** امریکہ و اسرائیل: عرب دنیا کی دفاعی چھتری یا ریت کی دیوار؟*
*(مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور عرب حکمرانوں کی لاچاری و بے بسی)*
ازقلم: اسماء جبین فلک
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ نے عرب دنیا، بالخصوص عرب حکمران طبقے کی اس داخلی کمزوری کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے جو برسوں سے دولت، سفارت کاری اور اسلحہ خریداری کے پردوں میں چھپی ہوئی تھی۔ اس بحران میں سب سے بڑی حقیقت یہ سامنے آئی کہ جن ریاستوں نے اپنی سیاسی بقا کے لیے امریکہ کی عسکری سرپرستی اور اسرائیل کے ساتھ خفیہ یا اعلانیہ قربت کو سلامتی کی ضمانت سمجھ لیا تھا، وہی ریاستیں جنگ کے عملی امتحان میں سب سے زیادہ اضطراب، انحصار اور بے بسی کا شکار دکھائی دیں۔ ایران کی جوابی کارروائیوں کے دائرے نے جب خلیج کی ان عرب ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا جہاں امریکی فوجی اثاثے، اڈے یا دفاعی نظام موجود تھے، تو یہ حقیقت مزید واضح ہو گئی کہ عرب حکومتوں نے اپنی سرزمین کو دوسروں کی جنگوں کے لیے ایک حفاظتی حصار میں تبدیل کر دیا ہے، مگر اس کے باوجود وہ اپنی آبادی، اپنی تنصیبات اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کی آزادانہ صلاحیت پیدا نہیں کر سکیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں یہ جنگ محض ایران اور اسرائیل یا ایران اور امریکہ کے درمیان تصادم نہیں رہتی بلکہ عرب دنیا کی ریاستی ساخت، اس کی عسکری کم مائیگی، اس کی سفارتی مصلحت پسندی اور اس کی اخلاقی کھوکھلاہٹ کے اجتماعی انکشاف میں بدل جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عرب حکمرانوں نے گزشتہ چند دہائیوں میں تیل کی دولت کو قومی خودانحصاری، سائنسی ترقی، عسکری تحقیق، سراغ رسانی کی ہم آہنگی اور آزاد دفاعی نظریے میں تبدیل کرنے کے بجائے اسے بیشتر اوقات درآمدی ہتھیاروں، شاہانہ تعمیرات اور بیرونی تحفظ کے سودوں پر صرف کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب خطہ حقیقی جنگی ماحول میں داخل ہوا تو اربوں ڈالر کے دفاعی بجٹ کے باوجود ان کی حیثیت ایک خودمختار قوت کی نہیں بلکہ ایسے خریداروں کی سی رہی جو ہتھیار تو رکھتے ہیں مگر جنگی ارادہ، عسکری آزادی اور فیصلہ کن اختیار نہیں رکھتے۔ حالیہ جنگی صورتِ حال میں متعدد خلیجی عرب ریاستوں کو ایرانی ردعمل کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی رپورٹوں میں یہ بات سامنے آئی کہ ان ریاستوں کے فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں مصروف رہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی ابھرا کہ یہ دفاع عرب وقار، عرب خودمختاری اور عرب ترجیحات کے لیے تھا یا امریکہ اور اسرائیل کے جنگی مفادات کے تحفظ کے لیے۔ اگر کسی خطے کی حکومتیں اپنے آسمان کی نگرانی بھی اس انداز میں کریں کہ اس کا اصل فائدہ غیر ملکی طاقتوں کو پہنچے اور اس کے باوجود ان کی اپنی ریاستیں خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا رہیں، تو اسے عسکری قوت نہیں بلکہ عسکری انحصار کہا جائے گا۔
یہاں سب سے زیادہ توجہ طلب امر یہ ہے کہ عرب حکمرانوں نے اپنے عوام کو طویل عرصے تک یہ تاثر دیا کہ امریکہ کے ساتھ قربت، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی استواری اور مغربی دفاعی تعاون انہیں استحکام، سلامتی اور عالمی اثرورسوخ عطا کرے گا۔ لیکن حالیہ جنگ نے اس بیانیے کی قلعی کھول دی۔ جب ایران نے خطے میں امریکی موجودگی اور اسرائیل سے وابستہ سکیورٹی ڈھانچوں کو اپنے ردعمل کے ممکنہ دائرے میں شامل کیا تو وہی عرب ریاستیں جو خود کو محفوظ، جدید اور ناقابلِ تسخیر سمجھتی تھیں، یکایک عدمِ تحفظ کی فضا میں داخل ہو گئیں۔ بعض رپورٹوں کے مطابق خلیجی ریاستوں کو براہِ راست حملوں، فضائی خطرات اور اپنی تنصیبات کے ممکنہ نشانہ بننے کے خدشات کا سامنا رہا، اور اس سے توانائی، شہری سلامتی اور علاقائی تجارت سے متعلق سنگین اندیشے پیدا ہوئے۔ اس منظرنامے نے دکھا دیا کہ امریکی چھتری دراصل ایک دو دھاری تلوار ہے جو بظاہر تحفظ دیتی ہے مگر اسی کی موجودگی عرب دنیا کو حملے کے جغرافیے میں بھی بدل دیتی ہے۔ چنانچہ عرب ریاستیں نہ مکمل طور پر جنگ سے باہر رہ سکیں، نہ اپنے مفادات کے مطابق اس کے نتائج پر اثرانداز ہو سکیں۔
یہ جنگ عرب حکمرانوں کی سفارتی مصلحت پسندی کا بھی ایک نہایت واضح ثبوت بن کر سامنے آئی۔ ایک طرف فلسطین، امن، علاقائی استحکام اور کشیدگی میں کمی کی باتیں کی جاتی رہیں، دوسری طرف انہی ریاستوں کی سکیورٹی پالیسیوں، فضائی حدود، سراغ رسانی کے تعاون اور امریکی عسکری شراکت داری نے خطے کو ایسے حالات میں دھکیل دیا جہاں ان کی اپنی خودمختاری ثانوی حیثیت اختیار کر گئی۔ بعض خبروں میں یہ بات سامنے آئی کہ خلیجی ممالک نے مشترکہ انداز میں ایرانی حملوں کی مذمت کی اور امریکی ہم آہنگی کے ساتھ دفاعی ردعمل دکھایا۔ اس سے یہ احساس گہرا ہوا کہ عرب حکومتوں کی ترجیحات میں اپنی قوموں کی آزاد پالیسی کم اور واشنگٹن کے ساتھ مطابقت زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے بارے میں بھی رپورٹ ہوا کہ اس نے تہران میں اپنا سفارتی رویہ سخت کیا اور علاقائی بحران کے بیچ زیادہ کھل کر امریکی و مغربی حفاظتی بیانیے کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا۔ اس سب نے ایک بنیادی حقیقت کو عیاں کیا کہ عرب حکمران طبقہ خطے میں امن کا دعویدار کم اور بیرونی طاقتوں کے حفاظتی ڈھانچے کا تابع زیادہ بن چکا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایران کی جارحانہ عسکری صلاحیت نے عرب حکومتوں کے اعصاب پر گہرا نفسیاتی دباؤ ڈالا۔ یہاں اس نکتے کو تحقیقی احتیاط کے ساتھ سمجھنا چاہیے کہ کسی بھی جنگ میں فریقین کے اپنے اپنے مبالغہ آمیز دعوے ہوتے ہیں، مگر حالیہ تناظر میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ ایران نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اگر اس کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں میں عرب سرزمین، اڈے یا فضائی راستے استعمال ہوں گے تو عرب تنصیبات بھی جوابی ردعمل کے دائرے سے باہر نہیں رہیں گی۔ اس پیغام کا نفسیاتی اثر خود کسی میزائل سے کم نہ تھا، کیونکہ اس نے عرب ریاستوں کے اس مصنوعی اعتماد کو توڑ دیا جو انہوں نے امریکی ٹیکنالوجی، مغربی تربیت اور اربوں ڈالر کے دفاعی سودوں کی بنیاد پر تعمیر کیا تھا۔ اگر ایک علاقائی طاقت یہ احساس پیدا کر دے کہ وہ خلیجی تنصیبات، توانائی کے مراکز اور عسکری بنیادی ڈھانچے کو عدمِ تحفظ میں مبتلا کر سکتی ہے، تو اس کا مطلب صرف مادی خطرہ نہیں بلکہ تزویراتی برتری کا دعویٰ بھی ہے۔ اسی لیے اس جنگ نے عرب حکومتوں کے وقار کو صرف سیاسی سطح پر نہیں بلکہ نفسیاتی سطح پر بھی سخت نقصان پہنچایا۔
اس پس منظر میں یہ بات بھی خاص طور پر اہم ہے کہ عرب ریاستوں کی کمزوری صرف اسلحے کی نہیں، ذہن اور ادارے کی بھی ہے۔ جنگیں محض ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ ان کے لیے آزادانہ سراغ رسانی کا نظام، تیز رفتار فیصلہ سازی، باہم مربوط کمانڈ اسٹرکچر، آزمودہ فضائی نظریہ، مقامی عسکری صنعت اور سیاسی قیادت کا اعصابی توازن درکار ہوتا ہے۔ حالیہ جنگ نے کم از کم یہ تو ضرور واضح کیا کہ خلیجی عرب ریاستوں کی مجموعی حفاظتی ساخت بڑی حد تک امریکی نگرانی، مغربی مشاورت اور بیرونی انحصار پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی بحران وسیع ہوا، ان کے پاس اپنے طور پر کوئی ایسا بیانیہ، منصوبہ یا آزادانہ اقدام دکھائی نہ دیا جس سے لگتا کہ وہ خود جنگی صورتِ حال کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی حیثیت زیادہ تر ردعمل دینے والی، دفاعی اور محتاط ریاستوں کی رہی، نہ کہ ایسے فیصلہ کن فریقوں کی جو اپنے گردوپیش کے جغرافیے کو اپنی ترجیحات کے مطابق ڈھال سکیں۔ اگر ریاستیں صرف اس امید پر زندہ رہیں کہ کوئی بڑی طاقت ان کے لیے آسمان بھی بچا لے گی اور زمین بھی، تو پھر یہ خودمختاری نہیں بلکہ آقائی و تابع داری کا رشتہ ہوتا ہے۔
یہاں ایک اہم امتیاز قائم رکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ تنقید عرب عوام پر نہیں بلکہ عرب حکمران ڈھانچوں پر ہے۔ عرب عوام کی بڑی تعداد اب بھی فلسطین کے مسئلے پر حساس ہے، بیرونی غلبے کو پسند نہیں کرتی، اور اپنے حکمرانوں کی امریکہ نوازی یا اسرائیل سے قربت کو شکوک کی نظر سے دیکھتی ہے۔ لیکن عرب حکمران طبقات کی سیاسی ساخت چونکہ زیادہ تر عوامی شرکت، جمہوری احتساب اور آزاد قومی مکالمے سے محروم رہی ہے، اس لیے وہاں قومی سلامتی بھی عوامی ارادے کے بجائے درباری مفادات، خاندانی اقتدار اور بیرونی تائید کے تابع ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں عوام مظلوموں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، وہاں حکومتیں طاقتوروں کے ساتھ اپنی مفاہمت کے راستے تلاش کرتی ہیں۔ یہی تضاد عرب دنیا کی سب سے بڑی داخلی کمزوری ہے۔ جب ریاست اور معاشرہ ایک ہی اخلاقی سمت میں نہ ہوں تو بیرونی جنگ ہر بار داخلی بے آبروئی میں بدل جاتی ہے۔
معاشی اعتبار سے بھی اس جنگ نے عرب حکمرانوں کی خام خیالی کو آشکار کیا۔ انہوں نے یہ گمان کیا تھا کہ اگر وہ مغرب کے وفادار اتحادی رہیں، تو ان کی بندرگاہیں، مالیاتی مراکز، تیل و گیس کی تنصیبات، فضائی اڈے اور بحری تجارتی راستے محفوظ رہیں گے۔ لیکن حالیہ تصادم کے نتیجے میں جہاز رانی، توانائی کے بہاؤ، مالیاتی اعصاب اور علاقائی اعتماد پر منفی اثرات کے خدشات واضح طور پر سامنے آئے، جبکہ مصر اور اردن جیسے ممالک کو بڑھتی ہوئی بے یقینی کے معاشی دباؤ کا سامنا بھی رہا۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ بیرونی طاقتوں سے قربت ہمیشہ تحفظ نہیں دیتی بلکہ کبھی کبھی وہ آپ کو دشمن کے قریب ترین ہدف میں بدل دیتی ہے۔ گویا عرب ریاستوں نے اپنے استحکام کی عمارت ایک ایسی بنیاد پر کھڑی کی جس کے نیچے بارود بھی موجود تھا اور اس بارود کی چنگاری بھی دوسروں کے ہاتھ میں تھی۔ جب چنگاری گری تو ان کے پاس سوائے اضطراب، دفاعی پریشانی اور سیاسی بے وزنی کے کچھ نہ بچا۔
اس پورے منظرنامے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عرب دنیا، جو ایک زمانے میں تہذیبی مرکز، علمی روایت اور سیاسی وزن رکھتی تھی، آج اپنی اجتماعی قوت کو ایک آزاد علاقائی نظریے میں ڈھالنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ وہ نہ مکمل طور پر امریکہ سے الگ ہو سکتی ہے، نہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے سیاسی بوجھ سے آزاد ہو سکتی ہے، نہ ایران کے مقابلے میں ایک خودمختار توازن پیدا کر سکتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ ہر بحران میں دوسروں کے فیصلوں کا میدان بن جاتی ہے۔ حالیہ جنگ نے یہ حقیقت نہایت تلخ انداز میں واضح کی کہ عرب حکمرانوں نے اپنی ریاستوں کو عسکری طاقت کا مظہر ضرور دکھایا، مگر عملی طور پر وہ انحصار، خوف اور ردعمل کی سیاست سے آگے نہ بڑھ سکے۔ جن حکومتوں نے اپنے عوام کو یہ باور کرایا کہ وہ جدیدیت، دولت اور دفاعی تیاری کے ذریعے ناقابلِ تسخیر ہو چکی ہیں، وہی حکومتیں ایران کے جوابی دائرے کے تصور سے لرزتی دکھائی دیں، اور ان کی ساری طاقت ایک بیرونی بچاؤ کے انتظار میں سمٹتی محسوس ہوئی۔
اس لیے اس پورے بحران کا سب سے متوازن مگر سخت نتیجہ یہی ہے کہ حالیہ ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ نے عرب دنیا کے حقیقی مسئلے کو بے نقاب کر دیا کہ مسئلہ صرف دشمن کی طاقت نہیں، خود اپنی ساخت کی کمزوری بھی ہے۔ جب ریاستیں اپنی سلامتی دوسروں کے حوالے کر دیں، اپنی عسکری آزادی خریدی ہوئی ٹیکنالوجی کے سپرد کر دیں، اپنی سفارت کاری کو واشنگٹن کی منظوری سے مشروط کر دیں، اور اپنی اخلاقی حیثیت کو اسرائیل کے ساتھ مفاہمت کے نام پر مجروح کر دیں، تو پھر جنگ کے لمحے میں ان کی عزت، خودمختاری اور وقار لازماً سوالوں کی زد میں آتے ہیں۔ حالیہ بحران نے دکھا دیا کہ عرب حکمرانوں کا سارا اعتماد امریکی و اسرائیلی حفاظتی چھتری پر تھا، مگر یہ چھتری انہیں خوف، خطرے اور ہدف بننے کے احساس سے مکمل طور پر نہ بچا سکی۔ چنانچہ اس جنگ کا اصل سبق یہ ہے کہ جو خطہ اپنی سلامتی کرائے پر لے، وہ اپنے وقار کو بھی کرائے پر دے دیتا ہے اور جب بحران آتا ہے تو اس کے محلات، اڈے، تنصیبات اور سفارتی دعوے سب ایک ساتھ لرزنے لگتے ہیں۔ بھارت اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی اس میں کئی اسباق موجود ہیں۔ عرب دنیا کی نجات اسی وقت ممکن ہے جب وہ حکمرانانہ مصلحت پسندی، بیرونی انحصار، کھوکھلی عسکری نمائش اور اخلاقی دوغلے پن سے نجات پا کر ایک واقعی خودمختار، عوام پر مبنی اور داخلی طور پر مضبوط ریاستی تصور کی طرف بڑھے ورنہ ہر نئی جنگ اس کے زخموں کو اور گہرا، اس کے وقار کو اور پست، اور اس کی بے بسی کو اور نمایاں کرتی رہے گی۔








