Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*آسنسول میں دیوار لکھائی کو لے کر بی جے پی اور ترنمول کانگریس کارکنوں کے درمیان کشیدگی، پولیس نے سنبھالی صورتحال*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

انتخابی ماحول کے درمیان دیوار لکھائی کو لے کر بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے کارکنوں کے درمیان زبردست بحث و تکرار کا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ ہیراپور تھانہ علاقے کے برنپور روڈ واقع ڈولی لاج کے قریب سنیچر کی صبح پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔
اطلاع ملنے پر ہیراپور تھانے کی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ آسنسول نارتھ اسمبلی سیٹ سے پارٹی امیدوار کرشنندو مکھرجی کے حق میں دیوار لکھائی کے دوران ترنمول کانگریس کے کارکنوں نے رکاوٹ ڈالی۔

دوسری جانب ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ متعلقہ دیوار پہلے سے ان کے زیر استعمال تھی اور سال 2031 تک اس کی بکنگ کی گئی ہے۔ پارٹی کے مطابق اس دیوار پر کافی عرصے سے ان کی ہی تحریری مہم چلتی آ رہی ہے، اور حال ہی میں اسے دوبارہ سفید کیا گیا تھا تاکہ امیدوار ملئے گھٹک کا نام لکھا جا سکے۔
واقعہ کی اطلاع ملنے پر آسنسول میونسپل کارپوریشن کے 52 نمبر وارڈ کی کونسلر مسومی بوس بھی موقع پر پہنچیں۔ بعد ازاں بی جے پی امیدوار کرشنندو مکھرجی بھی وہاں پہنچے، جس کے بعد دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کے درمیان گرما گرم بحث شروع ہو گئی۔
کرشنندو مکھرجی نے دعویٰ کیا کہ دیوار کے مالک کی اجازت سے ہی وہاں لکھائی کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اس دیوار پر ترنمول لکھتی تھی، لیکن اب بی جے پی کا دفتر بننے والا ہے، اسی لیے باقاعدہ اجازت لے کر لکھائی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کی شکایت الیکشن کمیشن سے بھی کی جا رہی ہے۔


ادھر ترنمول کانگریس کی کونسلر مسومی بوس نے کہا کہ یہ دیوار طویل عرصے سے ان کی پارٹی کے زیر استعمال ہے اور حال ہی میں اسے صاف کرکے دوبارہ تیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کو پورے معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور ہدایات کے مطابق آئندہ قدم اٹھایا جائے گا۔
پولیس کے مطابق دیوار لکھائی کو لے کر علاقے میں کشیدگی ضرور پیدا ہوئی تھی، تاہم دونوں فریقین کو سمجھا کر صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا ہے۔