*ختم ہوتی ایرانی قیادت: شہادت یا خودکشی؟*
*(کیا مزاحمت کو شہادت کے خمار نے کمزور کر دیا؟)*
ازقلم: *اسماء جبین فلک*
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ خونریز جنگ اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے لرزہ خیز واقعات نے جنگی حکمتِ عملی اور عسکری بقا کے تمام روایتی تصورات کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ایک ایسے دور میں جہاں جنگیں صرف محاذوں پر نہیں بلکہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، سگنل انٹیلی جنس اور سائبر اسپیس کے ذریعے لڑی جا رہی ہیں، وہاں جذباتیت اور حوصلہ مندی کی بے جا نمائش کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ایک ایسا سفاک اور بے رحم دشمن ثابت ہوا ہے جو تمام بین الاقوامی جنگی قوانین، انسانی حقوق کے معاہدوں اور اخلاقی حدود سے مکمل طور پر صرفِ نظر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگی مشین ہے جو اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، چاہے اس کے لیے پوری کی پوری شہری آبادی کو ہی کیوں نہ ملبے کا ڈھیر بنانا پڑے۔ اس سنگین اور بے رحم حقیقت کے باوجود، ایرانی قیادت اور ان کے اتحادیوں کا طرزِ عمل انتہائی غیر ذمہ دارانہ، بد احتیاطی پر مبنی اور زمینی حقائق سے یکسر کٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جب دشمن کی تکنیکی برتری اور انٹیلی جنس کی گہرائی روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہو، تو ایسے میں کھلے عام گھومنا، پریس بریفنگز دینا، میڈیا کو انٹرویوز دینا اور روایتی سرکاری عمارتوں میں اجلاس منعقد کرنا بہادری نہیں بلکہ اپنی موت کو خود دعوت دینے کے مترادف ہے۔
یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں میں دشمن کی دراندازی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ان کا پورا دفاعی نظام مفلوج اور کھوکھلا معلوم ہوتا ہے۔ اس بدترین انٹیلی جنس ناکامی کا پہلا بڑا اور واضح ثبوت جولائی 2024 میں اس وقت سامنے آیا جب حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہانیہ کو تہران کے قلب میں ایک انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے ملٹری گیسٹ ہاؤس کے اندر شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ایرانی قیادت کے لیے ایک بہت بڑا انتباہ ہونا چاہیے تھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کی رسائی ان کے دفاعی اور سیکیورٹی حصار کے بالکل اندر تک ہو چکی ہے اور ان کا جوابی انٹیلی جنس کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، اس سنگین ترین واقعے کے بعد بھی ایرانی قیادت نے اپنی حکمتِ عملی اور سیکیورٹی پروٹوکولز میں کوئی خاطر خواہ اور انقلابی تبدیلی لانے کے بجائے روایتی بیان بازی، دھمکیوں اور جذباتیت کا ہی سہارا لیا۔ وہ مسلسل اس خود فریبی کا شکار رہے کہ ان کا جاہ و جلال اور عسکری رعب دشمن کو خوفزدہ کر دے گا، حالانکہ دشمن ان کی صفوں میں موجود خامیوں اور غداروں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی ہر حرکت کی نگرانی کر رہا تھا۔
اس مجرمانہ غفلت اور خود کو نڈر و بہادر بتانے کے شوق کا خمیازہ جون 2025 میں اس وقت ایک خوفناک شکل میں بھگتنا پڑا جب اسرائیل نے آپریشن رائزنگ لائن کے نام سے ایک وسیع حملہ کیا۔ اس حملے میں ایران کے صفِ اول کے فوجی کمانڈرز، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اِن چیف حسین سلامی اور خاتم الانبیاء سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل غلام علی رشید شامل تھے، کو انتہائی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔ اسی عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی ملیشیاز کے نیٹ ورک کو سنبھالنے والے اہم ترین ایرانی کمانڈر محمد سعید ایزدی کو بھی اسرائیل نے کامیابی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ کامیاب ہدف شدہ کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت تھیں کہ ایرانی قیادت کا اندرونی سیکیورٹی نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور دشمن کے پاس ان کے ٹھکانوں کی بالکل درست معلومات موجود ہیں۔ اس کے باوجود، قیادت نے بنکرز میں روپوش ہونے، جدید ترین مواصلاتی آلات کا استعمال ترک کرنے اور زیرِ زمین رہ کر جنگ کی قیادت کرنے کے بجائے بدستور ایک غیر حقیقی نڈر پن اور کھلے عام نقل و حرکت کا سلسلہ جاری رکھا، جو عسکری سائنس کی رو سے ایک ناقابلِ معافی حماقت تھی۔
اس مسلسل بد احتیاطی اور سیکیورٹی کے بنیادی اصولوں سے انحراف کا حتمی اور سب سے بھیانک نتیجہ مارچ 2026 کے اوائل میں سامنے آیا، جس نے پوری دنیا کو ششدر کر دیا۔ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام کو تہران کے ایک سرکاری کمپاؤنڈ میں دن کے اجالے میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ دشمن کی تکنیکی اور استخباراتی برتری کا ایک خوفناک شاہکار تھا جس میں سی آئی اے کے فراہم کردہ انسانی ذرائع کا استعمال کیا گیا، نگرانی کے کیمرے ہیک کیے گئے، فون سگنلز جام کیے گئے اور ایران کے فضائی دفاعی نظام کی حد سے باہر 1000 کلومیٹر دور سے 30 انتہائی درست گائیڈڈ میزائل فائر کیے گئے۔ جب آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا دشمن سیٹلائٹ سے آپ کی سانسوں تک کی نگرانی کر رہا ہے، وہ آپ کے موبائل فونز، کیمروں اور ڈیجیٹل آلات کو ہیک کر کے آپ کے خواب گاہ تک کی معلومات رکھتا ہے، تو ایسے حالات میں ایک ہی جگہ پر تمام اعلیٰ قیادت کا اکٹھا ہونا اور وہ بھی زمین کے اوپر موجود عمارتوں میں، کسی بھی لحاظ سے دانشمندی نہیں کہلا سکتا۔ یہ محض ایک انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسی لاپرواہی تھی جس نے دشمن کو اپنی پوری قیادت ایک تھالی میں رکھ کر پیش کر دی۔
ان تمام ہولناک سانحات کی بنیادی وجہ وہ نفسیاتی خول ہے جس میں یہ قیادت خود کو مقید کر چکی ہے۔ یہ خول نڈر و بے خوف ہونے کا بھرم، کھوکھلے وقار اور جھوٹی انا کا ہے۔ جنگ کے میدان میں قیادت کا کام اپنی قوم اور اپنی تحریک کو فتح سے ہمکنار کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اپنے سینے پر گولیاں کھا کر خود ساختہ شہادت حاصل کرنا۔ جب آپ کا مدِ مقابل ایسا درندہ صفت دشمن ہو جس کی لغت میں رحم، اخلاقیات یا بین الاقوامی قوانین کا کوئی وجود ہی نہ ہو، تو اس کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونا، کیمروں کے سامنے مسکرا کر انٹرویو دینا اور یہ ظاہر کرنا کہ ہمیں موت کا کوئی ڈر نہیں، شجاعت نہیں بلکہ خالصتاً حماقت ہے۔ عسکری حکمتِ عملی کا پہلا اصول بقا ہے۔ اگر قیادت ہی زندہ نہیں رہے گی تو مزاحمت کو کون منظم کرے گا؟ جب دشمن نے سائبر وارفیئر اور سگنل انٹیلی جنس کے ذریعے آپ کی ہر ڈیجیٹل ڈیوائس کو ایک ٹریکنگ بیکن میں تبدیل کر دیا ہے، تو پرتعیش دفاتر، سرکاری عمارتوں اور ملٹری گیسٹ ہاؤسز میں قیام کرنا اپنی موت کے پروانے پر خود دستخط کرنے کے مترادف ہے۔ جدید دور کی اس غیر متناسب جنگ میں سیکیورٹی کا تقاضا ہے کہ قیادت مکمل طور پر زیرِ زمین اور خفیہ بنکرز میں منتقل ہو جائے اور عوام کی نظروں سے بالکل اوجدل ہو کر کام کرے۔
اسلامی تعلیمات اور شرعی نقطہ نظر سے اس تمام صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت اور بھی تلخ ہو کر سامنے آتی ہے۔ اسلام میں جان کی حفاظت کو مقاصدِ شریعت یعنی حفظِ نفس میں انتہائی کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ اور اپنے آپ کو اپنے ہی ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو (البقرہ: 195)۔ جب ایک انسان کو یہ کامل یقین ہو کہ اس کے کھلے عام گھومنے یا حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سے اس کی جان یقینی طور پر چلی جائے گی، اور دشمن اس کے ایک ایک قدم کی نگرانی کر رہا ہے، تو ایسی صورت میں خود کو دانستہ طور پر موت کے منہ میں دھکیلنا اسلامی شریعت کی رو سے قطعاً شہادت نہیں ہے۔ شہادت ایک انتہائی اعلیٰ اور ارفع مقام ہے جو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب ایک مجاہد اپنی پوری طاقت، حکمت، اور دستیاب وسائل کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرے اور تمام تر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود اللہ کی راہ میں جان دے دے۔ لیکن جب آپ اپنی نااہلی کے سبب شہادت کے خمار میں جان بوجھ کر موت کے راستے پر چلیں، دشمن کو نشانہ بنانے کے لیے تمام آسانیاں خود فراہم کریں اور انٹیلی جنس کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے موت کو گلے لگا لیں، تو یہ شہادت نہیں بلکہ خالص خودکشی ہے۔
اسلام میں خودکشی حرامِ مطلق ہے اور احادیثِ مبارکہ میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ خودکشی کرنے والے کا انجام ابدی جہنم ہے۔ اپنی تزویراتی اور استخباراتی خامیوں، لاپرواہیوں اور ضد کے نتیجے میں مرنے کے بعد اس فعل کو شہادت کا لبادہ اوڑھا کر قوم کو غلط فہمی میں مبتلا کرنا، اپنے آپ کو اور خدا کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ تاریخِ اسلام اور سیرتِ النبی ﷺ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ حکمت اور بچاؤ بہادری کے منافی نہیں ہیں۔ غزوہ احد کے موقع پر خود رسول اللہ ﷺ نے دوہری زرہ پہنی، حالانکہ آپ ﷺ اللہ کے سب سے محبوب نبی ہیں اور آپ ﷺ کا توکل کائنات میں سب سے زیادہ تھا۔ اسی طرح غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود کر شہر کا دفاع کرنا، یا ہجرت کے وقت غارِ ثور میں چھپ کر دشمن سے روپوش ہونا، یہ سب عسکری حکمتِ عملی اور اپنی جان کو بچانے کی وہ عظیم سنتیں ہیں جنہیں آج کی ایرانی قیادت فراموش کر چکی ہے۔ کیا یہ قیادت خود کو نبی کریم ﷺ سے زیادہ توکل کرنے والا یا بہادر سمجھتی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اور بنکرز کی ضرورت کو اپنی توہین سمجھتے ہیں؟
وقت آ گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی اس مزاحمتی قیادت کو اس خود فریبی کے سحر سے باہر نکلنا ہوگا۔ کیمروں کی چمک اور خودساختہ شہادت کو گلے لگانے کی شدت نے انہیں اندھا کر دیا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دشمن ان کے اس دماغی فطور کو اپنے بہترین ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ جب تک یہ قیادت جدید ٹیکنالوجی سے لیس دشمن کی استخباراتی صلاحیتوں کا حقیقت پسندانہ ادراک نہیں کرتی، اپنے اندرونی سیکیورٹی نیٹ ورکس کو غداروں سے پاک نہیں کرتی، اور سخت ترین حفاظتی پروٹوکولز اور زیرِ زمین روپوشی کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ نہیں بناتی، اس وقت تک ان کا ہر کمانڈر اور رہنما دشمن کے لیے ایک آسان ہدف بنا رہے گا۔ یاد رکھیں، تاریخ ان لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو اپنی حماقتوں کو بہادری کا نام دے کر اپنی قوم کو یتیم کر دیتے ہیں۔ سستی شہادت کا شوق چھوڑ کر عسکری بصیرت اور حکمت سے کام لیجئے، کیونکہ اس طرح جان بوجھ کر موت کے منہ میں جانا شہادت ہرگز نہیں، بلکہ ایک ایسی خودکشی ہے جس کا انجام شرعی اور منطقی، دونوں لحاظ سے صرف جہنم اور تباہی ہے۔















