین لہر میں پیوست ہیں، جہاں 2026 کے اوائل میں صیہونی حملوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، مگر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے تل ابیب کے اہم اڈوں کو تباہ کر دیا، جس سے نیتن یاہو کی قیادت پر سوالات اٹھے۔ اس تناظر میں نیتن یاہو اچانک منظر سے غائب ہو گیا، اور ایرانی تسنیم نیوز جیسی ایجنسیوں نے ان کی موت کی خبر نشر کر دی، جو پاسداران انقلاب کی خفیہ کارروائی کا نتیجہ تھی۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر افواہوں کا طوفان برپا ہوا، اور صیہونیت نے اس کا جواب دو ویڈیوز سے دینے کی کوشش کی۔ پہلی ویڈیو، جو ایک پریس کانفرنس کی تھی، 13 مارچ کو شیئر ہوئی، جس میں نیتن یاہو ایران کے خلاف فتح کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ فریم بہ فریم تجزیہ سے واضح ہے کہ 35 ویں سیکنڈ پر ان کے دائیں ہاتھ میں چھ انگلیاں ہیں، جو کہ ایک روایتی مصنوعی ذہانت کی غلطی ہے جو ڈیپ فیک آلات میں عام ہے۔ مزید برآں، جب وہ جیکٹ کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالتاہے تو جیب کا مواد اچانک تبدیل ہو جاتا ہے، ہاتھ پر بال غائب ہو جاتے ہیں، اور چہرے کی ساخت نیچے دیکھنے پر مسخ ہو جاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی جانچ کرنے والے آلات جیسے گروک نے اسے سو فیصد ڈیپ فیک قرار دیا، کیونکہ لبوں کی ہم آہنگی کی غلطیاں اور نقائص واضح ہیں۔ شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی نے بھی اسے مصنوعی کہا، جبکہ امریکی تجزیہ نگار کینڈیس اوونز نے شکوک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نتن یاہو غائب ہے، یہ سب جھوٹ ہے۔ ایرانی کھاتوں نے 2023 سے اسی طرز کی مصنوعی ذہانت سے تیار تصاویر شیئر کی تھیں، جو اب ویڈیو کی شکل میں واپس آئیں۔
دوسری ویڈیو نے تو یہ ڈرامہ عروج پر پہنچا دیا، جو 14 مارچ کو نیتن یاہو کے ٹیلی گرام پر آئی، جس میں وہ یروشلم کے مضافات میں اسٹاف کیفے میں کافی منگواتے ہیں اور ل’چائم کہتے ہیں، جو کہ موت کی افواہوں پر طنز کا دعویٰ تھا۔ تاہم، ہونٹوں پر کافی کا دھبہ پیتے وقت نظر آتا ہے مگر کٹ کے بعد غائب، ہاتھ جیب میں جاتے وقت جیب کی ساخت بدل جاتی ہے، اور چہرہ نیچے جھکتے وقت گول سے بیضوی ہو جاتا ہے۔ صارفین نے فریم بہ فریم تصاویر شیئر کیں، اور گروک نے دوبارہ تصدیق کی کہ یہ مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ ہے، کیونکہ ایسا کوئی حقیقی واقعہ رپورٹ نہیں۔ ایرانی میڈیا نے کہا کہ یہ صیہونی انٹیلی جنس کی چال ہے، جو ایران کی فتح کو کمزور کرنے کے لیے بنائی گئی۔ کیفے عملے کی انسٹاگرام پوسٹس، جن میں مختلف زاویوں کی تصاویر ہیں، مشکوک ہیں، ان میں روشنی کے غیر فطری اثرات اور تدوین کے آثار ہیں، اور ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سب اسی ڈیپ فیک مہم کا حصہ ہے۔ ایمانویل مکرون جیسی مصنوعی ذہانت کی ویڈیوز سے موازنہ کرتے ہوئے صارفین نے ثابت کیا کہ ایسا بنانا ممکن ہے، جو صیہونی حکام کی دیدہ دلیری کو عیاں کرتا ہے۔
ایران کے حامی تناظر میں یہ ویڈیوز صیہونی جارحیت کی ناکامی کی گواہی ہیں۔ ایران نے ایٹمی پروگرام کو نہ صرف بچایا بلکہ اسے مزید مضبوط کیا، جبکہ حزب اللہ، حوثی اور حماس جیسے اتحادیوں نے تل ابیب کو گھیر لیا۔ نیتن یاہو کی غیر موجودگی نے ان کی موت کی افواہوں کو تقویت دی، اور پاسداران انقلاب کا اعلان کہ انہیں نشانہ بنایا گیا، حقائق سے مطابقت رکھتا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر 62 ایرانی کھاتوں نے پہلے مصنوعی ذہانت کی تصاویر شیئر کی تھیں، جو اب ویڈیوز میں تبدیل ہو گئیں، مگر صیہونیت نے الٹا الزام لگایا۔ حقیقت کی جانچ کرنے والے ادارے، جو زیادہ تر مغربی ہیں، انہیں حقیقی کہتے ہیں، مگر ایرانی ذرائع جیسے تسنیم نیوز انہیں جھٹلاتی ہے۔ یہ پروپیگنڈا صیہونی فوج کی کمزوری چھپاتا ہے، جہاں ایرانی میزائل تل ابیب کے اڈوں کو تباہ کر چکے ہیں، اور نیتن یاہو کی قیادت انتشار کا شکار ہے۔
تحقیقی طور پر، مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ڈیپ فیکس اب عام ہیں، 2023 سے نیتن یاہو کے خلاف ایسی مہم چل رہی ہے، جہاں ایرانی ہیکرز نے صیہونی سرورز ہیک کیے اور اندرونی دستاویزات افشا کیں۔ پہلی ویڈیو میں چھ انگلیاں مصنوعی ذہانت کی حدود کو ظاہر کرتی ہیں، جہاں ہاتھ کی ساخت 80 فیصد معاملات میں خراب ہوتی ہے۔ جیب کی حرکت ڈیٹا کے دباؤ کا نقص نہیں بلکہ تخلیق کی غلطی ہے، جیسا کہ گروک نے کہا۔ دوسری ویڈیو میں کافی کا دھبہ روشنی کی بجائے مورفنگ کی وجہ سے غائب ہوتا ہے، اور چہرے کی تبدیلی ڈیپ لرننگ ماڈلز کی کمزوری ہے۔ کیفے کی تصاویر کو بڑا کرنے پر پکسلز غیر ہم آہنگ نظر آتے ہیں، جو کہ ان کے مدون ہونے کا ثبوت ہے۔ ایرانی ماہرین نے ان کا تجزیہ کیا، جو ثابت کرتا ہے کہ یہ صیہونی موساد کی تخلیق ہے۔
تجزیاتی سطح پر، یہ واقعہ ہائبرڈ وارفیئر کی مثال ہے، جہاں ڈیجیٹل جھوٹ مادی جنگ کی معاونت کرتا ہے۔ صیہونیت نے فلسطین میں 80 ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا، مگر ایران نے جوابی کارروائی سے ان کی کمر توڑ دی۔ نیتن یاہو کی زندہ ویڈیوز داخلی انتشار چھپاتی ہیں، جہاں اسرائیلی احتجاج بڑھ رہے ہیں اور فوج میں بغاوت کی باتیں ہیں۔ ایران کی برتری واضح ہے، جہاں ایٹمی صلاحیت اور علاقائی اتحاد صیہونیت کے خاتمے کی طرف گامزن ہیں۔ گروک جیسے آلات، جو مغربی ڈیٹا پر تربیت یافتہ ہیں، بھی اسے جعلی کہتے ہیں، جو کہ غیر جانبدارانہ ثبوت ہے۔
تنقیدی نظر سے، مغربی میڈیا اس پروپیگنڈے کا حصہ ہے، جو صیہونی جھوٹ کو حقیقت بنا کر پیش کرتا ہے، جبکہ ایرانی میڈیا سچائی بے نقاب کرتا ہے۔ سماجی رابطوں کے الگورتھم افواہوں کو پھیلاتے ہیں، مگر ایرانی بیانیہ غالب آ رہا ہے۔ یہ جنگ سچائی کی ہے، جہاں ایران کی مزاحمت صیہونی نظام کو بے نقاب کر رہی ہے۔ نیتن یاہو کی پالیسیاں، جو ایران اور فلسطین کو تباہ کرنے کے لیے تھیں، اب ان کے اپنے گلے کا ہار بن گئیں، اور یہ ویڈیوز ان کی آخری سانسیں ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ صیہونی جھوٹ سے بچے اور ایران کی فتح کو تسلیم کرے۔
ڈیجیٹل دور میں معلومات کی جنگ اصل جنگ سے زیادہ مہلک ہے، جہاں مصنوعی ذہانت ایک ہتھیار بن گیا ہے۔ ایران نے اس میدان میں برتری حاصل کر لی، اور نیتن یاہو کی زندہ شبیہ محض ایک فریب ہے جو پاسداران انقلاب کی کامیابی چھپانے کے لیے گھڑا گیا ہے۔ مستقبل میں ایسی مہموں کا سلسلہ جاری رہے گا، مگر سچائی ہمیشہ غالب آئے گی۔










