*اساس عبادت – توبہ اور تقویٰ*
*محمد ہارون*
اسسٹنٹ کمشنر آف پولس ، آسنسول
اس میں کوئی چوں وچراں نہیں کہ جس کو ہدایت حاصل ہوگئی وہ زمانے کے بہترین لوگوں میں سے ہوگیا اور ہدایت بخشنے والا واحد خالق کائنات ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر خاص و عام کی جانیں ہیں۔ ہم بحیثیت امت محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس بات پرکامل ایمان رکھتے ہیں کہ عبادت کے لائق صرف اللہ رب العزت ہےاور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔اسی بات پر مکمل طور پر عمل پیراہونے کے سبب ہم ہمہ وقت اپنے رب کی ثنا گوئی کرتے ہیں ، اس کو اپنا کارسازٹھہراتے ہیں اور دعائے عنایت کیاکرتے ہیں ،مغفرت کو گڑگڑاتے اور برائیاں کرنے سے باز آتے ہیں۔ پس پچھلی بداعمالیوں کو ترک کرکے آئندہ کی زندگی کو صالح اور شرعی طور پر گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کا عہد خودخدائے برحق سے کرتے ہیں تو اسی عہد کا کرنا “توبہ” کہلاتا ہے ۔
توبہ انسان کے اندر پیدا ہونے والے شرم و حیا کے فطری جذبے کانام ہےاور اس کا اولین مظہروہ شرم ہے جواپنے جسم کے مخصوص حصوں کو دوسرے کے سامنے کھولنے میں آدمی کو فطرتاً عار محسوس ہوتی ہے ۔قران ہمیں بتاتا ہے کہ توبہ انسان کے اندر تہذیب و تمدن کے ارتقاء سے مصنوعی طور پر پیدانہیں ہوئی اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے۔روئے زمین پر نوع انسان میں پہلی توبہ ہمارے جدامجد نے کی تھی۔
” آدم (علیہ السلام )نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی، وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے”۔ (البقرہ : 37)
تو یہ بات واضح ہو گئی کہ اللہ یقینًا توبہ قبول کرتا ہے ۔ بندہ کتنا ہی خطاکار وبدکار کیوں نہ ہو، کتنی ہی بڑی اور بری خطائیں اس کے نامہ اعمال کو وزنی کیوں نہ بناتی ہوں اگر وہ تہہ دل سے اپنے پروردگار کی جانب لوٹ جاتا ہےتورب العزت اس کی تمام ترخطاوں اور گستاخیوں کومعاف فرما دیتا ہےاور اس کے نامہ اعمال کو نیکیوں سے پر کردیتاہے ۔
اللہ کے نبی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں مقدر کردی ہیں اور پھر انہیں صاف صاف بیان کردیا ہے۔پس جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کرسکا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ایک مکمل نیکی کا بدلہ لکھا ہےاور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کرلیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے یہاں دس گنا سے سات سوگنا تک نیکیاں لکھ دیتا اور اس سے بڑھاکر اور جس کسی نے کسی برائی کاارادہ کیااور پھر اس پر عمل نہیں کیا تو اللہ نے اس کے لئے اپنے یہاں ایک نیکی لکھی ہےاور اگر کسی نے ارادہ کے بعداس پر عمل کیا تو اپنے یہاں اس کے لئے ایک برائی لکھی ہے”.
(صحیح بخاری : کتاب الدقاق: 6491)
جب کوئی بندہ خدا اپنے ارتکاب جرم کے سبب شرمندگی میں گھٹ رہا ہو۔نہ تو اپنا جرم کسی پر عیاں کرسکتا ہے اور ہی فکر اس کا ساتھ چھوڑ رہی ہو۔ اب اگر لمحہ کشمکش میں اس نے اپنے پروردگار کے حضور رجوع کیا اور عزم الجزم کرے کہ آئندہ اپنی گزشتہ خطاؤں کو دہرانے سے باز رہنے کی کوشش کرے گا تو اللہ اس کی خطاپوشی کردیتا ہےاور یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنا انعام واکرام کا خزانہ کھول دیا ہے۔اللہ کاارشاد ہے۔
” میری جانب سے کہہ دو کہ اے میرے بندوں جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے واقعی وہ بڑا بخشش بڑی رحمت والا ہے۔تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑواور اس کی حکم برداری کئے چلے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آجائےاور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے۔” (زمر : 53-54)
عزیزان دین وملت ! ہمیں کسی ایک لمحہ کو بھی اپنے رب کی رحمت وبرکت اور وسعت مغفرت سےناامید نہیں ہوناچاہئے، خواہ زہد وتقویٰ پر کتنی ہی فوقیت کیوں نہ رکھتا ہویا کوئی خطاؤں کی انتہا تک پہنچ چکا ہو حتی کہ کسی کا سمندر میں موجود جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہو، رب قدیر کی عظمت سے بڑا نہیں ہوسکتاہے اگر اپنی موت سے پہلے پہل ہم نے خود کو برائی سے روک لیا تو ہم یقیناً نجات پا جائیں گے۔
نوع انسان کے لئے اس سے بیش بہا سعادت اور کیاہوگی کہ وہ ذات جو قادر ہے ہر مخلوق پر، جس کی ثنا وتقدس میں ہمہ وقت فرشتے مصروف ہیں ، جس کے حکم کے آگے کوئی لب کشائی نہیں کرسکتا وہ خود اپنے ہاتھوں کو پھیلائے رہتا ہےاور ہر پہر پھیلائے رہتا ہے۔ اس نے کسی خاص وقت کا انتخاب نہیں کیاکہ کہیں کوئی بندہ اس وقت شفیق کو چوک گیا تو توبہ کی رحمت سے محروم نہ رہ جائے۔ تو کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے اور کیا شائستہ ہے کہ ہم اس مشفق گھڑی کو اپنے اوپر مانع کرجائیں اور اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان ہمراہ کریں۔خدائے تعالیٰ کی برکت اور عنایتوں کی کوئی حد نہیں اور ایسا بھی نہیں کہ ہم اس کی بارگاہ میں چند مخصوص لوگوں کی ہی شنوائی ہوتی ہے، یقیناً نہیں۔ اس کے حضور میں ہرخاص وعام ، آزاد وغلام سب کی رسائی یکساں ہے۔
بندہ وصاحب ومحتاج وغنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
شرط یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی جانب پورے یقین اور سچی توبہ سے لوٹ جائے اور ارادہ کرلے کہ اپنی خطاؤں کو پھر نہیں دہرائے گایا کوشش کرتا رہے گا کہ جرموں سے بچتا رہے اور اگر اپنے وعدے پر قائم رہ گیا تو اپنے رب کے یہاں بڑی مرتبت کا حامل ہے۔
دنیا کی بہترین حکایت وہدایت والی کتاب قرآن مجید اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ بالیقین یہ دو بنی آدم کے لئے وہ قائد اعظم ہیں جو ہماری مدد کرتے ہیں اور ہم کو راہ مستقیم کی طرف کھینچتے ہیں ، ہمیں خزائین معلوم سے مالا مال کرتے ہیں ،ہمت فراہم کرتے ہیں ، عقل کے ساتھ دلوں کو بیزار کردیتے ہیں تاکہ ہم نیک وبد کی تمازت حاصل کرسکیں اور حدود الٰہی سے گذر نہ جائیں۔ تو ضروری یہ ہے کہ ہم نہ صرف قرآن کامطالعہ کریں بلکہ اس کے نورانی اور بابرکات آیات کو سمجھیں اور یہ یاد رکھیں کہ اللہ ہر وقت ہمارا گواہ ہے خواہ ہم جلوت میں ہوں یا خلوت میں ۔ بمطابق قرآن مجید اس کتاب کی شان نزول ملاحظہ کیجئے۔
” اور ہم نے تجھ پریہ کتاب نازل فرمائی ہے جو ہرچیزکا شافی بیان ہےاور ہدایت ہےاور رحمت ہے اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لئے۔” (نحل : 89)
وہ واحد ذریعہ کسی بھی شخص کو برائیوں سے نجات دلانے کا حامل ہے ” تقوی ” کہلاتی ہے جس کو اختیار کرنے کا فرمان الٰہی متعدد مقامات پر قرآن میں موجود ہیں۔تقوی وہ احساس ہے جس سے بندہ ہرلمحہ اپنے رب کے سامنے ہونے کااحساس رکھتا ہے جس کی وجہ کر وہ اس فکر میں رہتا ہے کہ کہیں اس کی کم علمی اس سے کوئی ایسا عمل کروادے جو اس کے رب کو گوارہ نہیں۔اگر ہم سنجیدگی کے ساتھ قرآن منورہ کا مطالعہ کریں تو مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ ہر وہ مقام جہاں اللہ نے اپنے بندوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے کم وبیش ان تمام مقامات پر تقوی کا بھی ذکر کیا ہے۔
” ہمیشگی والے باغات جہاں وہ جائیں گے جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جو کچھ یہ طلب کریں وہاں ان کے لئے موجود ہیں، پرہیزگاروں کو اللہ تعالیٰ اسی طرح بدلہ عطا فرماتا ہے ۔”۔ (نحل: 31)
تو یہ طئے رہا کہ اپنی اصلاح کا برگزیدہ عمل یہ ہے کہ ہم یاد رکھیں کہ ہمارا فیصلہ کرنے والا ہمہ وقت ہمارے قریب ہے اور اپنے رب کو یاد کرنے کا عمدہ طریقہ یہ ہے کہ ہم خدائے برتر کی اس نعمت کو اپنا ضابطہ حیات مقرر کرلیں جو گذرے چودہ صدیوں سے اپنی آب و تاب پرقائم ودائم ہے اور ہدایت کاسرچشمہ ہے ۔ احکام الٰہی پر ثابت قدم رہنے کا بہترین طریقہ یہ ہےکہ ہم سنتے نبوی کی پیروی کریں ، خود کو اللہ کے حوالے کردیں اور ایسوں کا ساتھ اختیار کریں جو بذات خود متقی و پرہیز گار ہو ۔
” ایسوں کا ساتھ اختیار کرو جو تم سے نیگ نہیں مانگتے اور وہ راہ راست پر ہیں۔” ( یسین : 21)
بلاشبہ اللہ نے قرآن کو بندوں کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہےتو ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے رب کے نیکوں کار بندوں کی صورت اختیار کرلیں ازقبل کہ ہم سے توبہ کا موقع مانع قرار دیا جائے۔ اللہ سے دعاء گو ہوں کہ رب العزت اپنے بندوں کی گذری خطاؤں کو بخش کر آئندہ کی سچی توبہ اور اعمال صالحہ پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہماری دینوی واخروی حیثیت کو بہتری سے نوازے۔ آمین !
طالب دعا
*محمد ہارون*
اسسٹنٹ کمشنر آف پولس , آسنسول








